شوکت اشفاقکالملکھاری

شوکت اشفاق کا کالم:شاہ محمود قریشی ثانی سلطان صلاح الدین ایوبی بن گئے؟

گزشتہ کئی دہائیوں میں ہر سال پیش ہونے والے بجٹ سے اس مرتبہ بھی عام آدمی نے بڑی امیدیں وابستہ کرلی ہیں مگر ہوتا یوں ہے کہ ہر قسم کے حکومتی دور میں بجٹ سیزن سے کچھ دن پہلے مثبت افواہوں کا ایک لا امتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے بجلی کی قیمتوں میں کمی سے لے کر پٹرولیم پراڈکٹ کے ارزاں ہونے کے ساتھ مہنگائی کی شرح میں جادوئی کمی کے تذکرے حکومتی ایوانوں سے تواتر کے ساتھ نشر اور اخبارات کے صفحہ اول کی زینت بنتے ہیں پھر آہستہ آہستہ جب بجٹ کے اعلان کے دن قریب آنے لگتے ہیں تو اشیائے ضرورت کی چیزوں سے لے کر کاروں موٹروں اور بجلی،پٹرول سمیت تمام اشیاء کی قیمتوں میں اچانک ”نامعلوم“طریقے سے اضافہ ہوجاتا ہے اور یوں جب بجٹ پیش ہوتا ہے تو جو قیمتیں بڑھ چکی ہوتی ہیں وہ شامل کرکے ”شفاف“اعداد و شمار دے دئیے جاتے ہیں اور بڑی سیاسی دیدہ دلیری سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے تاریخ کا بہترین بجٹ دیا ہے قیمتیں تو بجٹ سے پہلے ہی بڑھ چکی تھیں اپنے ہی ایجنڈے پر رواں دواں اپوزیشن ایک ہی گھسا پٹا جملہ دہرا دیتی ہے کہ بجٹ عوام دشمن اور اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہے جبکہ حکومت کا اصرار ہوتا ہے کہ اس سے بہتر بجٹ دیاہی نہیں جاسکتا تھا اب کی مرتبہ بھی کچھ مختلف نہیں ہوگا یہاں البتہ عام آدمی مزید متاثر ہوگا۔جس کا ازالہ کم از کم ایسی حکومتوں کے پاس تو نہیں ہے کہ اس وقت صرف آٹو موبائیل سیکٹر کے کھلاڑیوں نے نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں تین لاکھ روپیہ تک اضافہ کردیا ہے جبکہ بلیک میں فی گاڑی 2سے 7لاکھ روپیہ الگ ہے جو یقینا تبدیلی سرکار کی آنکھوں سے اوجھل ہے لہذا ضروری ہے کہ آنے والے بجٹ سے بہتر ی کی توقع کی بجائے بچاؤ کی تدبیر کی جائے۔
ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ میں فلسطین کے مسئلہ پر مختلف ممالک کے فورم پر شرکت کے بعد ملتان پہنچے تو انہیں ان کے ”حامیوں“نے سلطان صلاح الدین ایوبی ثانی کا خطاب دے دیا لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کون سی جنگ جیت کر آئے تھے کیونکہ فلسطین میں جنگ بندی کا کریڈٹ تو کئی دوسرے ممالک کلیم کررہے ہیں جنہوں نے سفارتی سطح پر اسرائیل پر دباؤ دیا کہ وہ فلسطین کی شہری آبادی پر بم باری فورا روکے اور حماس سمیت دوسرے گروپ میزائل فائر کرنا بند کریں،جو جنگ بندی کی صورت میں طے پایا گیا البتہ یہ سلطان صلاح الدین ایوبی والی اصطلاح سمجھ سے بالا تر ہے کہ وزیر خارجہ آمدہ معلومات کے مطابق نہ تو فلسطین میں بم باری کی جگہ گئے ہیں اور نہ جنگ میں متحرک حصہ لیا ہے یہاں سفارت کاری میں وہ ترکی سمیت ان ملکوں کے ساتھ ہیں جو جنگ بندی کیلئے متحرک تھے۔
وزیر خارجہ نے ملتان میں اخبارات کے ایڈیٹر زاور کچھ اخبار نویسوں سے خصوصی ملاقات بھی کی جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان اس وقت جیو پولیٹکل کی بجائے جیو اکنامک کی سفارت کاری پر توجہ کررہا ہے کہ اگر ہماری اکنامی ٹھیک ہوگی تو ہماری بات بین الاقوامی طور پر سنی جائے گی ان کی یہ بات تو کچھ سمجھ میں آتی ہے لیکن دوسری طرف وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء پر واضع نہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ روس اور نو آباد ریاستوں سمیت بھارت کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات بہتر بنانے کے عمل پر کام ہورہا ہے جس کیلئے ازبکستان سے پاکستان تک گیس پائپ لائن بھی جلد شروع ہوگی ان کا مدعا یہ تھا کہ ہم دنیا کے دوسرے ریجنل کواپریشن اور یونینز کی طرح اس ریجن میں بھی اس پر کام کررہے ہیں یہ یقینا اس خطے کیلئے ایک خوش آئند بات ہوسکتی ہے لیکن وزیر خارجہ اس تمام اہم گفتگو میں ایران کے کردار میں بالکل بات نہیں کی اس پائپ لائن کے بارے میں بھی خاموشی رکھی جو تفتان تک بچھ چکی ہے یہاں البتہ انہوں نے یہ اعادہ کیا کہ بھارت کے ساتھ یہ بات کشمیر کے مسئلہ کے حل پر منحصر ہوگی۔سفارت کاری پرعالمی یوٹرن پاکستان کیلئے کس قدر بہتر ثابت ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
دوسری جانب پنجاب اور سندھ کی سرحد پر واقع گھوٹکی کے قریب ملت ایکسپریس کی بوگیاں بوجہ ڈی ریل ہوگئیں اور ساتھ گزرنے والی ٹرین سرسید ایکسپریس سے ٹکرا گئیں دونوں ٹرینیں سپیڈ میں تھیں اب تک درجنوں مسافروں کے جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔پاکستان ریلوے کی تاریخ میں اسی علاقے میں یہ چوتھا حادثہ ہے جو یقینا ایک ہولناک اور قابل افسوس ہے اس سے قبل ریل میں جتنے حادثات ہوئے ہیں وہ تقریبا انسانی غلطی کا ہی نتیجہ تھے اس مرتبہ بھی ریلوے حکام نے اعلامیہ جاری کیا ہے اور عینی شاہدین کے مطابق اگر ریل کے کمیونیکشن کا نظام درست ہوتا تو یہ حادثہ رک اور انسانی جانوں کا ضیاع بچ سکتا تھا۔یہ بات بہت افسوس ناک ہے کہ پے درپے حادثات کے باوجود نہ تو حکومت کے کان پر جوں رینگتی ہے اور نہ ہی ریلوے حکام اپنی روش تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا تمام تر نقصان عام آدمی اور غریب آدمی کا ہوتا ہے اور کمال یہ ہے ایسے متعدد خوفناک اور ہولناک حادثات کی ذمہ داری نچلے درجے کے کسی ملازم پر ڈال کر تمام ”بڑے“بچ نکلیں گے جس طرح کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے۔
ادھر عید الاضحی کی آمد سے قبل صوبے بھر کی مویشی منڈیوں پر نہ صرف پرچی ٹیکس دوبارہ لاگو کردیا گیا ہے بلکہ ان مویشی منڈیوں کو ایک مرتبہ پھر ٹھیکیدار مافیا کے حوالے کرنے کیلئے نیلامی کا حکم بھی دے دیا گیا ہے واضع رہے کہ گزشتہ حکومت میں بیوپاری اور لائیو سٹاک پالنے والوں اور خریداروں کو ریلیف دینے کیلئے ٹھیکیداری سسٹم ختم کرکے نہ صرف اوپن کردیا گیا تھا بلکہ عید پر شہروں اور قصبوں میں فروخت کنندگان اور خریداروں کیلئے سہولتوں کا بندوبست بھی کیا تھا اب یہ سسٹم ختم اور پرانا سسٹم بحال ہونے سے قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker