تجزیےشوکت اشفاقلکھاری

پی ڈی ایم کا جلسہ اور کروڑوں روپے کے سرکاری اخراجات ۔۔شوکت اشفاق

اور جلسہ ہوگیا،باوجود اس کے کہ حکمران جماعت نے ناکام بنانے کیلئے حتی المقدور کوشش کی البتہ اس سارے کھیل میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی سمیت مقامی عہدیداروں کو اپنا سیاسی کردار ادا نہیں کرنے دیا گیا اور تمام اختیارات انتظامیہ اور پولیس کو دئیے گئے جنہوں نے ماضی کی طرح ہی اپنا ”مثبت“کردار ادا کیا اورعوامی ٹیکس کے ذریعے جمع ہونے والے سرکاری خزانے کو عام آدمی کے خلاف بے دریغ خرچ کیا لیکن کچھ بھی نہ کرسکے،ریاستی رٹ کی سبکی کرائی اوراپوزیشن کے حق میں رائے عامہ تبدیل کرانےمیں اہم کردار ادا کیا۔شاید یہ پہلی مرتبہ ہی ہوا ہوگا کہ موبائل فون سروس کی بندش کے ساتھ لینڈ لائن فون اور انٹرنیٹ بھی رات گئے بند رکھے گئے جس سے ملتان کا رابط ملک سمیت پوری دنیا سےسولہ گھنٹے تک کٹا رہا جو عالمی افق پر پی ڈی ایم کی آواز سنائی دینے کیلئے کافی تھا،ملتان کی انتظامیہ اور پولیس نے اپوزیشن کو وہ راستہ دیا ہے جو وہ آئندہ چھ ماہ تک طے نہیں کرسکتے تھے اور کوشش کے باوجود شاید بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اپنی طرف متوجہ نہ کرسکتے لیکن سرکاری اہلکاروں نے سرکاری خرچ پہ یہ کارنامہ مکمل سرانجام دلوادیا ہے کیونکہ موبائل اور لینڈ لائن فون کی بندش بھی عام لوگوں کو جلسہ میں آنے سے نہیں روک سکی اب کم ازکم پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ خالی بیان بازی پر تکیہ کرنے کی بجائے جلسہ کی روک تھام کیلئے خرچ ہونے والے کروڑوں روپے اور مواصلاتی نظام بند کرنے سے اربوں روپے کے نقصان کا تو حساب لے لیں کیونکہ وفاقی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تو کہہ دیا ہے کہ جلسہ کو صیحح طریقے سے ہینڈل نہیں کیا گیا اور پنجاب حکومت کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کا مشورہ بھی دیا ہے۔
ویسے ان کا مذکورہ بیان ایک ایسی بے بسی ہے جو چیخ چیخ کر یہ نشاندہی کررہی ہے کہ حکومتی اور انتظامی امور میں طاقت کس کے پاس ہے اور بیان بازی کا اختیار کسے دیا گیا ہے جو حکومتی گھبراہٹ کو واضح کرتا ہے اب اسی گھبراہٹ میں قلعہ کہنہ قاسم باغ کے کرکٹ سٹیڈیم کو بند کرکے دراصل پی ڈی ایم کو واک اوور دیا گیاکہ اسے بھرنا مشکل ہوجانا تھا۔
اب اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا کہ ایسا کیوں ہوا۔
ادھر وفاقی اور صوبائی وزراء سمیت ترجمان ایک ہی طرح کے اپوزیشن مخالف بیانات جاری کرکے مطمئن ہیں کہ عام آدمی کو زبانی کلامی ریلیف مل رہا ہے مگر ایسا نہیں ہے عام آدمی پریشانی کی آخری حد پر جا چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کو جلسہ گاہ بھر نے میں زیادہ تردود نہیں کرنا پڑتا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور ان کے ترجمان کہتے ہیں کہ ملتان شو بری طرح ناکام ہوا مگر حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں خصوصاً سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سمیت دوسرے رہنماؤں نے ایک مرتبہ پھر سیاسی غلبہ کر لیا ہے جو گزشتہ عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف کو حاصل ہو چکا تھا اور جلسے کی تیاریوں کے دوران تحریک انصاف کا کوئی نام ہو سامنے نہیں آ سکا۔
ادھر ملتان کے ہی جلسہ میں پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی نواسی اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کی پہلی مرتبہ جلسہ میں خطاب کروا کر سیاست میں باقاعدہ آغاز کروایا گیا جس کا سہرا یقینا سید یوسف رضا گیلانی کو جاتا ہے، آصفہ بھٹو زرداری نے انتہائی اعتماد کے ساتھ نپے تلے الفاظ کے ساتھ بہترین تقریر کی اور حکمرانوں کو سلیکٹڈ قرار دے کر گھر جانے کا مشورہ دیا اور شرکاء جلسہ کو مبارکباد دی کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے 54ویں یوم تاسیس کو کامیاب بنایا، اسی جلسے میں ایک وقت ایسا آیا کہ تین سابق وزراء اعظم میاں نواز شریف‘ بے نظیر بھٹو کی بیٹیاں اور سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کنٹینر سٹیج پر موجود تھے جو سیاست میں برداشت اور مقابلہ کی ایک اچھی مثال تھی۔
پی ڈی ایم کے سر براہ مولانا فضل الرحمن نے جلسہ کو عمران خان کے خلاف سیاست سے بے دخلی قرار دیا اور اعلان کیا کہ آئندہ سے ہر جمعہ‘ ہفتہ اور اتوار کو ملک گیر احتجاج ہو گا جو حکومت کی رخصتی تک جاری رہے گا اور اعادہ کیا کہ حکومت کو ملتان سے بھگایا ہے اب اسلام آباد سے بھی بھگائیں گے، مریم نواز نے جلسہ کو حکومت کے خلاف تحریک کا آخری مرحلہ قرار دیا اور کہا کہ لاہور کا جلسہ تحریک انصاف کی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا، سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ جلسہ رکوانے کیلئے بیٹوں کو نا جائز گرفتار کیا گیا لیکن ہم گھبراتے نہیں اور کارکنوں نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا،بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اختر مینگل نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر سیاست کرنی ہے تو میدان میں آ کر کریں ہم گالی کا جواب پتھر سے دیں گے جلسہ سے دیگر قائدین کے ہمراہ محمود خان اچکزئی اور میاں افتخار نے بھی خطاب کیا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker