سن پینسٹھ کی جنگ ہوئی۔صدر جرنل ایوب کی تقریر کے الفاظ۔دشمن نہیں جانتا ، کس قوم کو للکارا ہے۔ نے جذبہ ایمانی میں بجلی بھر دی۔پھرجنگ بندی کا معاہدہ تاشقند ہوا۔وزیر خارجہ بھٹو نے یہ تاثر دیتے ہوئے کہ میدان میں جیتی ہوئی جنگ ،مذکرات کی میز پر ہار دی گئی ہے، مخالفت کی اور راتوں رات قوم کی نظر میں ہیرو بن گئے۔سڑکوں پر آئے، گرفتار ہوئے ،جیل کاٹی، ہر طرف ایک ہی نعرہ تھا۔ بھٹو آگیا میدان میں۔ہے جمالو۔نہ ہمارا ووٹ تھا نہ سیاست کی سمجھ مگر ہم بھی لڈی ڈالنے والوں میں شامل ہواکرتے تھے۔ اس دور میں صاحبزادہ فاروق، ملک مختار اعوان، ایم اے گوہیر،سید ناظم شاہ، منتظر مہدی ، بابا انڈونیشیا والے ، ملتان میں پی پی کے بڑے نام ہوا کرتے تھے۔ قریشی اور گیلانی بہت بعد میں پی پی پی کا حصہ بنے۔ ستر کی انتخابی مہم کے دوران بھٹو ملتان آئے ،نواں شہر چوک پر زینتھ سنیما کے باہر بنے اونچے سٹیج پر ،ہم کئی لڑکے ،بھٹو اور مرکزی رہنماﺅں کی موجودگی میں کھڑے رہے۔ نہ کوئی سیکیورٹی چیک نہ کوئی خوف۔ بھٹو کو قریب اور غور سے دیکھا۔ دل موہ لینے والی شخصیت۔ میں نے۔ لا فتح الا علی ۔لا سیف الا ذوالفقار ۔جیسے مصرعے کی مکمل فہم نہ رکھنے کے باوجود سٹیج کے مائک پر جا کر نعرہ لگا دیا ۔الیکشن ہوا،بڑے بڑے سیاسی برج الٹ گئے اور پی پی پی کے انتخابی نشان تلوار پر الیکشن لڑنے والے غیر معروف امیدواروں نے میدان مار لیا پھر سقوط ڈھاکہ ہو گیا اور جتنا پاکستان بچا اس میں بھٹو کی حکومت قائم ہو گئی۔ بھٹو حکومت چلی، اچھے کام بھی کیئے۔عوامی توقعات زیادہ تھیں۔مخالفین نے خوب ایکسپلایئٹ کیا۔بھٹو کی خود اعتمادی نے وقت سے پہلے الیکشن کرا دیئے۔ پھردھاندلی کا شور۔بھٹو کے خلاف ملا ملٹری گٹھ جوڑ۔ مارشل لاءکا نفاذ اورانجام بھٹو کی پھانسی ۔ایک تاریک دور کا آغاز۔ بھٹو شہید قرار پائے ۔قید، کوڑے،خود سوزیاں ۔کتنے ہی لوگ جمہوریت کے نام پر تاریک راہوں میں مارے گئے اور اقتدار تب سے لے کر اب تک ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے گملوں میں پنپنے والی نرسری کے خود ساختہ جمہوریت پسندوں کے ہاتھ میں رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو شہید کی جدوجہد اور حکمرانی کا دور تو کل کی بات ہے۔بے نظیر کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کی سیاست میں بھرپور انٹری، لاڑکانہ کے شہیدوں کے نام پر، پارٹی قیادت، حکومت اور صدارت۔ سب کچھ ملا۔ نہیں ملے تو بے نظیر شہید کے قاتل نہیں ملے۔ہاں۔بلاول کو ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو شہید کی نسبت اوران کا نام بھٹو مل گیا۔ بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے محبت کرنے والوں کو بلاول کی شکل میں اپنے دونوں شہید لیڈر دکھائی دیتے ہیں ۔وہ لیڈر جنہیں عوام سے محبت تھی اور ان کے چاہنے والے آج بھی اپنے شہید لیڈروں سے محبت کا دم بھرتے ہیں۔پاکستان میں قائد اعظمؒ کے مزار کے بعد اگر عوام عقیدت و محبت سے کسی سیاسی شخصیت کے مزار پر جاتے ہیں تو وہ گڑھی خدا بخش میں بھٹوز کے مزار ہیں۔بلاول ، اپنے عظیم شہید نانا اور والدہ کے نام کی لیگیسی لیئے ملتان آرہے ہیں۔ سخت سیکیورٹی کا حصار ہے۔ میرا خیال ہے کہ عوام سے کئی سو فٹ دور بلند سٹیج پر بیٹھے بلاول میں ،ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو شہید کی ایک جھلک دیکھنے لوگ ضرور آئیں گے،پھرخیال آتا ہے کیا بلاول بھی اپنے نانا اور والدہ کے نقشے قدم پر چلنے کا حوصلہ اور صلاحیت رکھتے ہیں؟کیا بلاول کے ساتھ بھٹو کی سوچ، بھٹو کا فلسفہ، بھٹو کا نظریہ بھی ملتان آیا ہے یا پھر یہ صرف ایک بڑا سیاسی جلسہ ہو گا؟اور بس۔
بدھ, جون 3, 2026
تازہ خبریں:
- قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم
- طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک
- علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار
- دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی
- ایران نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی تردید کر دی
- لبنان میں اسرائیل کے عزائم کیا ہیں؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- لبنان کے تاریخی قلعے پر اسرائیلی قبضہ : فرانس نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا
- فرانس میں چیمپیئنز لیگ کے جشن کے بعد ہنگامے، 400 سے زیادہ افراد گرفتار
- امن معاہدہ تو تیار ، صرف سرنامے پر ’اختلاف‘ ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تم جیو ہزاروں سال : پاکستان نے ہزارویں میچ میں آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے ہرا دیا

