سرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

عاشق علی فرخ کی یادیں : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

جب سے ملک میں پانامہ لیکس کا معاملہ شروع ہوا ہے حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی اپنی جگہ پر لیکن اس سارے معاملے میں پاکستانی میڈیا کے جو رویے دیکھنے کو مل رہے ہیں اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔ الیکٹرانک میڈیا سے لے کر پرنٹ میڈیا تک نے جس انداز سے پانامہ لیکس کی کوریج کی ہے وہ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ایک عام آدمی کو بھی علم ہو گیا ہے کہ حکومت کس میڈیا گروپ کو نواز رہی ہے اور اس نے کس گروپ کے اشتہارات بند کر دیئے ہیں۔ صحافت کسی زمانے میں عبادت کا درجہ رکھتی تھی۔ آج وہ عبادت بالکل تبدیل ہو گئی ہے۔ اب صحافت کی آڑ میں ہر شخص اپنے اپنے مقاصد کی تکمیل کر رہا ہے۔ ایسے میں ہمیں عاشق علی فرخ بے تحاشہ یاد آئے جن کو ہم سے جدا ہوئے چار برس ہو گئے۔ اور جب وہ روزنامہ ایکسپریس ملتان کے پہلے ریذیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے تو انہوں نے اخبار کی اشاعت سے پہلے ہمیں اپنے دفتر بلایا اور کہا کہ آنے والے دنوں میں ایک ایسا اخبار آنے والا ہے جو کسی کی پگڑی نہیں اچھالے گا۔ جھوٹ نہیں چھاپے گا، سچ کا بول بالا ہو گا اور لوگ اس کو بڑے فخر کے ساتھ اپنے گھر لے جایا کریں گے۔ یہ بات انہوں نے کئی برس پہلے کی۔ خوشی اس بات کی ہے کہ روزنامہ ایکسپریس آج بھی اپنے پہلے دن کے طے شدہ اصولوں پر عمل کر رہا ہے۔ بلیک میلنگ، جھوٹ اور کسی پر کیچڑ اچھالنا آج بھی ایکسپریس گروپ کے لیے سب سے بڑی بددیانتی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں جب عاشق علی فرخ کو یاد کرتا ہوں تو میرے سامنے ان کے بےشمار واقعات آ جاتے ہیں۔ جن کو ہر سال اُن کی برسی پر یاد کر کے اُنہیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
عاشق علی فرخ سراپا صحافی تھے کہ انہوں نے پوری زندگی سوائے صحافت کے اور کچھ نہیں کیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ملتان کی صحافتی تاریخ اُن کے ذکر کے بغیر نامکمل رہے گی۔ یہ تاریخ جس کو شمس ملک، اقبال ساغر صدیقی، شیخ ریاض پرویز، ولی محمد واجد، بشیر اصغر چوہدری، سلطان صدیقی، سعید صدیقی، رشید ارشد سلیمی، مظہر جاوید، مسعود اشعر، ایثار راعی، خان رضوانی، ملک منظور، حافظ عبدالخالق، عبدالستار قمر، عبدالقادر یوسفی،غضنفر علی شاہی ، خالد جاوید مشہدی، جبار مفتی سمیت بے شمار اصحاب نے زندہ و تابندہ کیا۔ اُن میں عاشق علی فرخ کا نام ہمیشہ روشن اور یادگار رہے گا۔ یہی وجہ ہے کچھ لوگ زندگی میں اس طرح بھی آتے ہیں کہ اگر وہ رخصت بھی ہو جائیں لیکن ان کی یادیں ہمارے ساتھ رہتی ہیں مثال کے طور پر اگر میں عباس اطہر کا تذکرہ کروں تو جب بھی میں ایکسپریس کا صفحہ نمبر 2 کھولتا ہوں تو ”کنکریاں“ یاد آتا ہے جس میں اُن کی خوبصورت نثر سے جب محروم ہوتا ہوں تو بے ساختہ شاہ جی یاد آجاتے ہیں۔ اسی طرح جب روزنامہ ایکسپریس ملتان کا صبح مطالعہ کرتا ہوں تو اُس کی کریڈٹ لائن پر عاشق علی فرخ کی جگہ اُن کے بیٹے آصف علی فرخ کا نام دیکھتا ہوں تو بے شمار یادیں ملتان والے شاہ جی یعنی عاشق علی فرخ کے بارے میں تازہ ہو جاتی ہیں۔ شاہ جی سے ہمارا تعلق 1980ءمیں تب قائم ہوا جب کالج کے زمانے میں ہم نوائے وقت ملتان کے دفتر میں جایا کرتے تھے وہاں پر جبار مفتی، عبداللطیف اختر، نصیر رعنا، بشیر اصغر چوہدری اور شیخ ریاض پرویز سے ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔ نوائے وقت ملتان کے شعبہ میگزین کو جب بالائی منزل پر منتقل کیا گیا تو وہاں پر ہماری ملاقاتیں عارف معین بلے سے ہونے لگ گئیں اس دفتر کا ہمیں یہ فائدہ ہوا کہ نیوز روم میں جانے والے دوستوں سے بھی ملاقاتیں ہونے لگیں جن میں سرفہرست شمس ملک، عاشق علی فرخ، خالد جاوید مشہدی، سلیم شاہد، اکمل فضلی، جاوید اختر جاوید اور دیگر دوست شامل تھے۔ نوائے وقت کے نیوز روم سے خالد مشہدی کا میگزین میں جب تبادلہ ہوا تو ان کی معاونت کے لیے سلیم ناز بھی ہمیں دکھائی دینے لگے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملتان سے قومی سطح کے صرف دو اخبار امروز اور نوائے وقت شائع ہوتے تھے۔ اس سے پہلے امروز نے کوہستان، جسارت اور نوائے وقت کو عملاً ملتان سے بند کر دیا تھا۔ یہ نوائے وقت ملتان کا دوسرا دور تھا جس میں تازہ دم ٹیم کا انتخاب کیا گیا۔ نوائے وقت ملتان نے 1978ءمیں اپنی اشاعت ثانی شروع کی تو لاہور سے عاشق علی فرخ اور قدرت اﷲ چوہدری کو مجید نظامی نے ملتان بھیجا۔ ان دونوں دوستوں کا خیال تھا کہ اخبار شروع کرنے کے بعد ہم واپس لاہور آ جائیں گے قدرت اﷲ چوہدری تو واپس چلے گئے لیکن عاشق علی فرخ ملتان میں ہی رہ گئے۔ جس اخبار میں انہوں نے بطور سب ایڈیٹر کام شروع کیا پھر اُسی اخبار کے وہ باصلاحیت اور طاقتور نیوز ایڈیٹر بھی مقرر کئے گئے۔ 1962ءسے لے کر جولائی 2013ءتک عاشق علی فرخ نے صحافت کے ساتھ محبت کی جبکہ اپنے صحافی دوستوں کے وہ محبوب رہے۔ وہ پرانے وقتوں کے اُن صحافیوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے پوری زندگی محنت اور دیانت داری کے ساتھ بسر کی۔ بقول رضی الدین رضی عاشق علی فرخ کی صحافت ، شرافت، متانت اور شائستگی سے عبارت تھی۔ انہوں نے کبھی بھی ایسی صحافت نہیں کی جو کاروبار کے زمرے میں آتی تھی اور شاہ جی ایسی ہی صحافت کی آخری نشانیوں میں سے ایک تھے۔ افسوس یہ ہے صحافت میں اس طرح کے لوگ اب ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
نوائے وقت میں جب بھی جانا ہوتا تو شاہ جی سے ملاقات لازمی ہوتی۔ ان کی گفتگو میں ایک شخصیت کا بہت تذکرہ رہتا تھا اور وہ شخصیت حمید نظامی تھے وہ اُن سے بہت متاثر اور ہر جملے کے بعد اُن کی مغفرت کے لیے دعا کرتے تھے۔ اُن کی یہ عادت مجھے بہت اچھی لگتی کہ وہ مجید نظامی کے دوستوں میں سے تھے لیکن حمید نظامی کو بھی اچھے لفظوں میں یاد کرتے تھے۔ نوائے وقت میں حمید نظامی کے انتقال کے بعد مجید نظامی کے بیگم حمید نظامی کے ساتھ اختلافات ہوئے تو عاشق علی فرخ اُس ٹیم کا حصہ تھے جس نے مجید نظامی کے ساتھ نوائے وقت سے علیحدگی اختیار کی اورندائے ملت کی اشاعت کا آغاز کیا۔ یقینی طور پر یہ وہ دور تھا جب مجید نظامی کے لیے ہر طرف مشکلات ہی مشکلات تھیں لیکن اس مشکل دور میں بھی وہ مجید نظامی کے ساتھ کام کرتے رہے۔ اسی طرح ظہور عالم شہید نے لاہور سے ”جاوداں“ شروع کیا تو عاشق علی فرخ بھی اُن کی پہلی ٹیم میں شامل تھے۔ یوں شاہ جی کے پاس بے شمار اخبارات کو شروع کرنے کا جو تجربہ تھا اُسی وجہ سے مجید نظامی نے 1978ءمیں ملتان سے نوائے وقت کا جب دوبارہ اجرا کیا تو ان کو ملتان بھیج دیا۔ یہاں پر اُن کے سینئر شمس ملک نیوز ایڈیٹر کے طور پر پہلے سے موجود تھے شاہ جی نے اپنی صلاحیت کی بدولت اس انداز سے وہاں جگہ بنائی کہ وہ شمس ملک کے ہونے کے باوجود عملی طور پر نیوز ایڈیٹر کا کام کرنے لگے۔ شمس ملک کے بارے میں ایک بات بہت مشہور تھی کہ وہ رات کو کاپی روانہ کرنے کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے قوالیوں کا پروگرام بہت شوق سے سنتے تھے اور بعض اوقات قوالی سنتے سنتے ایسی کیفیت طاری ہوتی کہ وہ نیوز روم میں آنے والی اہم خبروں سے بھی بے خبر ہو جاتے۔ مارچ 1981ءمیں امریکی صدرریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تو شمس ملک اس وقت آل انڈیا ریڈیو سے قوالی سن رہے تھے اور حالت وجد میں تھے جب یہ حملہ ہوا تو ملک کے تمام اخبارات میں سٹاپ پریس کے طور پر ریگن پر حملے کی خبر موجود تھی لیکن نوائے وقت ملتان میں یہ خبر مِس ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد نوائے وقت ملتان میں بطور نیوز ایڈیٹر تمام اختیارات عاشق علی فرخ کو دے دیئے گئے لیکن مجید نظامی نے اپنی وضع داری قائم رکھتے ہوئے شمس ملک کو نیوز ایڈیٹر کے عہدہ پر برقرار رکھا۔ انتظامی طور پر شمس ملک ہی نیوز ایڈیٹر تھے لیکن ذمہ داری عاشق علی فرخ پر آن پڑی شاہ جی نے اس ذمہ داری کے باوجود شمس ملک کی عزت اور احترام میں کبھی کمی نہ آنے دی۔ جب تک شمس ملک زندہ رہے وہ اُن کی بطور سینئر عزت کرتے رہے۔
شاہ جی نظریاتی طور پر مسلم لیگ کے شدید حامی تھے اور پیپلز پارٹی مخالف۔ 1988ءکے بعد نوائے وقت کا جھکاؤ واضح طور پر نواز شریف کی طرف رہا تو شاہ جی بھی اپنی گفتگو میں کھل کر بے نظیر کے خلاف اظہار خیال کرتے لیکن اُن کی گفتگو میں کبھی بھی کوئی ایسی بات نہ ہوتی تھی کہ پیپلز پارٹی کا حامی اُن سے ناراض ہو جاتا۔ کسی کو ناراض کرنا اُن کی سرشت میں شامل نہ تھا۔ ہر اک سے محبت، پیار یہ اُن کی زندگی کا نصب العین تھا اس سب کے باوجود وہ اپنے پروفیشن پر کوئی سودے بازی نہیں کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ملتان سے روزنامہ ایکسپریس کی اشاعت کا اعلان ہوا تو ملتان میں ایک ہی شخص ایسا دکھائی دیا جو ایک نئے اخبار کا آغاز کر سکتا تھا شاہ جی کا انتخاب ہوا اور پھر وہ روزنامہ ایکسپریس ملتان کے پہلے ریذیڈنٹ ایڈیٹر مقرر کئے گئے۔ اس سلسلے میں جب ملتان میں روزنامہ ایکسپریس کی اشاعت کے لیے پہلی تقریب کا انعقاد ہوا تو انہوں نے مجھے نظامت کے لیے حکم دیا میرے لیے یہ ایک اعزاز تھا۔ شاہ جی نے ایکسپریس ملتان کی کامیابی کے لیے دن رات ایک کیا اور آخر کار اولیائے ملتان سے ایک ایسے اخبار کا اجرا ہو گیا جو ہر طبقہ کے لیے دیکھتے ہی دیکھتے پسندیدہ ہو گیا۔
شاہ جی کو شوگر تو ایک عرصہ سے تھی۔ سگریٹ نوشی کی عادت نے بھی اُن کی صحت کو کسی حد تک متاثر کر دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود وہ رات گئے تک کام میں مصروف رہتے۔ ایک دن مجھے اور رضی کو معلوم ہوا کہ شاہ جی کے گردے فیل ہو گئے ہیں اور وہ ڈائلیسز پر چلے گئے ہیں۔ ہم دونوں ہسپتال عیادت کے لیے گئے تو وہی ہشاش بشاش چہرہ، ہنستے مسکراتے ، گپ شپ لگانے میں مصروف تھے ہمیں خوشی اس بات کی ہوئی کہ انہوں نے اپنی بیماری کو مسلط نہیں کیا۔ چار سال پہلے رمضان المبارک کے پہلے عشرہ میں آئی ایس پی آر ملتان کی افطار پارٹی میں شاہ جی سے ملاقات ہوئی تو وہ پہلے سے کافی کمزور ہو چکے تھے لیکن دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگا رہے تھے روزہ تو نہیں تھا لیکن سارے دوست اُن کے گرد اکٹھے ہو کر ایک ہی بات کر رہے تھے شاہ جی آپ کو روزہ بہت لگ رہاہے شاہ جی نے کہا ان ڈائلیسز نے میرا پانی تو بہت عرصہ سے بند کر رکھا ہے یوں میں ایک عرصہ سے حالت روزہ میں ہوں اسی گپ شپ میں وہ افطاری تمام ہوئی اور پھر دوسرے عشرے میں شاہ جی نے رخت سفر باندھ لیا۔ ہم سب نماز عشاءکے بعد ایم ڈی اے چوک کے قریب ایک مسجد میں جمع تھے وہاں نماز تراویح ہو رہی تھی جیسے ہی نماز تمام ہوئی ایک ایمبولنس آئی شاہ جی کا جسد خاکی باہر لایا گیا آخری دیدار ہوا نماز پڑھی گئی اور پھر ملتان کے ہزاروں دوستوں نے شاہ جی کو ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہا کہ اُن کو وصیت کے مطابق اُن کے آبائی شہر للیانی (قصور) میں سپرد خاک کیا جانا تھا۔ ملتان سے چند دوست اُن کی میت کے ساتھ گئے لیکن عاشق علی فرخ جاتے ہوئے ملتان میں اپنے قیام کی 35 سالوں کی یادیں چھوڑ گئے جو کبھی بھی ہم سے محو نہ ہونگی۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مر دتھا
شاہ جی چلے گئے اور اُن کے جانے کے بعد ایکسپریس ملتان میں اُن کے بڑے بیٹے آصف علی فرخ بطور ریذیڈنٹ ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔ آصف علی فرخ نے اپنے والد کے موبائل نمبر کو ختم نہیں ہونے دیا بلکہ انہی کا موبائل نمبر استعمال کر رہے ہیں۔ ایک دن میرے موبائل کی سکرین پر عاشق علی فرخ کا نام اُبھرا مَیں نے فوراً فون ریسیو کیا اور ہمیشہ کی طرح کہا ”شاہ جی کیا حال ہیں؟“ مجھے معلوم تھا اس مرتبہ عاشق علی فرخ نہیں ہوں گے لیکن اُن کی تصویر آصف علی فرخ کی آواز نے مجھے بتا دیا کہ اب مجھے شاہ جی کی آواز سنائی نہیں دے گی لیکن اُن کی شخصیت کی جھلکیاں آصف علی فرخ میں آج بھی مجھے محسوس ہوتی ہیں۔ خدا سے دُعا ہے کہ وہ تادیر سلامت رہیں اور اپنے والد مرحوم کے دوستوں سے اُنہی کے نمبر سے رابطہ کر کے اُس تعلق کو ختم نہ ہونے دیں جو اُن کے والد نے ہمارے ساتھ بنایا تھا کہ چار سال ہو گئے ہیں مَیں نے اپنے موبائل سے ابھی تک عاشق علی فرخ کا نمبر اس لیے ڈیلیٹ نہیں کیا کہ مجھے پتا ہے کہ اگر مَیں نے اُس نمبر پر آصف علی فرخ کا نام لکھ دیا تو پھر مَیں اپنی موبائل سکرین پر صحافت کے عاشق – عاشق علی فرخ کا نام نہ دیکھ پاؤں گا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker