دنیا بھر میں پھیلی کورونا کی وباءنے پاکستانیوں کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔دنیا بھر میں لاک ڈاﺅن کی صورت حال ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری اپنے عروج پر ہے لاکھوں مزدور اس حالیہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے مشکلات کا شکارہیں۔
پاکستان ایک غریب ملک ہے یہاں مزدوروں کو کسی آفت یا وباءمیں کوئی تحفظ حاصل نہیں کہ ان وباءکے دنوں میں وہ اپنے خاندان کی کفالت کس طرح کرپائیں گے ۔ اس وباءنے جہاں غریب طبقے کوفاقوں تک پہنچا دیا ہے بلکہ اس سے درمیانہ طبقہ بھی خاصی مشکلات کاشکارنظرآرہاہے۔
یہ وہ طبقہ ہے جو نہ تو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتا ہے اور نہ ہی کسی سے مانگ سکتاہے کیونکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ جو مخیرحضرات مدد کے نام پر لوگوں میں امداد تقسیم کرتے ہیں ان کے ساتھ فوٹوسیشن بھی کرواتے ہیں۔ میری ملاقات ایک پرائیویٹ سکول کے استاد سے ہوئی جس نے بتایا کہ اس کے سکول نے تنخواہ کی صورت میں وہ رقم بھی ادا نہیں کی جس کے وہ حقدارتھے ۔ان کاکہنا ہے کہ وہ بوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کاسہارا ہیں ۔ والدین بیمار بھی ہیں لیکن ان کو تو کھانے کے لالے پڑگئے ہیں ۔اس نےکہا میں صبح ایک دربار کے باہر جا کر بیٹھ جاتاہوں۔ منہ پر ماسک لگا کر کہ کہیں کوئی مجھے پہچان نہ لے تو میں وہاں سے جو تھوڑا بہت کھانے کا سامان ملتاہے اپنے گھر والوں کے دے دیتا ہوں اورخود پھرسے کوئی جگہ تلاش کرتا ہوں جہاں سے کھانے کےلئے کچھ مل سکے۔حکمرانوں کی طرف سے امداد کے دلاسے اور وعدے صرف بیانات تک ہی نظرآتے ہیں جبکہ عملی طورپر اس ضمن میں کچھ نہیں کیا جارہا۔ عوام بالکل مفلوک الحال ہوئی جارہی ہے۔ ریاست کو ماں کہا جاتا ہے مگر ماں کواپنے بچوں کا خیال ہی نہیں ہے اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اچھے کھاتے پیتے خاندان بھی انہی حالات کاشکارہوجائیں گے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ صاحب استطاعت لوگوں کواپنے جاننے والوں سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ان سے ان کے حالات بارے پوچھنا چاہیے اور ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جواس کے حقدار ہیں۔ عوام کو اس پریشان کن صورتحال میں ایک قوم بننے کی ضر ورت ہے۔
فیس بک کمینٹ

