شاکر حسین شاکرکالملکھاری

جاوید ہاشمی کے گھر تالا لیکن زبان پر نہیں(1) کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

قارئین کرام آپ کالم کا عنوان پڑھ کر سوچ رہیں ہوں گے جاوید ہاشمی کے گھر تالا کیوں لگا ہے؟ کہیں وہ بیرونِ ملک تو نہیں چلے گئے۔ پھر خیال آیا وہ بیرونِ ملک تو تب بھی نہیں گئے جب میاں صاحبان این آر او کے تحت سعودی عرب چلے گئے اور ہاشمی صاحب پاکستان میں رہے۔ پھر شیخ رشید احمد کی دھمکی کے بعد مشرف حکومت میں انہوں نے طویل قید کاٹی۔ جیل کی سختیاں جھیلیں۔ آمر کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ قید و بند کی صعوبتوں کو خوشی خوشی قبول کیا اور پھر ان کے نواز شریف سے اختلافات ہوئے۔ جب پیڑ پر ثمر آنے کا موسم ہوا تو وہ تحریکِ انصاف میں چلے گئے۔ 1964ءمیں اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والے جاوید ہاشمی طویل بیماری اور اپنے دوستوں کی بے وفائیوں کے باوجود ہم عصر سیاست دانوں کا ایک اہم نام ہیں۔ملتان کینٹ سے قاسم روڈ پر جا کر ملتان ایئرپورٹ والے چوک کا ایک کارنر جاوید ہاشمی کے لئے مختص ہوا کرتا تھا۔ اسی کارنر والے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے مَیں اپنے گھر سے آتا ہوں یا رات گئے واپسی ہوا کرتی ہے۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں۔ بس ہفتہ دس دن ہوئے ہیں کہ ایک رات کو معمول کے مطابق جاوید ہاشمی کے گھر کے مرکزی گیٹ پر نظر پڑی۔ تالا لگا ہوا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے رکا، پریشان ہوا، پھر یاد آیا کہ شہر کے کسی دوست نے بتایا تھا کہ جاوید ہاشمی آج کل اپنے گھر کو فروخت کر رہے ہیں کیونکہ ان کی رہائش کینٹ کے علاقے میں تھی۔ چیک پوسٹ سے گزر کر لوگ ان سے ملنے کو آتے۔ ان کو پریس کانفرنس کرنا ہوتی تو ٹی وی چینل کی ڈی ایس این جی کو ان کے گھر آنے کی اجازت نہ ملتی۔ جاوید ہاشمی چیک پوسٹ کی مسلسل اذیت پر ناراض بھی ہوتے لیکن ہمیشہ بے بس دیکھے گئے۔ گزشتہ دنوں انہوں اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی کی اور اپنا کینٹ والا وسیع و عریض گھر فروخت کر دیا۔ جب ان سے ہم نے ذاتی طور پر اس خبر کی تصدیق کی تو کہنے لگے مَیں نے کینٹ والا گھر فروخت کر کے ملتان کینٹ کی ایک اور مہنگی کالونی میں گھر لے لیا ہے۔ یعنی
ا ک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
مَیں ایک دریا کے پار اترا تو مَیں نے دیکھا
یعنی اب بھی جاوید ہاشمی سے ملنے کے لیے چیک پوسٹ کی ”ریاضت“ کرنا ہو گی۔ پہلے ان کے گھر جانے کے لیے ایک چیک پوسٹ ہوتی تھی اب دوسری چیک پوسٹ اس کالونی کی بھی پار کرنا ہو گی جو کالونی کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے۔ یوں جاوید ہاشمی اب بہت ہی محفوظ ہاتھوں میں چلے گئے۔
یہ سب باتیں چل رہی تھیں کہ ہماری ان سے ملاقات ایک شادی پر ہو گئی۔ اس شادی پر صرف دو ہی سیاست دان سٹیج پر براجمان تھے ایک کا ذکر تو آپ پڑھ رہے ہیں جبکہ دوسرے شاہ محمود قریشی تھے۔ دونوں نے کھانا اکٹھے کھایا۔ خوشگوار ماحول میں گپ شپ کی۔ شادی کے مہمانوں سے ملتے ہوئے اکٹھے ہی پنڈال سے رخصت ہو گئے۔ اُسی شادی میں ہم نے دریافت کیا نئے گھر میں کب منتقل ہوئے تو کہنے لگے آج مَیں نے شہر کے صحافیوں کو نئے گھر کی زیارت کے لیے بلایا تھا۔ آپ اور جبار مفتی غیر حاضر تھے۔ جبار مفتی اور مَیں نے اکٹھے جواب دیا ہمیں تو کسی نے اطلاع نہیں کی۔ معلوم یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے نئے گھر میں جو پہلی پریس کانفرنس کی وہ اتنی دھواں دھار تھی کہ ہمسائے ایک دوسرے سے پوچھتے رہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
انہوں نے پرانے گھر کو تالا لگایا اور نئے گھر میں جاتے ہی سیاسی زبان کے وہ جوہر دکھائے کہ اس کی دھمک چوہدری نثار علی خان کے حلقے تک گئی۔ انہوں نے کہا مریم نواز قوم کی بیٹی ہے جس نے مشکل حالات میں پارٹی کو سنبھالا دیا۔ چوہدری نثار علی خان کے بارے میں کہا میرے مسلم لیگ ن میں تعلقات بگاڑنے میں وہ ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ جب مَیں مسلم لیگ ن کا قائم مقام صدر بنا تو سب سے مجھے تسلیم کیا سوائے چوہدری نثار کے۔ وہ میرا بطور صدر مذاق اڑاتے تھے لیکن مَیں اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔ چوہدری نثار مسلم لیگ کو بند گلی میں لے جا رہے ہیں۔ یہ وہ شخص ہے جو ہر دور میں اربوں روپے کے فنڈ لیتا رہا اور پھر انہوں نے اُسی پریس کانفرنس میں کہا مسلم لیگ میں میری مخالفت کرنے والے سن لیں مجھے مرکزی قیادت نے اُسی حلقے کا پارٹی ٹکٹ دے دیا ہے جہاں سے مَیں ایم این اے منتخب ہوتا رہا ہوں۔ یاد رہے یہ وہی حلقہ انتخاب ہے جہاں سے مسلم لیگ ن کی طرف سے سابق ایم این اے طارق رشید اور گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ کے بیٹے ملک محمد آصف رجوانہ بھی قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔ شیخ طارق کبھی بھی ان کے نیچے صوبائی اسمبلی پر نہیں آئیں گے البتہ آصف رجوانہ کو پارٹی قیادت کہہ دے تو وہ جاوید ہاشمی کے ساتھ مل کر انتخابی ماحول بنا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت آصف رجوانہ آنے والے انتخابات کی وجہ سے خوب سرگرم ہیں۔ عامر ڈوگر پی ٹی آئی کی طرف سے اُمیدوار ہوں گے کہ وہ اس وقت ایم این اے ہیں۔ اگر انہوں نے اپنے ساتھ صوبائی اسمبلی کے لیے اچھے اُمیدواروں کا انتخاب کر لیا تو وہ آسانی سے اپنی نشست بچا لیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر تحریکِ انصاف کے اندرونی اختلافات نے ان کے اپنے اُمیدواروں کو نقصان نہ پہنچایا۔ (جاری ہے)
(بشکریہ :  روزنامہ  ایکسپریس )
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker