شاکر حسین شاکرکالملکھاری

پروفیسر ڈاکٹر سرور نقوی کیسے ” بوڑھے “ ہوئے (1) : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

یہ بات اکتوبر 2008ءکی صبح کی ہے جب مَیں راولپنڈی کے چاندنی چوک سے ایک ٹیکسی کروا کے اسلام آباد کے ایک معروف تعلیمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی (آئی ایس ٹی) کی طرف روانہ ہوا تو ٹیکسی میں میرے علاوہ میری اہلیہ اور بڑا بیٹا جاذب حسن بھی تھا۔ آئی ایس ٹی میں بیٹے کا داخلہ ہوا تھا۔ اس لیے گاڑی میں اس کا بستر بوریا، سوٹ بیگ اور کتب کا ڈھیر تھا کہ جاذب نے اس ادارے سے ایئرسپیس میں انجینئرنگ کرنا تھی۔ تقریباً چار برس اس نے یہاں پر قیام کرنا تھا۔ ہمارے گھر سے کسی بھی فرد کا یہ پہلا تجربہ تھا کہ وہ ہوسٹل لائف گزارے گا۔ اب معاملہ یہ ہوا کہ آئی ایس ٹی (2008ء ) میں جنگل بیابان میں واقع تھی۔ آج کل تو یقینا وہ اسلام آباد کا حصہ بن گئی ہو گی۔ اس لیے تب ہمیں یہ محسوس ہو رہا تھا جیسے ہمارا بیٹا جنگل میں تعلیم حاصل کرے گا۔ یونیورسٹی میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا ہم جیسے بےشمار حواس باختہ والدین اپنے بچوں اور بچیوں کو یونیورسٹی میں چھوڑنے آئے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی کا ماحول بہت اچھا تھا۔ ضابطے کی کارروائی کے بعد ہمیں ایک بڑے ہال میں لے جایا گیا تو سٹیج پر موجود روسٹرم پر ایک بزرگ و باوقار پروفیسر حاضرین سے مخاطب ہوا۔ انہوں نے سب سے پہلے انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا تعارف کرایا۔ اس میں کون کون سے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی ڈسپلن اور چھٹیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ باتیں کرتے کرتے انہوں نے کہا کہ یہاں پر ہم اپنے طالب علموں کو فضول کی چھٹیاں کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر کسی کا دادا، نانا فوت ہو جائے یا ہر ماہ کوئی شادی کی تقریب ہے تو یہاں پر تعلیم حاصل کرنے والا بھول جائے کہ اس کے کوئی رشتہ دار بھی ہیں۔ طالب علموں اور ان کے والدین کو مستقل ڈرانے والے اس پروفیسر کا نام ڈاکٹر پروفیسر سیّد سرور حسین نقوی تھا جو اُس یونیورسٹی کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ تھے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ انہوں نے ہی پاکستان میں ایروسپیس انجینئرنگ کی بنیاد رکھی۔
پروفیسر ڈاکٹر سرور نقوی کی وہ تقریر ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس کے بعد تمام والدین کو کہا گیا کہ وہ اب اپنے گھروں کو جائیں۔ مَیں اور اہلیہ جاذب بیٹے سے اجازت لینے کی سوچ رہے تھے کہ اچانک سرور نقوی صاحب ہمارے قریب آ گئے تو مَیں نے اپنا تعارف کرایا۔ تو کہنے لگے آپ لوگ فکر نہ کریں ہم آپ کے بچوں کا خاص خیال رکھیں گے۔ یہ سرور نقوی سے پہلی ملاقات تھی۔ جب مَیں نم آنکھوں سے آئی ایس ٹی سے باہر آیا تو معلوم ہوا کہ بیگم بھی جاذب کے لیے رو رہی تھی۔ یونیورسٹی کے باہر کھڑے ہو کر ٹیکسی کا انتظار کیا تو دس پندرہ منٹ بعد ہمیں ٹیکسی مل گئی۔ اب ہماری منزل حضرت بری امام کا مزار تھا کہ بیگم کا کہنا تھا کہ مَیں بیٹے کو بابا بری امام کے حوالے کروں گی۔ وہی پردیس میں اس کا خیال رکھیں گے۔ جدائی کے تصور نے مجھے بھی بے حال کر رکھا تھا۔ سو اسی کیفیت میں ہم حضرت بری امام کے دربار پہنچ چکے تھے۔ دُعا مانگی لنگر تقسیم کیا اور ملتان کی طرف سفر کا آغاز کر دیا۔
2008ءسے 2013ءتک میرا صرف ایک مرتبہ جاذب بیٹے کے پاس اسلام آباد جانا ہوا اور وہ بھی دو گھنٹے کے لیے 2013ءمیں جب جاذب نے انجینئرنگ کر لی۔ تو ایک دن اس نے بتایا کہ اگلے ماہ ہمارا کانووکیشن ہے جس میں آپ نے شرکت کرنا ہے۔ کانووکیشن میں شرکت ہر والدین کا خواب ہوتا ہے۔ سو مَیں پوری فیملی کے ساتھ ملتان سے اسلام آباد روانہ ہوا۔ یونیورسٹی نے پاک چائنا سنٹر میں اس پُروقار تقریب کا اہتمام کر رکھا تھا۔ بچوں کے ساتھ ان کے والدین کے چہرے بھی خوشی سے دمک رہے تھے۔ میرا بیٹا جاذب جب گولڈ میڈل اپنے گلے میں پہن کر ہمارے پاس آیا تو ہماری آنکھوں میں خوشی سے ستارے جھلملا رہے تھے۔ چائے کی میز پر ریڈیو پاکستان کے کنٹرولر اعجاز وقار سے لے کر بے شمار دوستوں سے ملاقات ہوئی کہ اچانک جاذب نے کہا پاپا جان آئیں آپ کو پروفیسر سرور نقوی صاحب سے ملواتا ہوں۔ مجھے اکتوبر 2008ءکا وہ دن یاد آ گیا جب ان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ البتہ جاذب سے گاہے گاہے ان کی خیریت دریافت کرتا رہتا۔ ڈاکٹر سرور نقوی اپنے شاگردوں کے ہجوم میں گھِرے ہوئے تھے۔ جاذب کو دیکھتے ہی کہنے لگے ہٹو میرا لاڈلا شاگرد آ رہا ہے۔ مَیں نے اپنا تعارف کرایا تو مجھے مبارک دے کر کہنے لگے آپ بہت خوش قسمت انسان ہیں کہ جاذب جیسا آپ کا بیٹا ہے۔ مَیں نے کہا اس کو جو آج کامیابی ملی ہے وہ سب آپ کی توجہ کی بدولت ہے اور جاذب نے مجھے ہمیشہ بتلایا کہ پوری یونیورسٹی میں یوں تو سب اساتذہ کرام نے بڑی محنت سے پڑھایا لیکن سرور نقوی صاحب کے پڑھانے کا انداز ہی مختلف تھا۔ اگر کسی طالب علم کو کلاس لیکچر کے بعد ان کی رہنمائی درکار ہوتی تھی ڈاکٹر سرور نقوی ہر وقت دستیاب ہوتے تھے۔
وقت گزرتا رہا۔ جاذب حسن مزید تعلیم کے لیے جرمنی چلا گیا۔جرمنی کی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے بیٹے کو بیشمار جگہوں پر مختلف کاغذات درکار تھے جس کو بخوشی ڈاکٹر سروری نقوی اپنے دستخط سے جاری کرتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کا پروفائل اتنا اہم تھا کہ جاذب کے داخلے کے کاغذات میں ان کے مختلف لیڈز نے جرمنی میں داخلہ آسان بنا دیا۔ تقریباً دو تین سال قبل جاذب نے مجھے کہا کہ پاپا جان ڈاکٹر سرور نقوی صاحب آئی ایس سے ریٹائر ہو کر کبیروالہ میں اپنے یونیورسٹی کے ڈرائیور کے گھر رہ رہے ہیں۔ ان کو نوکری کی تلاش ہے۔ یہ سن کر مَیں حیران ہو گیا کہ ایئرسپیس کی دنیا کا بابائے اعظم پروفیسر ڈاکٹر سرور نقوی آج کل بے روزگاری کی وجہ سے اسلام آباد کو خیرباد کہہ کر کبیروالہ میں رہائش پذیر ہے۔ کسی تعلیمی ادارے میں نوکری کا طالب ہے؟ اور اور بے شمار سوالات میرے ذہن میں آئے کہ آخر وہ کونسی ایسی وجودہات ہیں جن کی بنا پر وہ اسلام آباد چھوڑ کر ملتان کے نواحی قصبہ کبیروالہ میں آن بسے ہیں۔ مَیں نے ملتان کے دو تین تعلیمی اداروں میں ان کے لیے بات کی تو معلوم ہوا کہ ان کے شایانِ شان تو ملتان میں کوئی تعلیمی ادارہ نہیں ہے البتہ ڈاکٹر سرور نقوی نے اسلام آبادسے آنے کے بعد ساہیوال میں ایک تعلیمی ادارے میں پڑھانے کے لیے انٹرویو دیا تو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ آپ کی عمر زیادہ ہے۔ ہم آپ کو نوکری نہیں دے سکتے۔ یہ سن کر وہ خاصے دلبرداشتہ ہوئے کہ دنیا میں تجربہ کار اساتذہ کرام کو تعلیمی ادارے سروں پہ بٹھاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں تذلیل کر کے گھر بیٹھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہاں پر ایک اور افسوسناک واقعہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ وہ انسٹیٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی اسلام آباد کے بانیوں میں سے تھے۔ ان کے خلاف پہلی اور آخری شکایت ڈاکٹر نقوی کے ایک قریبی عزیز (جو یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھا) نے لگائی۔ جس کے بعد ان کا مستقل پڑھانے کا معاہدہ ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کو محدود کر کے کچھ پیریڈ پڑھانے کی اجازت دی گئی۔ آخر میں ان کو یونیورسٹی سے یہ کہہ کر فراغت نامہ دے دیا گیا کہ اب آپ بوڑھے ہو گئے اس لیے آپ کی خدمات کی ضرورت نہ ہے۔ ڈاکٹر سرور نقوی یونیورسٹی کے اس رویے پر اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ انہوں نے فوری اسلام آباد چھوڑا اور اپنے ڈرائیور راؤ شاہد کے ہمراہ اس کے آبائی گاؤ ں باگڑ سرگانہ (کبیروالہ ضلع خانیوال کا نواحی علاقہ) میں منتقل ہو گئے۔ (جاری ہے)
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker