سندھعلاقائی رنگ

استاد راھموں: میرا من بھنبھور ۔۔ محمدخان داؤد

جب شیخ ایاز نے یہ الفاظ جی ایم سید کے لیے لکھے تھے کہ
“کتنا بوڑھا ہوچکا ہے وہ
پھر بھی پہاڑ سا لگتا ہے
جو لڑتا ہے
شیر کی طرح ،چنگاڑتا ہے
وہ تھکا نہیں
بس رُکا ہے
وہ کیوں رُکا ہے
وہ جانے
کتنا بوڑھا ہوچکا ہے وہ!”

یہ ایاز نے جی ایم سید کے لیے لکھا تھا،جب سائیں کی ترجمانی کا کام ایاز کرتا تھا،پر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایاز کے یہ لکھے الفاظ ہر اس بوڑھے کے کام آ رہے ہیں ،جو دیس کی بات کرتا ہو،حق کی بات کرتا ہو،انصاف کی بات کرتا ہو،اور وہ خود ہی کہتا ہو: “اناالحق۔۔۔!!”

اور یہ جرم کر بیٹھا ہے وہ بوڑھا جسے سندھ استاد راھموں کے نام سے جانتی ہے۔

وہ استاد راھموں، جو اب بہت بوڑھا ہوچکا ہے، اُس کی دیکھنے کی صلاحیت کم، سُننے کی صلاحیت کم، اور وہ بوڑھا پھر بھی اپنی عمر سے بڑھ کر بولتا ہے، اس لیے سندھ اُس کو اس نام سے پکارتی ہے: “استاد راھموں!”

وہ استاد راھموں، اب کہاں ہے؟!

نہ وہ سندھ جانتی ہے، جس کے عشق میں استاد راھموں پہلے پاگل ہوا، دیوانہ ہوا، اور پھر بوڑھا ہوا…..اور نہ وہ لوگ جانتے ہیں جو ایکتا دن پر خوب ناچتے ہیں، ڈھول پیٹتے ہیں، شرنائیاں بجاتے ہیں، اور اسی بہانے روڈوں پر کچھ حسین چہرے دیکھ کر شام کے آخری پہروں میں ہو جمالو پر ناچ کر گھر آجاتے ہیں،اور یہ نہیں جانتے کہ وہ کیوں ناچے،اور سندھ بھی یہ نہیں جانتی کہ یہ “ھو جمالو” کہاں سے شروع ہوا اور کس نے ایجاد کیا، پر وہ سندھی جو ھو جمالو پر ناچتے ہیں، سستے سگریٹ پیتے ہیں، اور اس ایکتا دن میں ایک دو حسین لڑکیاں دیکھ کر گھر آتے ہیں، وہ بھی نہیں جانتے کہ کون ہے؛ “استاد راھموں!”

اور اب کہاں ہے استاد راھموں!

وہ استاد راھموں جس نے اک خواب دیکھا تھا کہ، “سارا دیس پِریں کا عکس!”

اور وہ اُس خواب کی سابھیاں دیکھنے اور اُسے حقیقت بنانے کے لیے شروع کے سبق لیے اُس جی ایم سید سے جسے ایاز نے “ایک بوڑھا پہاڑ” لکھا تھا، استاد راھموں نے سائیں جی ایم سید سے جو سبق لیا، اسے اب تک نہیں بھولا، وہ بندوق سے نہیں لڑتا، اس کے ہاتھوں میں کوئی کلاشنکوف نہیں ہوتی، اور نہ وہ اپنے ہاتھوں میں اُن انقلابیوں کی طرح کوئی پسٹل رکھتا ہے جو بوقتِ ضرورت اُن کے کام نہ آئے!

وہ استاد راھموں اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں رکھتا، بس وہ اپنے ساتھ رکھتا ہے: شاہ جو رسالو، یا سائیں کی کتاب جسے پڑھ کر کچھ گیان حاصل کر کے اُن نوجوانوں کو دیتا تھا، سبق جو اپنے دیس اور اپنی ماں کی بولی اور یہاں تک کہ اپنی محبوبہ کی بولی بھی بھولتے جا رہے تھے، استاد راھموں بس اب اک نئی شراع سے شاہ جو رسالو اُن نوجوانوں کو پڑھ کر سُناتا تھا، جس میں دیس کا ذکر ہوتا تھا، ماں کا ذکر ہوتا تھا، اور اپنی بولی کا ذکر ہوتا تھا، اور استاد راھموں جب وجد میں آ کر شاہ کا یہ شعر کہتا تھا کہ،

“دردن دسی آھیان
دردن ککے توں دس!

یعنی، “درد نے پچھاڑا ہے
کوئی تو دردکو پچھاڑے!”

تو اُن نوجوانوں کی آنکھوں میں اک عجیب چمک آجاتی تھی، اور سبھی یہی سمجھتے تھے کہ استاد راھموں کے درد وہ پچھاڑ سکتے ہیں، اور اُن کا جوش دیکھ کر راھموں انہیں یہ تلقین کرتا تھا کہ، ” یہ نہ سمجھا جائے کہ سارے مور مر گئے ہیں، پر پہلے اپنی ماں اور دھرتی سے محبت کرو، بعد میں میرے دکھ دور کرنا!”

ایسا تھا استاد راھموں!

بس اس نے ایک خواب دیکھا تھا کہ یہ سیم والی دھرتی کیسے بھی لال ہوجائے اُس کی، اور یہاں عشق کے کھیتوں میں محبت کی فصل اُگے. اُسے یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ سارا دیس “پرین جو پاڑو” ہے، اس لیے یہ کندھ کوٹ سے لے کر کموں شہید تک،اور سندھی سمندر سے لے کر کراچی کے بلدیہ کے بلند وبالا پہاڑوں تک یہی چاہتا تھا کہ کسی بھی طرح یہ دھرتی “پرین کے پاڑوں” میں تبدیل ہوجائے، اور یہاں پر وہ محبت کے گلاب کھلیں جن کی خوشبو جب جباِس دیس کی راہوں میں گھُلے تو ہمیں ایسا معلوم ہو کہ ہم نے اپنے شہدوں کا حق ادا کردیا.

اسی بات کو لے کر استاد راھموں سندھ کے گوٹھوں، بستیوں اور سندھ کے اُن شہروں میں جایا کرتا تھا، جہاں پر ابھی نہ محبت کا پیغام پہنچا تھا،اور نہ سید کا، اور وہ سید کا عاشق اس بات کو کیسے نظر انداز کر سکتا تھا کہ سید کا پیغام وہاں نہ پہنچے جہاں اُس کو پہنچنا چاہیے تھا، اس لیے راھموں کب خاموش بیٹھنے والا تھا.

ایسا تھا استاد راھموں!

وہ استاد راھموں جو اُوشو رجنیش گرو نہیں تھا، اُوشو کے تو بہت پیرو کار تھے اور ہیں. وہ بھارت سے لے کر امریکہ تک گیا، اُس نے کئی لیکچر دیے، دل کھول کر کھایا، ننگا ناچا بھی، دل کھول کر رومانس بھی کیا، اور جہازوں کے سفر بھی کیے، جب کہ راھموں تو بیچارا ایک غریب لڑ کا، رہنے والا سندھی بوڑھا ہے، جس نے بس شاہ سے عشق کیا اور سید کی مریدی کی، راھموں نے تو کبھی بھی سندھ دھرتی سے باہر پیر نہیں نکالا، اور نہ ہی جہازوں کے سفر کیے، راھموں غریب نے تو کبھی پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں کھایا، تو وہ رومانس کیا کرتا.

پر کبھی بھی بھارت کے یا دنیا کے کسی بھی ملک نے اُوشو کو گُم نہیں کیا، وہ تو ہوا میں اُڑتا رہا، جہاں چاہتا وہاں جاتا تھا، پراُس کو تو کسی نے گُم نہیں کیا، اُس نے ایک بھرپور زندگی گزاری اور مر گیا، پر ہمارے جوان ایسے نہیں ہیں، وہ ڈر کر زندگی گزارتے ہیں، اور مارے جاتے ہیں اور جب بوڑھے ہوتے ہیں تو پھر اُن کے لیے ایک نئی سزا نکلی ہے کہ، وہ گُم کر دیے جاتے ہیں، یا انہیں سندھی اخبار لکھتے ہیں کہ وہ “کھنب لیے گئے ہیں….”

استاد راھموں جن کی عمر اب کوئی اَسی سال کے قریب ہے، وہ بھی کافی دنوں سے “کھنب لیے گئے ہیں”، ایسے ہی جیسے واحد بلوچ، یا اور سندھ اور بلوچ نوجوان کھنب لیے گئے ہیں، یہ ایک طویل فہرست ہے،اور کس کس کا نام لکھا جائے اور کیا لکھا جائے اور کیوں لکھا جائے….

پر آج یہاں بات ہو رہی ہے استاد راھموں کی، جن کی عمر کا لحاظ بھی نہیں کیا گیا…..اور اُس کے پاس تو کوئی بندوق بھی نہیں اور نہ ہی وہ کوئی کرپشن یا کسی ٹارگیٹ کلنگ کے کسی واقعے میں ملوث ہے، وہ تو ایک عاشق ہے، اور اپنے غلام دیس میں اپنے محبوب کی باتیں کرتا ہے، اپنی ماں کی باتیں کرتا ہے، اور اپنی بولی کی باتیں کرتا ہے، اور یہی اب اس کا جرم بن گیا ہے………….. اور سندھ خاموش ہے۔

وہ سندھ کے لاڑ کے علاقہ بدین کے چھوٹے شہر ماتلی کے اور بھی چھوٹے شہر کڑیو گھنور میں سے کنھب لیے گئے ہیں، معنی اُٹھا لیے گئے ہیں۔اور سندھ خاموش ہے۔سندھ کیوں خاموش ہے؟!

اب استاد کے گھر کے باہر ایک احتجاجی کیمپ لگا ہوا ہے، جس میں کوئی بھی نہیں آیا۔ وہ بھی نہیں جو پارلیمانی سیاست کرتے ہیں اور وہ بھی نہیں آئے جو قوم پرستی کی سیاست کرتے ہیں اور وہ بھی نہیں آئے جو موٹی موٹی کتابیں لکھتے ہیں (بے وقوف) جنہیں استاد راھموں بڑے شوق سے پڑھا کرتے تھے، اور وہ بھی نہیں آئے جنہیں استاد راھموں اپنے لیکچر سے ایک نئی زندگی دیتے تھے۔اور وہ بھی نہیں آئے جو اخباروں میں لکھتے ہیں اور اپنے آپ کو دانش ور سمجھنے کی بھول کرتے ہیں اور ایک چشمہ میں دھاگہ ڈال کر اپنی گردن میں لٹکا دیتے ہیں۔

کوئی بھی نہیں آیا اُس احتجاجی کیمپ میں، اُس احتجاجی کیمپ میں بس اُس استاد راھموں کی بیٹی بیٹھی ہے، جس کا نام بھی “سندھو” ہے، اور کوئی نہیں ہے۔

بس اب جب سندھ سے کوئی نہیں اُٹھا اور کوئی آواز نہیں تو وہ پیر کے نقش جو استاد راھموں کے چلنے سے اُن کچے پکے روڈوں پر پڑگئے تھے، اب جو کچھ مٹ گئے ہیں اور کچھ باقی ہیں، اور کچھ پر وہ گاڑیاں دوڑی ہیں ،وہ استاد کے زخمی پاؤں کے نقش اب اپنے اُن پیروں کو ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوئے ہیں، جو اپنے اُن پاؤں پر چل کر اپنے گال دیس میں اپنے محبوب، اپنی ماں، اور اپنی بولی کی باتیں کرتا تھا، اب وہ نقش چل پڑے ہیں، اور بہت دور ایاز کا وہ گیت جو استاد کے لیے دعا بھی تھی اور شفا بھی، قومی ترانہ بھی تھا، ایک ایسا گیت بھی جس سے اپنے روٹھے راضی کیے جائیں، وہ گیت بہت دور ماتم کر رہا ہے، وہ گیت اب ایک درد بن گیا ہے،اور رو رہا ہے کہ،

اے سندھ دیس کی مٹی میرا خون تمہاری نذر
یہ مٹی میری عزت!
کینجھر سے کارونجھر تک، تمہیں آنکھوں سے چوموں
یہ مٹی میری عزت!
گیت بھی تیرے، بیت بھی تیرے، میرے پاس
یہ مٹی میری عزت!

استاد راھموں کے یوں گُم ہونے پر وہ گیت ماتم کر رہا ہے، پر یہ ماتم کسے نظر آ رہا ہے، اور کسے دِکھ رہا ہے….

اور بہت دور، ٹھٹہ ماتم کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے:

“میرا من بھنبھور!”

بھنبھور بھی ماتم نہ کرے تو کیا کرے؟!!!
(بشکریہ ۔۔ حال حوال)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker