دیکھو اگر تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے تو تم اپنا فون یا فیس بک کے ان باکس میں میرے میسجز کو دیکھو جو میں نے 11 سال پہلے تمہیں کیے تھےمیسجز کے باوجود جب تم نے مجھے ایک بار بھی جواب دینا گوارا نہیں کیا تو میں نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا اور اس سے دعا کی کہ تمہیں میرے نصیب میں لکھ دے۔
دیکھو اگر تم ایک اچھے گھرانے کی پڑھی لکھی سلجھی ہوئی اور خوبصورت عورت ہو تو میں بھی کوئی لچا لفنگا ان پڑھ شخص نہیں ہوں میں بھی ایک پڑھا لکھا ،پی ایچ ڈی اور حافظ قران شخص ہوں اور میرا تعلق ایک نامی گرامی باشعور سیاسی گھرانے سے ہے بس میں تم سے ایک بار درخواست کرتا ہوں کہ مجھ سے ایک بار مل کر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرو اگر تم مل کر بھی انکار کر دو گی تو میرا وعدہ ہے میں پھر کبھی دوبارہ تمہارے راستے میں نہیں آؤں گا
اس نے اس کے لہجے کی عاجزی اور تڑپ کو محسوس کیا تو اس سے مل کر اس کے پروپوزل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا سوچا کیونکہ اپنی زندگی کا یہ اہم ترین فیصلہ اسے خود کرنا تھا ۔۔
کیونکہ اللہ کے علاوہ اس کا کوئی آسرانہیں تھا اور بہن بھائیوں کا اور والدین کا ساتھ بھی نہیں تھااور پھر صرف دو ماہ کے بعد ہی جب وہ اس سے نکاح کے بعد پہلی صبح اٹھی اور اس کی محبت میں شرابور اپنی قسمت پہ رشک کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل رہی تھی تو باہر کی آوازوں نے اس کے قدم ایک دم روک دیے وہ اپنے دوستوں کو اس کو پا لینے کی داستان بڑے چسکے لیکرسنا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ دیکھا یہ خود کو بڑا ذہین و فطین اور کامیاب انسان سمجھتی تھی اور کتنی بے وقوف نکلی کہ میرے چند لفظوں اور قسموں پہ اپنا سب کچھ گنوا بیٹھی اس کی زندگی بھر کی محنت کی کمائی بھی میں محبت کے نام پہ اپنے نام کر چکا ہوں اب دو چار دن یہ میرے ساتھ کے مزے اٹھائے اور پھر اسے دفع کر دوں گا۔کانوں میں سیسہ انڈیلتے ان لفظوں سے اسے اپنے ارد گرد کے تمام منظر، تمام راستے، تمام قدم ،تمام لفظ صرف اور صرف اپنے اوپر قہقہہ لگاتے ہوئے سنائی دے رہے تھے اس کے چار سو اب صرف قہقہے ہی قہقہے تھے
فیس بک کمینٹ

