شاہد راحیل خانکالملکھاری

دے جا سخیا ” راہےخدا “ ۔۔ شاہد راحیل خان

بچپن میں ہماری گلی سے ایک اندھا فقیر گزرا کرتا تھا، جس کے آگے آگے ایک نو عمر میلا کچیلاسا لڑکا ہوتا تھا، اندھا فقیر ایک ہاتھ لڑکے کے کاندھے پر رکھے اور دوسرے ہاتھ میں سوٹی پکڑے آہستہ آہستہ چلتا ہوا صدا بلند کرتا جاتا تھا۔”’دے جا سخیا ،راہے خدا ،تیرا للہ ہی بوٹا لاوے گا“‘۔ اس کے بعد سکول میں جب اردو کی کلاس کے ٹیچرمیر درد کی غزل کے ایک شعر ”فقیرانہ آئے، صدا کر چلے۔۔میاں خوش رہو ،ہم دعا کر چلے“ کی تشریح کرواتے تو ہمیں پھر وہی اندھا فقیر یاد آنے لگتا۔اس طرح ایک فقیرانہ صدا ، خواہ وہ اندھے فقیر کی تھی یا ایک شاعر کی۔ہماری یاداشت میں ہمیشہ کے لیئے محفوظ ہو کر رہ گئی۔
لفظ چندہ سے ہماری شناسائی مسجد میں رکھے ہوئے اس بکس کی معرفت ہوئی جس پر تالا پڑا ہوا ہوتا تھا اور سرخ روشنائی سے جلی حروف میں لکھا ہوا ہوتا تھا”’مسجد کا چندہ اس میں ڈالیئے۔ بحکم مسجد انتظامیہ“۔یوں ہمیں چندہ کا اصلی مطلب سمجھ میں آیا ورنہ ہم تو اپنے آپ کو ”چندہ“ سمجھتے تھے کہ والدہ صاحبہ جب کچھ زیادہ پیار کے موڈ میں ہوتیں تو ہماری کسی بے جا ضد کے باوجود پیار سے”’آجامیرے چندہ۔آجا“۔کہہ کر بلایا کرتی تھیں۔خواتین کو کڑھائی سلائی سکھانے والی ایک فلاحی تنظیم ہوا کرتی تھی۔”’اپوا“‘جو بیگم رعنا لیاقت علی خان ( سابق وزیر اعظم اور شہید ملت کی بیوہ)کی سربراہی میں فعال ہوا کرتی تھی ۔یہ تنظیم غریب اور بے سہارا بچیوں کی شادی کے انتظامات بھی کیا کرتی تھی۔اس کی کارکن بھی کبھی کبھار مخیر حضرات سے چندے کی اپیل کیا کرتی تھیں۔یہ تھا چندے کا عوامی پس منظر۔
سرکار کی طرف سے چندے کی دہائی ہم نے پہلی بار ایوبی دور میں سن پینسٹھ کی جنگ کے دوران سنی۔اس وقت سرکا رکی طرف سے ایک نعرہ سامنے آیا”’ایک پیسہ۔ایک ٹینک“‘۔اس وقت پاکستان کی کل آبادی (مغربی و مشرقی پاکستان دونوں کو ملا کر) دس کروڑ بتائی جاتی تھی ، اور ایک روپے میں ایک سو پیسے ہوتے تھے، جنہیں ٹیڈی پیسے کہا جاتا تھا۔ اس طرح قوم کو یہ پیغام دیا جاتا تھا کہ اگر قوم کاہر فرد ایک ٹیڈی پیسہ بھی چندہ دے تو اس سے بھارت کے دانت کھٹے کرنے کے لیئے ایک ٹینک خریدا جا سکتا ہے۔قوم کی طرح ہم بھی لڑکپن کے دور میں ہی چندے کی افادیت کے قائل ہو گئے تھے۔
اس کے بعد کے ادوار میں ، ہمیں نہیں یاد کہ کسی حکومت کو سرکاری سطح پر چندے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔بڑی مدت کے بعدمیاں نواز شریف نوے کی دہائی میں ”’قرض اتارو۔ملک سنوارو“‘کی سرکاری فقیرانہ صدا لگا کر قوم کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کسی کامیاب فلم کے کھڑکی توڑ ہفتے کی طرح کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔اسی زمانے میں ہمارے موجودہ وزیر اعظم عمران خان بھی،اپنی پرسنلیٹی کیش کرواکر چندہ اکٹھا کرنے کی مہم میں مصروف تھے۔پاکستانی عوام نے سرکاری اور غیر سرکاری دونوں فقیرانہ صداﺅں کی لاج رکھی۔اور دونوں کی جھولیاں بھر دیں۔ایک نے تو کینسر ہسپتال بنا دیا ۔مگر دوسرا، ابن انشاءکا یہ شعر ”’جس جھولی میں سو چھید ہوئے۔ اس جھولی کاپھیلانا کیا“‘گنگناتا ہوا ،جھولی سمیٹ گر اور گدڑی لپیٹ کر جدہ جا بسا۔اب ملک کی عنان اقتدار عمران خان کے ہاتھ میں ہے، اور کہتے ہیں کہ ان کی جھولی میں کوئی چھید تو نہیں۔مگر ان کے مصاحبین کی جھولیوں ہی نہیں ،نیتوں میں بھی بڑے بڑے سوراخ ہیں۔
یہ بھی کہتے ہیں کہ، مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جا سکتا۔مگر پاکستانی عوام تو بار بار ڈسے جا رہے ہیں۔تو ثابت یہ ہوا کہ ہم گنہگار لوگ مومن کی تعریف پر پورے ہی نہیں اترتے۔خیر۔ اس جملہ معترضہ کے بعد عرض یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان فقیرانہ صدا لگا کر جھولی پھیلانے میں خاصا وسیع اور کامیاب تجربہ رکھتے ہیں۔چنانچہ انہوں اقتدار سنبھالتے ہی اپنے تجربے کو بروئے کار لانا شروع کر دیاتھا۔بیرون ملک ”میرے پاکستانیو“ کی صدا بے نوا بلکہ صدا بصحرا ثابت ہونے پر ”’ڈیم بناﺅ۔ملک بچاﺅ“کے تجربے میں سنا ہے دس ارب روپے (دروغ بر گردن راوی)اکھٹے کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ”قرض اتارو۔ ملک سنوارو“کی طرح”ڈیم بناﺅ۔ملک بچاﺅ“کی فقیرانہ صداﺅں کے نتیجے میں جمع ہونے والا مال کہاں ہے؟ کوئی جانتا ہو تو قوم کو ضرور بتائے۔اب کرونا سے ڈرنا نہیں۔ لڑنا ہے،کا عزم صمیم لیئے ، وزیر اعظم عمران خان نے ایک اور اکاﺅنٹ برائے چندہ کھول کر سرکاری فقیرانہ صدا بلند کر دی ہے۔ ”’دے جا سخیا راہے خدا ۔تیرا اللہ ہی بوٹا لاوے گا“‘اور اس میں پھر”میرے (ملکی و غیر ملکی) پاکستانیو“کو چندہ جمع کرانے کی اپیل اسی انداز میں کی ہے جیسے مسجد کے چندے والے بکس پر چندے کی اپیل کے آخر میں لکھا ہوا ہوتا ہے”’بحکم مسجد انتظامیہ “‘۔۔ جبکہ میرے غیر ملکی بھائی بہن تو اس وقت خود ہم سے زیادہ مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker