شاہد راحیل خانکالملکھاری

فضل الرحمان ، راگ درباری اور ہلکی پھلکی موسیقی ۔۔ شاہد راحیل خان

مولانا فضل الرحمان ،گزشتہ الیکشن میں ہارنے کے بعد سے بہت بھنائے ہوئے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ وہ الیکشن ہارے نہیں ،ہرائے گئے ہیں۔وہ ایک مذہبی اور سیاسی ملغوبے پرمبنی جماعت کے اسی طرح تا حیات سربراہ بھی ہیں ، جس طرح دیگر سیاسی جماعتوں کے تا حیات سربراہ ۔۔بادشاہ کا بیٹا بادشاہ۔۔اس وقت تک ،جب تک اس کے اپنے بھائی اس سے یہ منصب چھین نہ لیں۔
خیر۔مولانا نے دو دن پہلے ایک بیان دیا کہ اب اس امانت کا راز فاش کرنے کا وقت آگیا ہے ، جو انہیں دھرنا ختم کرنے کے لیئے دی گئی تھی۔ایسا ہی ایک راز جس نے تاشقند معاہدہ میں بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور پاکستانی فیلڈ مارشل صدر ایوب خان، کے مابین ہونے والی ملاقات میں جنم لیا تھا،کے افشاءکے وعدے نے ذوالفقار علی بھٹو کو سیاست میں جو رفعت بخشی ، وہ آج تک کسی پاکستانی سیاست دان کو نصیب نہیں ہوئی ۔ مولانا نے جب دھرنے کی صورت میں اسلام آباد پر چڑھائی کی تھی تو عام خیال یہ تھا کہ مولاناکو امانت علی، سلامت علی کی حمایت حاصل ہے۔ مگر مولاناکے دھرنے کے ساتھ کچھ ایسا سلوک ہوا کہ ۔۔”’کھیر پکائی جتن سے ، چرخا دیا جلا۔۔آیا کتا کھا گیا ، تو بیٹھی ڈھول بجا۔۔“
امانت علی ،سلامت علی بر صغیر میں موسیقی کے بہت بڑے نام ہیں۔ایسے نام جو فن موسیقی کے ساتوں سروں پر عبور رکھتے تھے۔پاکستانی سیاست میں چوہدری گھرانہ ایک ایسا گھرانہ ہے جو پاکستانی سیاست کے تمام سروں کا مکمل شعور رکھتا ہے۔بے ہنگم سر نہیں لگاتا، بلکہ ہر سر کا بر محل استعمال کرتا ہے۔ اس سیاسی استاد گھرانے کے سر خیل چوہدری شجاعت گو کہ کبھی کبھار سہانے موسم میں راگ ملہار بھی گنگنا لیتے ہیں، مگر راگ درباری ان کا پسندیدہ راگ ہے،جس پر وہ مکمل مہارت رکھتے ہیں۔ اسی لیئے مولانا کے اس اعلان کے ساتھ ہی۔ کہ اب وقت آگیا ہے۔کہ امانت کا راز فاش کر دیا جائے ۔اور قوم کو بتایا جائے کہ امانت کس نے دی تھی۔پاکستانی سیاست کے سر شناس چوہدری شجاعت کو احساس ہو گیا کہ مولانا اب غلط سر لگا رہے ہیں۔جس سے اقتدار کی ساری راگنی بے سر ہی نہیں بے تال بھی ہو جانے کو خدشہ پیدا ہو جائے گا ۔
چنانچہ چوہدری شجاعت صاحب نے فوری طور پر فون اٹھایا اور مولانا فضل الرحمان سے گزارش کی کہ ابھی ہلکی پھلکی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔امانت علی، سلامت علی پر پھر بات کر لیں گے۔یہ کام چھوٹے چوہدری صاحب پرویز الہیٰ سے بھی لیا جا سکتاتھا مگر امانت علی،سلامت علی جانتے ہیں کہ چھوٹے چوہدری صاحب کبھی کبھی کچا سر لگا کر بد مزہ بھی کر دیتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی موسیقی میں چوہدری گھرانے کی مہارت کو سب مانتے ہیں۔اور اعتراف کرتے ہیں کے کون سا سیاسی سر کب ، کہاں اور کیسے لگانا ہے ، اس فن میں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہاں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک اور گھرانہ جو شوقیہ فنکار کے طور پر پاکستانی سیاست میں وارد ہوا تھا۔ان کے کومل سر وں کا امانت علی،سلامت علی سے کچھ ایسا تال میل ہوا ، کہ پاکستانی سیاست میں ایک عرصہ تک ”’تال سے تال ملا“‘والاگیت قومی نغمے کی طرح گونجتا رہا ۔امانت علی، سلامت علی بلاشبہ فن موسیقی کابہت بڑا نام ہیں اور بار بار”’تال سے تال ملا“‘ کی دہائی دینے کے باوجود جب شوقیہ فنکاربے تال ہی نہیں بے سرے بھی ہوگئے تو شاید عالم بالا ہی سے آنے والے پیغام کی بدولت شوقیہ فنکاروں سے باجے اور طبلے واپس لے کر نئے فنکاروں کو اسی طرح موقع دیاگیا جیسے فلم چکوری کے پہلے ہیرو مصطفی کے نخرے دکھانے پر ہدایت کار احتشام نے صرف ایک گیت گانے کے لیئے آنے والے گلوکار نذیر بیگ کو محض دلیپ کمار کاکچھ کچھ ہمشکل ہونے اور ہو بہو نقل کرنے کی بناءپر ندیم بنا کر فلم چکوری کا ہیرو بنا دیا تھا۔اب عام سی کہانی پر مشتمل فلم چکوری ہٹ اور ندیم سپر ہٹ ہو گیا تو یہ ندیم اور احتشام دونوں کے اچھے نصیب تھے۔
ہمارے ہدایت کاروں کو بھی کوئی نیا سکرپٹ تو میسر نہ آسکا۔اسی پرانے سکرپٹ کی نوک پلک درست کر کے بنائی جانے والی نئی سیاسی فلم کاصرف نیا ہیرو جس نے کبھی کسی فلم میں ایکسٹرا کے طور بھی کام نہیں کیا تھا، ہی نہیں ، فلم کی پوری کاسٹ ہی فلاپ دکھائی دے رہی ہے۔ممکن ہے چوہدری شجاعت اپنے تجربے کی بنیاد پر ، امانت علی، سلامت علی سے مشورے کے بعد کچھ ایسے گیت اس فلاپ فلم میں ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں ،جو ہٹ ہو کر فلم کو مکمل فلاپ ہونے سے بچا لیں۔اور اس پر مہر تصدیق ثبت ہو جائے کہ فنکار خود نہیں بولتا۔اس کا فن بولتا ہے۔””میں نی بولدی۔۔میرے اچ میرایار بولدا۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker