تجزیےشوکت اشفاقلکھاری

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ متنازعہ!۔۔سرائیکی خطہ تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا ۔۔شوکت اشفاق

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا منشور موم کی ناک جیسا ہوتا ہے جب چاہا مرضی کے مطابق ڈھال لیا درحقیقت صرف عام انتخابات کے دنوں میں یہ دستاویز خواص تک پہنچتی ہے اور پھر شیلف میں ”بُک“ہوجاتی ہے عوام تک صرف بڑھکیں ہی پہنچ پاتی ہیں جو وقتی طور پر حقیقت کے قریب لگتی ہیں مگر اس وقت سراب بن جاتی ہیں جب یہ بڑھک باز اقتدار میں آتے ہیں ۔
مذہبی جماعتوں کا مسئلہ لے لیں تو ان کے منشور میں اسلام کا نفاذ اولین شق ہے مگر شامل اقتدار ہونے کے باوجود ایک آیت بھی نافذ نہیں کروا سکتے، پیپلز پارٹی جمہوریت کا دعویٰ کرتی ہے مگر اقتدار میں غیر جمہوری رویے اختیار کرتی ہے، مسلم لیگ (کوئی بھی دھڑا)خالق جماعت کی دعویٰ داری اور ملک زمین سے اٹھا کر آسمان تک پہنچانے کی کوشش ناکام ہوجاتی ہے،قوم پرست جماعتوں میں قوم پرستی کے علاوہ ہر خیال مل جاتا ہے۔
تبدیلی سمیت دو سو ارب ڈالر کی سوئزر لینڈ کے بینکو ں سے واپسی،سو سے زیادہ معاشی ماہرین کی ٹیم کے ساتھ ملک کی معیشت کو بام عروج پہنچانے،انصاف کی فراہمی، رشوت کا خاتمہ اور کرپشن فری،کرپٹ سیاستدانوں اور اہلکاروں سے چھٹکارہ اور محض 100دنوں میں پنجاب کی تقسیم کرکے جنوبی پنجاب کو الگ صوبے کا تشخص دینا شامل تھا۔لیکن ماسوائے پچھلی حکومتوں پر تبرا بھیجنے کے عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہورہا،ہاں البتہ ایک کمال کا کام کیا ہے جس پر پچھلی حکومتیں بوجوہ گریزاں رہیں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے اس اہم ایشو پر اپنی بات منواتی رہیں کہ وہ ملکی کرنسی کو مزید ڈی ویلیو نہیں کریں گے،ان کا مثبت پہلو تھا اور یہی وجہ رہی کہ ملک میں مہنگائی کا وہ سیلاب نہ آسکا جو موجودہ حکومت نے خاموشی کے ساتھ کردیا اور گزشتہ بہتر سال میں ڈی ویلیوشن کے سفر کومحض دو ماہ میں 65فیصد انحطاط میں ڈال دیا۔اب یہی مہنگائی کی وجہ ہے جو لکھنے کی ضرورت نہیں آپ خود جمع منفی کرلیں کہ گندم سے لے کر پٹرول سمیت تمام اشیاء کم ازکم 65فیصد مہنگی ہوئی ہیں جبکہ کچھ میں توقع سے تین سو فیصد بھی اضافہ ہوا ہے جس میں جان بچانے والی ادویات،جنرل ادویات،گیس اور آٹو انڈسٹری شامل ہے لیکن کمال ہے حکومت کے میڈیا منیجرز کا انہوں نے سابقہ حکومتوں کے سر یہ بلا ڈالنے کیلئے راگ الاپنے کا ریاض کررکھا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ عام آدمی اصل مسئلہ کو چھوڑ کر ان کے ساتھ شامل واجا ہوجاتا ہے یعنی اصل مسئلہ کو چھوڑ کر غیر اہم مسئلہ کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔
ٹھیک اسی طرح جیسا کہ انہوں نے 22ماہ کی مسلسل خاموشی کو چھوڑتے ہوئے اچانک اس بجٹ میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کا بجٹ میں فنڈ رکھ کر اعلان کردیا اور ایک عدد ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کی فوری طور پر تعیناتی بھی کردی، اول الذکر نے بہاولپور میں چارج سنبھال لیا اور دوسرے نے ملتان میں حاضری لگا لی۔وجہ یہ بیان کی گئی کہ ہر دو افسران دو دن بہاولپور،دو دن ملتان اور ایک دن ڈیرہ غازی خان میں بیٹھیں گے۔ انتظامی امور کی نئی اصطلاح متعارف کروائی گئی ہے کہ ہر دو افسران کے تینو ں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پر کیمپ آفس ہوں گے لیکن یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ کیمپ آفس کس قانون کے تحت ہوں گے،ان دونوں افسروں سمیت مزید سیکرٹریز کی تقرری بھی متوقع ہے یہ انتظامی حکم نامہ ہے مگر آئینی طو ر پر اس کا کوئی وجود نہیں ہوگا ٹھیک اسی طرح کہ جس طرح کسی پبلک آفس کا کوئی کیمپ آفس قائم کرنے کا آئینی یا قانونی طور پر گنجائش نہیں ہے۔صدر مملکت،وزیر اعظم،وزراء،وزرا علیٰ،گورنرز سمیت تمام سول سرونٹس کسی قسم کا کوئی کیمپ آفس قائم کرنے کے مجاز نہیں ہیں لیکن آٹھ کروڑ سے زیادہ آبادی کے اس پورے ریجن کو لاہور سے یہاں کیمپ آفس بنا کر عام آدمی کی خدمت کرنے کی ”خواہش“پوری کی جارہی ہے ایک طرف حکومت ریٹائرمنٹ کی عمر کم کرنے،قبل از وقت ریٹائرمنٹ اور سرکاری اداروں میں عرصہ دراز سے خالی پوسٹوں کو ختم کرنے اور ان پر بھرتی نہ کرنے کا فیصلہ کررہی ہے تو دوسری طرف جنوبی پنجاب میں کیمپ آفس کے نام پر دھڑا دھڑ تقرریاں اور آمد و رفت کیلئے مہنگی اور لگثرری گاڑیاں خریدنے کیلئے ڈیڑ ھ ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرچکی ہے اوروہ بھی محض کیمپ آفس کیلئے جس کا کریڈیٹ لینے کیلئے سرکاری میڈیا منیجرز دن رات ایک کئے ہوئے جھوٹ پر مبنی بیانات جاری کررہے ہیں حالانکہ وعدہ تو پہلے سو دن میں الگ صوبے کے قیام کا تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے اور اسے جنوبی پنجاب کے عوام میں نفرت کا بیج قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے دانستہ اس علاقے کے ساتھ تاریخی اور سیاسی دغا اور مقامی لوگوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کی ہے،جنوبی پنجاب جو یک زبان الگ صوبے کیلئے جدوجہد کررہا تھا اب تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے،جو آنے والے وقتوں میں سیاسی اور انتظامی خرابی کا باعث ہوگا،انہوں نے واضع کہا کہ ملتان صوبے کی تاریخ اور شناخت ہزاروں سال پرانی ہے جس کے ساتھ مذاق کیاگیا ہے۔حکومت نے جس طرح عام آدمی کو آٹا،چینی اور دیگر مسائل میں الجھایا ہوا ہے اسی طرح جنوبی پنجاب صوبے کے مسئلہ کو بھی الجھا دیا گیا ہے مگر یاد رہے کہ بہاولپور سیکرٹریٹ کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔
ادھر وفاقی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ملتان کو جنوبی پنجاب کے انتظامی امور میں نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور سیکرٹریٹ مکمل فعال ہوگا جہاں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہفتے میں تین دن موجود رہیں گے اور پی ٹی آئی منشور کے مطابق جنوبی پنجاب کے لوگوں کو انصاف ان کی دہلیز پر ہی مہیا ہوگا،لیکن دوسری طرف تعینات ہونے والے ایڈیشنل چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان جن کا تعلق رحیم یار خان سے ہے کچھ اور کہتے ہیں وہ بہاولپور کو ہی سیکرٹریٹ کیلئے موزوں قرار دیتے ہیں اور ملتان میں کیمپ آفس کی بات کرتے ہیں باقی ان کی تمام باتیں سیاسی ہیں انتظامی نہیں وہ پی ٹی آئی کی حکومت کو دفاع کرتے نظر آتے ہیں البتہ ایک بات بڑی اہم دیکھنے میں آئی ہے کہ بہاولپور اور ملتان میں میڈیا سے بات چیت کے دوران پی ٹی آئی کا کوئی رکن اسمبلی موجود نہیں تھا حالانکہ ملتان کے ارکان اسمبلی تو تحصیل داراور سب انسپکٹر کی پریس کانفرنس میں شریک ہوتے ہیں کریڈٹ لینے کیلئے سرکٹ ہاؤس سے کیوں غائب تھے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں کس نے یہاں سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے روکا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت روایتی اور سوشل میڈیا پر ضلع ملتان کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے خلاف زبر دست ٹرینڈ بنا ہے اور انہیں گمشدہ قرار دے کر تلاش کی اپیل کی گئی ہے،ملتان کے بیٹے /سپوت ہونے کا دعویٰ کرنے والے کہاں چلے گئے لیکن پارلیمانی سیکرٹری ندیم قریشی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ کسی کا بیان آیا ہے نہ آواز سنائی دی ہے۔سوشل میڈیا پر لوگ سوال کررہے ہیں کہ اب ووٹ کس منہ سے مانگیں گے یعنی مخدوم جاوید ہاشمی کی بات درست ثابت ہورہی ہے۔
ادھر سابق جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ محاذ کے کنونیئر طاہر بشیر چیمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن)میں فارورڈ بلاک بنانے کیلئے مطلوبہ تعداد پوری ہے اور ارکان رابطے میں ہیں اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنانے سے اپوزیشن پر دباؤ آئے گا لیکن جنوبی پنجاب کے سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اپنی ساکھ بچانے کیلئے ایسے ارکان کے ذریعے بیان بازی کرو ا کر تحریک انصا ف کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل رہے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کے ارکان صوبائی اسمبلی کی بڑی تعداد ان کے سخت خلاف ہے جو دراصل کسی بھی وقت بغاوت کرسکتے ہیں مگر جب ضرورت پڑے گی تو،اس لئے اس وقت پنجاب حکومت میں ایسے ارکان اسمبلی کے کام بالکل نہیں رکتے جبکہ پی ٹی آئی والے محض پریشانی میں ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker