آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: ہنسنے کی کیا بات ہے؟

سچ پوچھیں تو مجھے یہ ہنسی ٹھٹھول، بے وجہ کی ٹھٹھا بازی، ہی ہی ہا ہا بالکل پسند نہیں۔ خاص کر جب ذمہ دار عہدوں پہ بیٹھے لوگوں کے بیانات پہ لوگ باگ ہنسے جاتے ہیں، جگتیں لگائے جاتے ہیں، لوٹ پوٹ ہوئے جاتے ہیں تو مجھے بہت غصہ آتا ہے۔
ایسا جی چاہتا ہے کہ ایک ایک کو پکڑ کے پوچھوں کہ بھئی یہ کوئی ہنسنے کی بات ہے؟؟
ابھی کچھ روز پہلے کی بات سنیے۔ ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ ایلف شفق صاحبہ کا ناول’چالیس چراغ عشق کے’ پڑھیے۔
اس میں ہنسنے کی کیا بات تھی؟ کیا آپ نے تاریخ میں کوئی ایسا وزیر اعظم دیکھا جو فرصت کے اوقات میں پڑھنے کے لیے کتابیں بھی بتاتا ہو؟ نہیں دیکھا نا۔ یہ جو منہ پھاڑ پھاڑ کے ہنس رہے ہیں انھوں نے بھی نہیں دیکھا۔
‘چالیس چراغ عشق کے’ ہماری بہت پیاری دوست ہما نے ترجمہ کیا اور بہت ہی شفیق، فرخ صاحب نے شائع کیا۔
ہم نے پڑھا اور سچ پوچھیں تو ناول برا نہیں۔ لوگوں کے ہنسنے کی وجہ ہمیں بالکل سمجھ نہیں آ رہی۔
اسی طرح کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم صاحب نے آمدن بڑھانے کے لیے مرغیاں پالنے کی تحریک دی تو لگے اس پہ کھی کھی کھو کھو کرنے لگے۔
خدا کے بندو! ہوش کے ناخن لو، مرغی پالنے میں ہنسنا کیسا؟ پھر جب بھی خان صاحب کہتے ہیں کہ میں انھیں این آر او نہیں دوں گا، یہ بدتمیز پھر ہنسنے لگتے ہیں۔
خان صاحب نے فرمایا آپ نے گھبرانا نہیں ہے اور ان کا ہاسا نکل گیا۔
حد تو یہ کہ آج کل اس بات پہ ہنس ہنس کے دہرے ہوئے جا رہے ہیں کہ عمران خان صاحب نے کہا کہ ‘ یونس ایمرے’ دیکھو۔ اب یہ تو کھلی بد تمیزی ہے۔
خان صاحب نے کہا کہ ہم روحانیت کو سپر سائنس بنائیں گے، یہ لوگ لوٹ پوٹ گئے۔ اگر یہ کہتے ہوئے وہ روحانیت کو روحونیت کہہ گئے تھے تو اس میں اس قدر ہنسنے کی کیا ضرورت ہے؟
خان صاحب نے کہا تھا کہ ہم وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنائیں گے تو یہ اس بات پہ بھی ہنسے تھے۔
نواز شریف صاحب باہر چلے گئے تھے اور خان صاحب اس بات پہ ناخوش تھے تو یہ ناشدنی تب بھی ہنس رہے تھے۔
عمران خان صاحب نے کہا کہ ‘مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یو ٹرن لینا عظیم لیڈر شپ کی شناخت ہوتی ہے۔’
یہ سننا تھا کہ یہ سب پیٹ پکڑ کر لوٹ گئے اور اس قدر ہنسے کہ منہ سے بات نہ نکلتی تھی۔ کئی لوگوں کی تو ہنستے ہنستے پسلیاں چڑھ گئیں اور پہلوان سے اجرت پہ بٹھوانی پڑیں۔
لیکن اب ایسی بھی کیا بات کہہ دی تھی کہ ہنستے ہنستے جان پہ بن آئی۔ انصاف سے بتائیے ان میں سے کوئی ایک بات بھی ایسی ہے کہ جس پہ ہنسا جائے ؟
ان ہنسنے والوں کی حس مزاح یقیناً بہت بری ہے۔ ان تمام باتوں پہ ہمیں تو ہنسنے کی بجائے رونا آتا ہے اور اس قدر رونا آتا ہے کہ ہچکی بندھ جاتی ہے۔
ہچکی سے یاد آیا کہ ہنسنے والےتو اس بات پہ بھی ہنسے کہ کسی نے ان کو فلم ‘ہچکی’ دیکھنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ نظام انصاف کو سمجھ سکیں۔
کھوج کی تو پتا چلا کہ یہ فرمان وزیراعظم صاحب کا نہیں تھا۔
شکر ہے ورنہ بے چارے شریف آدمی پہ یہ الزام بھی لگ جاتا کہ بھارتی فلموں کی مفت مشہوری کرتا ہے۔
ارے ہائیں ؟ اب یہ کیا بات ہوئی ؟ اسحاق ڈار صاحب کا ہارڈ ٹاک میں انٹرویو سن کے تو آپ نہیں ہنسے تھے خان صاحب اور حمزہ علی عباسی کے انٹرویو پہ آپ کا ہاسا نکل رہا ہے۔
یہ ہی بات مجھے ناگوار گزرتی ہے۔ انٹرویو ابھی سنا نہیں اور ہنسے جا رہے ہیں، ہنسے جارہے ہیں۔
کل کو جب یہ پانچ برس یوں ہی ہنستے کھیلتے گزر جائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جن باتوں پہ آپ ہنستے رہے تھے، وہ ہنسنے کی نہیں تھیں۔
لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی ۔
ابھی وقت ہے غور کر لیجیے خان صاحب جو کہہ رہے ہیں سمجھ لیجیے ۔
ان کی باتوں میں بڑی گہری رمزیں ہیں۔اگر آپ نے ڈان براؤن کا ناول ‘دی ڈاونچی کوڈ’ پڑھا ہوتا تو آپ کبھی یوں احمقوں کی طرح منہ پھاڑ پھاڑ کے نہ ہنستے ۔
بلکہ ان تمام رمزوں کو سمجھ کے اپنے تمام معاشی اور سماجی مسائل کا حل ڈھونڈ چکے ہوتے۔
ب بھی کچھ نہیں بگڑا ، اس ہنسی ٹھٹھول سے تائب ہوں، خان صاحب کے سارے بیانات کو دوبارہ پڑھیں غور سے پڑھیں، سمجھیں اور اگر آپ ان کی تہہ تک پہنچ گئے ( جو کہ مشکل ہی ہے) تو یقین کیجئےاس کے بعد زندگی بھر ہنسی تو کیا آپ کے چہرے پہ مسکراہٹ بھی آ گئی تو بڑی بات ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker