عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو پکڑا گیا رگڑا گیا اور چھوڑ دیا گیا۔ اس سے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکے یا نہیں مگر غیر مطلوبہ نتائج بہت دلچسپ اور سنسنی خیز رہے۔ ایک خوبرو خوش شکل بزعم خود عقلمند و دانا چرب زبان شہباز گل نامی مشیر خاص کی "دھاڑ وو” "دھاڑ وو”کرتے ہوئے بے بسی کے مناظر کئی روز کئی بار دیکھنے کو ملے۔
سابق وزیراعظم دہائی دیتے رہے تشدد تشدد تشدد۔۔۔۔موجودہ صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق نو تشدد۔۔
مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ماتحت فورسز اڈیالہ جیل کے باہر دو متحارب ممالک کی فوج کے جانباز سپاہیوں کی طرح اپنی اپنی "سرحد”کی حفاظت کے لئے صف آرا ہو گئیں۔جوش جذبات سے مغلوب عمران خان نے جوش خطابت میں ماتحت عدلیہ کے خلاف "گستاخی” کا مرتکب ہو کر دہشت گردی کا الزام اپنے سر لے لیا۔سارے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو پہلے شہباز گل کی "خیریت مطلوب” رہی اور پھر عمران خان کی انا ضد ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کی آزادی کو لاحق خطرات کی فکر نے میڈیا کے دانشوروں کو پریشانی میں مبتلا کئے رکھا اور ٹی وی کے ناظرین بلکہ شائقین سرکس میں تنے ہوئے رسے پر ہاتھوں میں بانس پکڑ کر چلتے ہوئے توازن برقرار رکھنے والے شخص کی طرح اپنا ذہنی توازن برقرار رکھنے میں کوشاں رہے۔
عمران خان کی حکومت کے آتے ہی شہباز گل شہزاد اکبر اور کئی دیگر افراد کسی اچانک آنے والی وبا کی صورت ٹی وی سکرینوں پر جلوہ نما ہو کر عمران خان کی حکومت کے ترجمان اور مشیران کی صورت میں سامنے آئے۔ جنھیں دیکھ کر عوام تو کیا خود پی ٹی آئی کے خواص بھی حیران و ششدر رہ گئے کہ "جب آئے گا عمران” کا گیت کورس کی صورت میں گانے والوں کے لئے جب عمران آیا تو کیا "تحفے”لایا۔
شہباز گل کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں حاضر سروس پروفیسر تھے مگر کسی ریٹائرڈ پروفیسر کی طرح ان کے دل میں اپنی ماں دھرتی کے خستہ حال عوام کی خدمت کا جذبہ بیدار ہوا اور وہ عمران خان کی زیرِ قیادت اپنے جذبہ خدمت کی تسکین کے لئے ماں دھرتی کی گود میں واپس آ گئے۔وہ نہیں جانتے تھے پاکستان میں حاضر سروس کی سروس پر نظام چلتا اور کام بنتا ہے۔
ہمیں شہباز گل کی نیت اور خلوص پر شک کرنے کا کوئی حق نہیں کہ "سودائی” جب شہر سے اکتانے لگے تو وہ صحرا اور ویرانے کا رخ کرتا ہے۔
شہباز گل پر فوجی جوانوں کو بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا اور اسے گرفتار کرنے والوں کا مقصد و ہدف شہباز گل کو ایسا کرنے پر ” اکسانے” والے تک رسائی حاصل کرنا تھی۔یہ ہدف شہباز گل پر مبینہ تشدد کرنے والے حاصل کر سکے یا نہیں؟ یا یہ "اہداف”حاصل کر کے حکومتی و ریاستی ضرورت کے تحت کسی آئیندہ مناسب وقت اور ضرورت پر استعمال کرنے کے لئے محفوظ کر لئے گئے ہیں؟ مگر الزام لگانے والے معزز عدالت سے اس الزام کی توثیق نہیں کروا سکے۔پاکستان میں ریاست حکومت اور عدالت سب کے الگ الگ اہداف ہیں۔
شہباز گل تو ضمانت پر رہائی کے بعد بنی گالہ جا کر کپتان کی خدمت میں حاضری دینے کی بجائے لاہور اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے روانہ ہو گئے ہیں رہائی کے بعد ان کی خاموشی کہیں کسی طوفان کا پیش خیمہ نہ ہو۔شہباز گل کی گرفتاری مبینہ تشدد اور ان پر لگائے گئے الزامات کے زلزلے کے آفٹر شاکس کپتان اور پی ٹی آئی اب تک بھگت رہی ہے۔
اسلام آباد کی عدالتوں میں رونق لگی ہوئی ہے۔کپتان لاؤ لشکر کے ساتھ عدالت میں تاریخ بھگتنے آتے ہیں۔ایک طرف دہشت گردی کی عدالت ہے جو ماتحت عدالت کے زمرے میں آتی ہے تو دوسری طرف ماتحت عدالت کی توہین کا کیس اعلٰی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ممنکہ فیصلے یا نتیجے کے بارے میں بات کرنا یا رائے دینا درست نہیں ہوتا۔فیصلہ عدالتوں نے قانون اور شواہد کی بنیاد پر کرنا ہے۔۔اگر الزام لگانے والے عدالتوں کو مطمئین کر کے اپنے لگائے گئے الزامات ثابت نہ کرے سکے تو ممکنہ نتیجہ ملزم کی ضمانت کی منظوری یا کیس کے اخراج کی صورت میں مقدمات سے بریت کی صورت نکلنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
کئی سال پہلے ریلیز ہونے والی ” بول”نامی فلم میں ایک سوالیہ مکالمہ تھآ ” اگر پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو”؟۔۔۔شہباز گل کو ملنے والی ضمانت کہہ رہی ہے۔۔” الزام ثابت نہیں کر سکتے تو لگاتے کیوں ہو”.
فیس بک کمینٹ

