شاکر حسین شاکرکالملکھاری

باتیں خالد کھرل کی : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

یہ بات تقریباً پانچ چھ سال پرانی ہے کہ میری کالونی میں ایک شادی کی تقریب تھی سٹیج پر دولہا کے ساتھ ایک جانی پہچانی شخصیت موجود تھی۔ مَیں نے جب انہیں غور سے دیکھا تو یاد آیا کہ وہ شخصیت سابق وفاقی وزیر رائے خالد احمد خان کھرل کی ہے۔ نکاح ہوتے ہی جب رائے صاحب سٹیج چھوڑ کر پنڈال میں آ بیٹھے تو مَیں ان کے پاس چلا گیا۔ تعارف کرایا تو کہنے لگے مجھے آپ پر حیرت ہو رہی ہے کہ سیاست سے آؤٹ سیاستدان کے پاس آ کر بیٹھ گئے ہو۔ میرے پاس اب شکووں اور شکایت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ آصف علی زرداری (تب صدر پاکستان) کی سیاست مجھے پسند نہیں۔ پارٹی کے باقی رہنما بھی کرپشن کر رہے ہیں۔ ایسے میں ہم جیسے سیاستدانوں کی کہیں گنجائش نہیں ہوتی۔ رائے خالد احمد خان کھرل مسلسل پارٹی کے خلاف اپنا غصہ نکال رہے تھے۔ ان کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ملتان کے جس حلقہ میں بیٹھ کر پی پی اور اس کی قیادت کے خلاف بول رہے تھے وہ حلقہ اُس وقت کے وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی کا تھا۔ وہ مسلسل ایک ہی بات کہہ رہے تھے آصف علی زرداری نے پارٹی سینئر رہنماؤں کو پیچھے دھکیل کر مفاد پرستوں کو اپنے اردگرد جمع کر لیا ہے وغیرہ وغیرہ۔
مَیں شادی کی تقریب میں رائے خالد احمد خان کھرل کے شکوے سن رہا تھا تو ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے موضوع تبدیل کیا اور ان سے مرحوم بھانجے علی رضا (سابق ڈپٹی کمشنر خانیوال) کی شہادت کا ذکر کیا۔ اپنے شہید بھانجے علی رضا کا نام سنتے ہی چونک گئے اور کہنے لگے اس وقت مَیں جس دولہا کے ساتھ آیا ہوں وہ میرے شہید بھانجے علی رضا کا چھوٹا بھائی ہے۔ اب ان کا موڈ قدرے بہتر ہو چکا تھا۔ پھر وہ اپنے ملتان کے دوستوں ملک مختار اعوان، تاج نون، الطاف علی کھوکھر اور دیگر کا احوال پوچھنے لگے۔ مَیں نے بتایا کہ آپ کے تمام احباب ٹھیک ہیں لیکن وہ بھی آپ کی طرح آج کل گوشہ نشین ہیں۔ جیسے ہی مَیں نے یہ کہا تو ان کا ایک مرتبہ پھر موضوع سخن پی پی کی حکومت بن گیا۔ مَیں نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا اچھا یہ بتائیں بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا کیا فرق دیکھا؟ ایک دن چہرے پر سنجیدگی کا تاثر لائے اور کہنے لگے میری ذوالفقار علی بھٹو سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب مَیں سول سروس میں تھا۔ جب مَیں لاڑکانہ میں ڈپٹی کمشنر تھا، تو ان کو اپنے شہر کا بہت خیال رہتا تھا۔ مجھ پر وہ بے پناہ اعتماد کرتے تھے۔ یہ اس اعتماد کا نتیجہ تھا کہ مَیں بعد میں لاڑکانہ کا کمشنر بھی تعینات کیا گیا۔ لاڑکانہ میں تعیناتی کے دوران ان سے محبت اور اور قرابت کا جو رشتہ بنا وہ پی پی پی کی محبت میں بدل گیا۔(کالم کے ساتھ خالد کھرل کی 1977 کی تصویر ہے جس میں وہ لاڑکانہ ائر پورٹ پر سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بحٹو کے ساتھ موجود ہیں ) جب پی۔این۔اے کی تحریک چلی تو مَیں ان دنوں لاڑکانہ میں امن قائم کرنے میں کامیاب رہا۔ حالانکہ لاڑکانہ میں بھی جماعت اسلامی نے ہنگامے اور ہڑتالیں کرانے کی کوشش کی لیکن میری حکمتِ عملی کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ میری یہی خوبی بھٹو صاحب کو پسند آئی جو بعد میں پی پی میں شمولیت کر کے مَیں نے بھٹو صاحب سے پنے تعلق کو مزید مضبوط کر لیا۔ ضیاءدور میں جب مجھ پر گھیرا تنگ ہوا تو مَیں سب کچھ چھوڑ کر بیرونِ ملک چلا گیا۔ 1988ءکے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل واپس آیا تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے میری خدمات کو دیکھتے ہوئے 1988ءکے انتخابات میں این۔اے 71 ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ٹکٹ دیا لیکن مَیں اس انتخاب میں ناکام ہو گیا۔ محترمہ نے میری دلجوئی کے لیے اپنا مشیر برائے کابینہ امور اور اسٹیبلشمنٹ مقرر کر لیا۔ 1988ءسے 1990ءتک مَیں نے اپنے تمام سیاسی امور اور اپنے حلقے کے عوام کی خدمت پوری ایمانداری سے پورے کیے۔ مَیں نے بطور مشیر اپنے حلقے کے بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے بہت سے وسائل پیدا کیے۔
رائے خالد احمد خان کھرل اپنے سفر کی یادوں کو تازہ کر رہے تھے اوربتا رہے تھے 1993ءکے انتخابات میں جب ایم این اے منتخب ہوا تو محترمہ نے مجھے حسب منشا وزارت اطلاعات و نشریات کا وزیر بنایا۔ تو اس دور کا ریکارڈ گواہ ہے کہ جتنا ٹف ٹائم مَیں نے پنجاب حکومت اور نواز شریف کو دیا پی پی کی طرف سے کسی اور لیڈر نے نہیں دیا۔ بے نظیر بھٹو میری کارکردگی سے بہت خوش رہتی تھی۔ لیکن مَیں سمجھتا ہوں میرے حلقے نے مجھے اس روپ میں پسند نہ کیا کیونکہ 1997ءاور 2002ءکے انتخابات میں مجھے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ملسل سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے میری صحت خاصی متاثر ہوئی تو 2008ءمیں میرے بیٹے حیدر علی کھرل نے این اے 96 ٹوبہ سے پی پی کے ٹکٹ پر شکست کھائی تو مَیں نے یہ بات تسلیم کر لی میرے حلقے میں آج بھی اکثریت پی پی مخالف ووٹروں کی ہے۔ 2008ءمیں وفاق میں جب پی پی کی حکومت بنی تو انہوں نے مجھے اور میرے بیٹے کو بھلا کر رکھ دیا۔ پوری نشست کے دوران مجھے یہ محسوس ہوا کہ رائے خالد احمد خان کھرل کا جھکاؤ اب تحریکِ انصاف کی جانب ہے۔ شادی کی تقریب میں کھانا کھاتے ہوئے انہوں نے خاصا پرہیز کیا۔ سویٹ ڈش بھی نہ کھائی البتہ بعد میں انہوں نے میٹھی کشمیری چائے یہ کہہ کر پی لی کہ شاکر صاحب یہ چائے اس لیے پی رہا ہوں کہ کہیں شوگر ہی کم نہ ہو جائے۔ نشست کے اختتام میں ہم نے ایک دوسرے کے نمبر اپنے اپنے موبائل میں محفوظ کیے اور اس وعدے کے ساتھ مَیں نے ان سے اجازت لی کہ مَیں جب بھی کبھی لاہور آیا تو آپ سے لازمی رابطہ کروں گا۔
وقت گزرتا رہا۔ مَیں اس ملاقات کے بعد کئی مرتبہ لاہور گیا لیکن کبھی بھی ان سے ملاقات کا خیال نہ آیا۔ البتہ مَیں یہ ضرور سوچتا رہا ہوں کہ کسی دن اب ان کی تحریکِ انصاف میں شمولیت کی خبر آ جائے گی۔ کیونکہ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے دوران وہ عملی طور پر پی پی حکومت کے نقاد کے طور پر سامنے آ چکے تھے۔ کہ 2013ءکے انتخابات میں بھی وہ قابلِ ذکر کارکردگی نہ دکھا سکے اور پھر کافی دیر سیاست میں گوشہ نشین رہنے کے بعد 9 جنوری 2017ءکو اپنی سالی کے بیٹے فیصل صالح حیات کے بعد آصف علی زرداری کی پی پی میں شامل ہو گئے۔ یہ خبر پڑھنے کے بعد مَیں نے ان کے موبائل نمبر0300-8444672 پر رابطہ کیا تو ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ پھر دنیا کی نام نہاد مصروفیت آڑے آتی گئی اور وقت گزرتا گیا کہ 27 اگست 2017ءکو ان کے انتقال کی خبر آ گئی۔ پی پی کی تمام مرکزی قیادت نے جنازے میں شرکت کی یا بعد میں جا کر ان کے لواحقین سے تعزیت کی۔ 27 اگست سے لے کر آج تک مَیں روز اپنی عادت کے مطابق چھ قومی اخبارات کا روز مطالعہ کرتا ہوں لیکن یہ بات انتہائی افسوس سے لکھ رہا ہوں کہ اتنے دن گزرنے کے بعد کسی بھی کالم نگار نے ان کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ اس کی کیا وجہ ہو سکی ہے؟ اس کا جواب مَیں پی پی کے باوفا لیڈر ضیاءکھوکھر سے پوچھنا چاہتا تھا لیکن ضیاءکھوکھر خود کئی ہفتوں سے علیل ہیں۔ ایسے میں مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ ایکسپریس کے ذریعے ایک ایسی شخصیت کو یاد کر لیا جائے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایسا باب ہے جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker