آنچلاختصارئےسدرہ اشرفلکھاری

پاکستانی مدر ٹریسا : مادام رتھ فاؤ کو آخری سلام ۔ ۔سدرہ اشرف

سماجی خدمت کا جذبہ سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ اس کی سب سے بڑی اور امر ہو جانے والی مثال پاکستان کے غریب کوڑھیوں کے لئے اپنی جوانی کا سنہری دور اور بڑھاپا نذر کردینے والی پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر رتھ فاؤ ہے۔ وہ 10 اگست کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں ۔ جذام کے مریض اپنی مسیحا اور خدمت گار سے محروم ہو گئے ۔ جذام یعنی کوڑھ کے مریضوً‌ں سے سگے رشتے دار بھی اچھوت سمجھ کر منہ موڑ لیتے ہیں مگر ڈاکٹر رتھ فاؤ نے پوری زندگی ان کے لئے وقف کر دی تھی ۔ جوانی سے بڑھاپا۔۔ کہنے کو تو یہ ایک جملہ ہے مگر حقیقت میں یہ ان گنت صدیوں کا سفر ہوتا ہے۔ کم عمری اور جوانی میں جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک کو چھوڑ کر پاکستانی معاشرے کی پسماندگی کاحصہ بننا آسان نہ تھا۔ مگر انسانیت کی خدمت کیلئے ڈاکٹر رتھ فاؤ ایسا کر گزریں اور ہمارے معاشرے کی روایات کو اپنا لیا۔ بطور مسیحا جذام کے مریضوں کیلئے زندگی کا سنہری دور وقف کر دیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ کوڑھیوں کو چھونے سے لوگ مرتے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتے ہیں ۔
انسانیت کے جذبے سے سرشار اس عظیم خاتون کی دنیا میں آنے اور پاکستان کی مدر ٹریسا بننے تک کی کہانی یہ ہے کہ ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ المعروف رتھ فاؤ ستمبر 1929 ء میں جرمنی کے شہر لائزگ میں پیدا ہوئیں ۔ رتھ فاؤ جرمن ڈاکٹر، سرجن اور سوسائیٹی آؤ ڈاٹرز آف دی ہارٹ آؤ میری نامی تنظیم کی رکن بھی تھیں۔ رتھ فاو درد دل رکھنے والی عورت تھیں ۔ زندگی کی خوبصورتیوں اور رعنائیوں کو پیروں تلے کچل کر انہوں نے اس وقت ایک عجیب فیصلہ کیا، جب وہ جرمنی سے کراچی آئیں اور پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا ، اس کے بعد وہ واپس جرمنی نہ گئیں۔ انہوں نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک، اپنی جوانی، اپنا خاندان اور اپنی زندگی وقف کر دی۔
انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹربنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا۔ لوگوں کا خیال تھا یہ مرض گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔ چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑدیتے تھے اور ان لوگوں کے لئے شہر سے باہر رہائش گاہیں بھی بنا دی گئی تھیں ۔اس خاتون کے لئے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ کرنا تھا اور انہوں نے ہمت سے کام لیتے ہوئے اپنی اس مہم کا آغاز کر دیا ۔ بیماری کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا ۔ یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی ۔اس کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا بھی دے دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کےعلاج سے کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہوتا گیا۔ اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی۔ یوں یہ سینٹر 1965ء تک ہسپتال کی شکل اختیار کر گیا۔ انہوں نے جذام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا، مخیر حضرات سےچندہ لینےکے باوجود ستر لاکھ روپے کم پڑ گئے جس پر رتھ کو بہت زیادہ پریشانی ہوئی اور یہ واپس جرمنی گئیں اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئیں۔ جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دئیے تو رتھ پاکستان میں جذام کے خلاف انقلاب لا سکیں۔ وہ پاکستان میں جذام کے سینٹر بناتی چلی گئیں اور ان سینٹرز کی تعداد 156 تک پہنچ گئی اور ڈاکٹروں نے 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی اور یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی بسرکرنے لگے۔
ان کی کوششوں سے سندھ ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جذام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ’’لپریسی کنٹرولڈ‘‘( جذام سے پاک ) ملک قرار دے دیا اور یوں پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک بن گیا جس میں جذام کا خاتمہ ہو گیا۔
حکومتِ پاکستان نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی اورڈاکٹر رتھ کو ہلال پاکستان، ستارہ قائداعظم، ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔ جرمن حکومت نے بھی انہیں آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ تمام اعزازات اور ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن اس باکمال خاتون کی شان میں جتنے بھی ایوارڈ پیش کئے جائیں کم ہیں۔ ڈاکٹر رتھ اس ملک کے ہر اس شہری کی محسن ہیں جو کوڑھ کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ خاتون ان کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل پاکستان نہ آتے اور اپنی زندگی اور وسائل اس ملک میں خرچ نہ کرتے تو شاید ہمارے ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں اس وقت لاکھوں کوڑھی پھر رہے ہوتے اور دنیا نے ہم پر اپنے دروازے بند کر دیے ہوتے ۔ ڈاکٹر رتھ کی ان بے مثال قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کر تے ہوئےصرف اتنا کہوں گی کہ یقینا انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے ۔تاہم فکری مندی یہ ہے کہ کوڑھیوں کا آسرا اب کون ہوگا۔کہیں پا کستان جذام کے مر ض میں ایک مر تبہ پھر1963 والی پوزیشن پر نتو نہیں چلا جائےگا ؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker