شاکر حسین شاکرکالملکھاری

جب صدر ممنون حسین نے سیاہ پٹی باندھ کر تقریر کی(1): کہتا ہوں سچ/ شاکر حسین شاکر

یہ بات اپریل کی ایک روشن اور ٹھنڈی صبح کی ہے جب اسلام آباد کی فضاؤں میں بادلوں نے چھاؤں کر رکھی تھی۔ اسلام آباد کے پاک چائنا فرینڈ شپ سینٹر کے باہر پاکستان اور پاکستان سے باہر آنے والے نامور اہلِ قلم اپنے موبائل جمع کروا کر ان سے ٹوکن وصول کر رہے تھے کہ نواں سالانہ قومی کتاب میلہ شروع ہونے میں کچھ لمحات ہی باقی تھے۔ پاک چائنا فرینڈ شپ سنٹر کے مرکزی ہال میں ادیب، شاعر، صحافی اور کالم نگار ایک دوسرے سے یوں مل رہے تھے جیسے برسوں کے بچھڑے ساتھی ملتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں سٹیج سے اعلان ہوتا ہے کہ معزز مہمانانِ گرامی اپنی اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں کہ چند لمحوں میں تقریب کے صدر محفل صدر مملکت ممنون حسین آیا چاہتے ہیں۔ جیسے ہی کتابوں کے سفیر اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوئے تو نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اہلکار اپنے ہاتھوں میں سینکڑوں سیاہ پٹیاں لے کر آئے اور شرکاءمیں تقسیم کرنے لگے۔ جیسے ہی وہ سیاہ پٹی مجھے ملی تو مَیں نے سیّد عقیل عباس جعفری سے کہا آپ سیّد بادشاہ ہیں سفر بھی بہت کرتے ہیں اور سفر سے پہلے امام ضامن بھی باندھتے ہوں گے تو آپ یہ سیاہ پٹی مجھے باندھ دیں۔ معلوم نہیں صدر ممنون حسین کے آنے سے قبل نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اہلکار تمام شرکاءمیں یہ سیاہ پٹی تقسیم کر کے انہیں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ میری یہ بات سن کر عقیل عباس جعفری کہنے لگے اگر افتخار عارف، عطاءالحق قاسمی، مسعود اشعر، زاہدہ حنا، فاطمہ حسین، محمود شام، مبین مرزا، خالد شریف، ذوالفقار احمد چیمہ، حمید شاہد، اختر شمار، رضی الدین رضی، آصف بھلی، فوزیہ چوہدری، ناصر علی سیّد، ہارن الرشید تبسم، ناصر بشیر، مرزا حامد بیگ، جبار مرزا، امجد اسلام امجد، انور شعور، منظر نقوی، وسعت اللہ خان، وحید الرحمن خان، خورشید احمد ندیم اور دیگر باندھ سکتے ہیں تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ ہم نے نواں قومی کتاب میلہ شروع ہونے سے پہلے اپنے بازو پر ایک سیّد بادشاہ سے امام ضامن کی بجائے سیاہ پٹی بندھوائی۔ ابھی ہم صدر پاکستان کا تقریب میں آنے کا انتظار کر رہے تھے تو ہم نے سٹیج پر نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو دیکھا تو تسلی ہوئی کہ بھی نیا نکور پینٹ سوٹ پہن کر اپنے بازو پر سیاہ پٹی باندھے ہوئے تھے۔ اب ہم نے اِدھر اُدھر سے پوچھنا شروع کیا کہ آخر سیاہ پٹی کا معمہ کیا ہے۔ کیا ملک میں عمران خان کا قبضہ ہو گیا جو صدر مملکت کی تقریب میں شرکاءکی طرف سے خاموش احتجاج ہے۔ اسی کشمکش میں سٹیج پر نظامت کرنے والی جوڑی محبوب ظفر اور قرة العین رضوی آئی۔ دونوں نے اپنے حصے کے جملے بول کر صدر پاکستان ممنون حسین کی آمد کا اعلان کیا تو ہم نے دیکھا ان کے کے ہمراہ مشیر وزیراعظم برائی قومی تاریخ و ادبی ورثہ معروف ادیب، شاعر، کالم نگار اور دانشور عرفان صدیقی، سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن انجینئر عامر حسن تھے۔ صدر سے لے کر سٹیج پر بیٹھنے والے تمام افراد نے اپنے اپنے بازو پر سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی۔ اب ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ دال میں کچھ سرکاری طور پر بہت ہی کالا سیاہ کالا ہے کہ جو صدر پاکستان نے بھی اپنے بازو پر سیاہ پٹی باندھ رکھی ہے۔ جب کسی تقریب میں صدر پاکستان، وزیراعظم ہوں تو حاضرین کی توجہ سٹیج پر رہتی ہے کہ معلوم ہو سکے کہ ریاست کے سربراہ کیا کہہ رہے ہیں۔ بہرحال نواں قومی کتاب میلہ کا آغاز حسبِ روایت قومی ترانے سے ہوا۔ سٹیج پر برادر ملک ترکی کے نامور ادبی دانشور ڈاکٹر خلیل طوقار کو بھی بٹھایا گیا جو میرے خیال میں ایک اچھی روایت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سال نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ کو قومی کتاب میلے کی بجائے عالمی کتاب میلے کا نام دیا کہ اس میں ایران، ترکی اور دیگر ممالک کی کتابوں کے سٹال بھی لگائے گئے تھے۔
بات ہو رہی تھی صدر پاکستان ممنون حسین کے بازو پر سیاہ پٹی باندھنے کی تو وہ اس دن خوشگوار موڈ میں تھے۔ کبھی عرفان صدیقی سے بات کرتے تو کبھی وہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو اپنی جانب متوجہ کرتے۔ ہم سٹیج پر موجود تمام مہمانانِ گرامی اور میزبان کی ایک ایک کارروائی کو بغور دیکھ رہے تھے کہ محبوب ظفر نے ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو خطاب کے لیے بلایا تو وہ آتے ہی کہنے لگے کہ ہم نے سالِ گزشتہ میں 3 کروڑ سے زیادہ رقم کی کتب فروخت کی۔ جس سے آپ نیشنل بک فاؤنڈیشن کی کارکردگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا ہمارا یہ سفر 46 برسوں پر محیط ہے۔ پورے ملک میں قائم ہمارے 24 مراکز دن رات کتب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ اسلام آباد میں این۔بی۔ایف نے اپنی نوعیت کا پہلا قومی بک میوزیم قائم کیا ہے جس کو دیکھنے والے A Place of Wisdom & Wonder کا نام دیتے ہیں۔ اس میوزیم میں سونے کے پانی اور جواہرات کے رنگوں سے ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآن پاک کے 23قدیم قیمتی و نایاب نسخے اور دیگر قدیمی کتب اور مخطوطے دسمبر 2014ءمیں پروفیسر زاہد بٹ سے مفت عطیے میں حاصل کیے تھے۔ ریڈرز کلب اسکیم کے تحت سال 2017-18ءمیں کتب خریدنے والوں کو ساڑھے تین کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی۔ بصارت سے محروم افراد کو تمام کتب مفت دی جاتی ہیں۔ Free Mind Prisoners Book Club سکیم کے تحت جیل خانہ جات میں قیدیوں کے مطالعے کے لیے شیلف اور مفت کتابی ڈسٹرکٹ جیل اڈیالہ، ڈسٹرکٹ جیل شاہ پور، سرگودھا، جہلم، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، سرگودھا، قصور، ساہیوال اور دیگر جیلوں میں دی جا رہی ہیں۔ ”فراغتے و کتاب و گوشہ¿ چمنے“ کے تحت اسلام آباد آفس میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ایک خوبصورت بک پارک بنایا گیا ہے جو ایک گوشہ عافیت ہے۔ جہاں سکون سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ ”کتاب کی دہلیز پر“ کے نام سے بنائے گئے منصوبے کے تحت 2015ءسے Books on Wheels اسکیم (بسوں میں بنائی گئی بک شاپس/ بک کلبز) کے تحت KPK کے بہت سے شہروں میں کتابیں پڑھنے اور خریدنے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ملک بھر میں این بی ایف کی تمام آؤٹ لیٹس پر کتابوں کی نمائشوں اور کتاب میلوں کو ایک قومی مہم کے طور پر پورا سال جاری رکھا گیا۔ صدر پاکستان ممنون حسین اپنے بازو پر سیاہ پٹی باندھے انہیں مسلسل سن اور دیکھ رہے تھے اور ہم بھی اس بات کے منتظر تھے کہ قومی کتاب میلے کے صدرِ محفل خطاب کرنے کے لیے آئیں گے اور آ کر بتائیں گے کہ انہوں نے اپنے بازو پر سیاہ پٹی کس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے باندھی ہے۔(جاری ہے)
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker