کہتے ہیں جیسی روح ویسے فرشتے. . پاکستان میں اس وقت جس قسم کی سیاست دیکھنے میں آرہی ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیسے عوام ویسے حکمران.. اپوزیشن کے پے در پے وار سے حکمران جماعت بالخصوص وزیر اعظم کا بظاہر تو اپنی سیاسی ساکھ اور کرسی بچانا مشکل ہوچکا ہے لیکن اپوزیشن تاحال خود بھی بہت مضبوط قدموں پر نظر نہیں آرہی۔ پنجاب میں چوہدری برادران اور ترین گروپ کے بعد اب علیم خان گروپ بھی سامنے تو آگیا ہے، لیکن ان کی منطق بھی واضح نہیں ہے۔ اپنے اپنے حلقوں کے ترقیاتی کام سڑکیں. مرمت تھانیدار کی تبدیلیوں سمیت وزیراعلی کے رویے کے شکوے ہیں تو دوسری جانب وزیراعظم نے بھی وسیم اکرم پلس کو تبدیل نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جبکہ دونوں گروپوں کے اراکین اپنا وزن بڑھانے کی جستجو کررہے ہیں۔ تاہم لندن یاترا کے بعد ترین اور علیم کی صورتحال واضح ہوگی۔ چوہدری برادران بھی اپنا وزن بڑھانے کے لیے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال کر میل ملاپ کرنے میں مصروف ہیں۔ ایم کیو ایم اور چوہدری برادران آخر تک کسی کے ساتھ بھی اپنی واضح پوزیشن نہیں لیں گے۔
سوال اب یہ سامنے آتا ہے کہ ترین گروپ، علیم گروپ، چوہدری برادران ، ایم کیو ایم عمران خان کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن ، مولانا فضل الرحمن سمیت اپوزیشن کے ساتھ کیوں کھڑے ہوں گے؟ مہروں کی چالوں سے لگتا ایسے ہے کہ تمام دریا اکٹھے ہوکر ایک ہی سمندر میں جاگریں گے، جس کا نام عمران خان ہے۔ ترین ، علیم، چوہدری اور ایم کیو ایم بس اپنی باتیں منوانا یعنی چھوٹے چھوٹے این آر او چاہتے ہیں، اور وزیراعظم عمران خان کو بھی ان کو ریلیف دینے میں کوئی خا ص دقت نہیں ہوگی۔۔ ایم کیو ایم تو پہلے سے ہی اوپن ہے کہ وہ ہر حکمران کو اسی طرح ڈیل کرتے ہیں تاہم اہم کردار چوہدری برادران کا ہے، اگر وہ اپوزیشن کے ساتھ جاتے ہیں تو پھر انکی باقی ماندہ سیاست ختم ہوتی نظر آرہی ہے اور اگر عمران خان کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو جمہوریت کی بقاء کے لیے انکو مزید اہمیت ملے گی تاہم چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی دانستہ طور پر اپنا سیاسی قد بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں. پھر یہ بات طے ہے کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔
فیس بک کمینٹ

