ادبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

امید ملتانی کو یاد کریں(وفات 11 فروری 2003ء) ۔۔ کہتا ہوں سچ / شاکرحسین شاکر

رضی الدین رضی نے ادبی بیٹھک ملتان کے ہفتہ وار اجلاس کا فروری کے دوسرے ہفتے جو پیغام بھجوایا تو اس کا موضوع ’’امیدملتانی کو یاد کریں‘‘ تھا۔ امید ملتانی کو ہم سے بچھڑے 14برس ہو گئے۔بیتے ہوئے 14برسوں میں اگر میں بھول نہیں رہا تو ان کو صرف چار مرتبہ اہلِ ملتان نے یاد کیا۔ اور چاروں مرتبہ اس تقریب کا انعقاد ان کے بیٹوں نے کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی زندگی کے 80 سال اس شہر کی علمی، ادبی سرگرمیوں کو دے دیئے ۔یہ شہر اس کی ملتان سے محبت کا قرض بھی نہ اتار سکا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جناب امید ملتانی کا اصل نام محمد نواز انصاری تھا۔ وہ ملتان کے قدیمی محلہ بھیتی سرائے بیرون پاک گیٹ میں رہائش پذیر تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ اسی علاقے میں گزارا۔11 فروری 2003ء کو جب ان کا انتقال ہوا تو ان کا جسد خاکی بھی اس محلہ سے اٹھایا گیا۔اسی محلے میں ان کے چھوٹے بھائی اور اردو کے عہد ساز شاعر، ادیب،ماہر تعلیم، دانشور، مترجم ڈاکٹر اسلم انصاری بھی رہتے تھے۔ بھیتی سرائے سے کچھ ہی فاصلے پر اردو اورسرائیکی کے معروف شاعر ارشد ملتانی کا گھر بھی ہوا کرتا تھا۔ اگر ہم ارشد ملتانی کی بات کرتے ہیں تو پھر ان کا وہ شعر بھی یاد کر لیتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا
ڈھونڈے سے بھی نہ پاؤ گے ارشد جہان میں
خوئے وفا ومہرجو ملتانیوں میں ہے
ارشد ملتانی کا تذکرہ کرتے کرتے مجھے انہی کے ایک اور ہمسائے اورسیاسی رہنماء حبیب الرحمن پاسلوی کا پاورلوم کا کارخانہ یاد آ گیا جہاں میں نے 1978ء کے اوائل میں ولی خان، بیگم نسیم ولی خان، سردار شیر بازخان مزاری، سید قسور گردیزی اور دیگر سیاسی زعماء کو انہی کے کارخانے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سنا۔ حبیب الرحمن پاسلوی کا اس وقت شہر میں طوطی بولتا تھا اور ہماری رہائش بھی ان کے کارخانے کے قریب تھی۔ محلے کا اکلوتا ٹیلی فون انہی کے کارخانے میں لگا ہوا تھا جہاں پر پورے محلے کی غمی اور خوشی کی خبریں بذریعہ فون آیا کرتی تھیں۔اور پاسلوی صاحب خود موجود ہوتے یا ان کے ملازمین جب محلے کے کسی گھر والوں کی اطلاع آتی تو ان کا ملازم اس گھر میں جا کے اطلاع کرتا کہ آپ کا فلاں جگہ سے ٹیلی فون آ رہا ہے ۔فون سننے کے لیے آ جائیں۔ یہ وہ دور تھا جب گھروں میں ٹیلی گرام کے ذریعے بیشتر اطلاعات ہو جاتی تھیں لیکن رات کے لمحوں میں کسی کے گھر فون آنے کا پیغام آنا خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہوتا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میری نانی کا لائل پور میں انتقال ہوا تو اس کی اطلاع بھی حبیب الرحمن پاسلوی کے کارخانے کے ٹیلی فون کے ذریعے ہوئی اور پھر ہم راتوں رات نیاز بس سروس کے ذریعے لائل پور روانہ ہو گئے۔اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ سارے راستے میری والدہ اور خالہ مسلسل اونچی اونچی آواز میں اپنی ماں کو یاد کر کے روتی رہیں۔ اورجیسے ہی ہم اپنی نانی کے گھر جھال پہنچے تو گلی میں پہنچتے ہی ان کے رونے کی آوازیں پوری گلی کے مکینوں نے سنیں۔
بات امید ملتانی کو یاد کرنے سے شروع ہوئی اور میں ان کے محلے کی یادوں میں کھو گیا۔ جب امید ملتانی کا انتقال ہوا تو تب ملتان کے ضلع ناظم پیر ریاض حسین قریشی نے مجھے فون کر کے کہا کہ ہم دونوں امید ملتانی کے جنازے میں تو شریک نہ ہو سکے۔(کیونکہ انہی دنوں عیدالاضحٰی کی وجہ سے اخبار کی چھٹی تھی اور وہ اطلاع ملتان والوں کو دیر سے ملی) تو میں ان کے ہاں فاتحہ کے لئے جانا چاہتا ہوں۔ میں نے ان کا گھر دیکھ رکھا تھا۔فوری طور پر ہم دونوں بھیتی سرائے پاک گیٹ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں جا کر ان کے بیٹوں ظفر انصاری اور سلیم جہانگیر سے تعزیت محلے کی مسجد میں بیٹھ کر کی۔ سلیم جہانگیر سے یاد آیا کہ ان کایہ بیٹا پاکستان نیشنل سنٹر میں جاب کرتا تھا اور آج کل وکالت کے ساتھ وابستہ ہے۔ نیشنل سنٹر سے بھی تو ہماری بہت سی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ اس شہر کو نیشنل سنٹر کی جتنی آج ضرورت ہے ماضی میں کبھی اتنی نہ تھی کیونکہ حکومت پاکستان کا یہ ادارہ نوجوانوں کی علمی ، ادبی تربیت کرنے کے حوالے سے ایک اہم نام رکھتا تھا۔ بات ہو رہی تھی نیشنل سنٹر کی جہاں پر غضنفر مہدی، اعزاز احمد آذر اور خالد خلیل جیسے دوستوں نے بڑی خوبصورتی سے اس ادارے کو چلایا۔ آج بھی جب پرانے دوست بیٹھتے ہیں تو نیشنل سنٹر کے زمانے کو خوب یاد کرتے ہیں۔ سلیم جہانگیر نے کبھی بھی شہر میں اپنے حوالے سے رعب نہیں جمایا بلکہ جناب امید ملتانی نے پوری زندگی بڑی سادگی سے بسر کی اور اسی سادگی میں ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انتہائی مرنجاں مرنج شخصیت تھے ۔ہر وقت خیر کا کلمہ ان کی زبان پر ہوتا تھا۔ سادگی اور پرخلوص طریقے سے ہر شخص سے ملتے اور کبھی بھی انہوں نے اپنی علمیت کا رعب نہ جمایا۔ وہ بنیادی طور پر سرائیکی کے شاعر تھے لیکن وہ اردو میں بھی شاعری کرتے رہے۔ ان کی کتب’’ مینگھ ملہار‘‘ (منتخب سرائیکی شعراء کا کلام) ، ’’پلوں وچ سویر‘‘، ’’مدنی سائیں سلطان‘‘ (صدارتی ایوارڈ یافتہ) اور ’’دیوان امید‘‘(انتخاب سرائیکی کلام) کے نام سے شائع ہوئیں۔ ’’دیوان امید‘‘ ان کی زندگی میں ہی تیار کی گئی جس کے آغاز میں انہی کے یہ شعر دیئے گئے
مخلص لوکاں دی دنیا نے اج تئیں قدر نہ جاتی
ذہن دی تختی دے اتے میں اے تحریر سنجاتی
کجھ تاں نیک عمل توں کرگھن، وڈے بڈھے آدھن
جیڑھاوقت گزردا ویندے دل نہ پینداجھاتی
یہ اشعار ان کی شاعری کا منشور کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہی سرائیکی مجلس کے زیراہتمام 1972ء میں ماہانہ طرحی غزلیہ مشاعروں کا آغاز کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اس سرائیکی خطے میں جدید سرائیکی شاعری کا کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا۔خاص طور پر غزل کا وجود بھی سرائیکی ادب میں کم دکھائی دے رہا تھا۔ایسے میں ان کے طرحی مشاعروں کی وجہ سے سرائیکی غزل گوئی کا آغاز ہوا جس نے جدید سرائیکی غزل کے خدوخال متعین کیے۔ جناب ڈاکٹر اسلم انصاری نے بھی ان کی شاعری پر طویل مقالہ تحریر کیا جس میں انہوں نے امید ملتانی اور ان کے ہم عصر شعراء کا تجزیہ پیش کیا۔ ان کے بقول امید ملتانی ایک ایسے شاعر ہیں جن کے ہاں تجربے کی سچائی اور لب و لہجے کی خصوصیات انہیں ایک منفرد شاعر بناتی ہیں۔ وہ سرائیکی غزل کے اولین غزل گو شاعر تھے جنہوں نے سرائیکی غزل میں کافی کا سوز وگداز اور تغزل کی لطافتیں احساس کی نئی دنیا کو آباد کیا۔
امید ملتانی کی شاعری اور شخصت پر تفصیل سے لکھا جا سکتا ہے کہ ہماری ان سے بے شمار ملاقاتیں تھیں ۔وہ محبت کرنے والے اور کسی سے شکوہ نہ کرنے والی شخصیت جنہوں نے خاموشی سے ادب تخلیق کیا اوردنیا سے چل دیئے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ کسی زمانے میں بھیتی سرائے بیرون پاک گیٹ ملتان کی مہندی اور دہی بھلے مشہور ہوا کرتے تھے لیکن آج اس علاقے کی پہچان امید ملتانی اور اسلم انصاری کی وہ رہائش گاہیں ہیں جہاں سے ان کے مقیم ایک عرصہ ہوا چھوڑ چکے لیکن وہ علاقہ آج انہی کے علمی کاموں کی وجہ سے شہرہ رکھتا ہے۔ اور ہم آپ کو یہ بتانا تو بھول ہی گئے کہ امید ملتانی کے انتقال کے بعد ضلع ناظم ریاض حسین قریشی اور میں فاتحہ دے کر انہی کے ایک محلے دار سیاست دان راجہ عبدالغفار کے پاس پہنچے تو انہوں نے یہ بتا کر حیران کردیا کہ امید ملتانی اس علاقے کا وہ بڑا نام تھے جن سے کبھی کسی کو شکایت نہیں ہوئی اور وہ بڑی خاموشی سے دنیا سے گزر گئے۔ اتنی خاموشی سے کہ ان کو ہم سے بچھڑے 14برس ہو گئے اور ہمیں رضی نے یاد کرایا کہ ’’امیدملتانی کو یاد کریں‘‘۔ان کی یاد میں میں نے اپنا بچپن بھی یاد کیا اور شہر کے بے شمار نامور لوگوں کو یاد کر کے یہ بتایا کہ ہم کسی کو نہیں بھولے یعنی
تیڈی یاد ہمیشہ میڈے دل دے تار چھڑیندی ہے
نغمہ کوئی آن سناوے پائل دی جھنکار دے نال

(بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker