کتب نمالکھاری

بات کر کے دیکھتے ہیں، ایک جائزہ ۔۔ احمد حسین مجاہد

سراج احمد تنولی “دربند ” میں پیدا ہوا ۔ دربند جو کبھی ریاست امب کا صدر مقام تھا۔ ریاست امب 1840 میں انگریزی حکومت کے ماتحت آئی ۔دسمبر 1947 میں اس ریاست نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا لیکن اپنی ریاستی حیثیت بھی برقرار رکھی ۔ 1969 میں یہ ریاست موجودہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنی ۔ اس ریاست کی کہانی بہت دلچسپ ہے لیکن یہاں مجھے ریاست کی کہانی نہیں سنانی بلکہ اس نوجوان کا ذکر مقصود ہے جسے سراج احمد تنولی کہا جاتا ہے ۔
سراج بنیادی طور پر صحافت کے شعبے سے منسلک ہے ۔ ہمارے دوست اور روزنامہ سرگرم کے ایڈیٹر جناب محمد پرویز نے اس نوجوان کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کیا اور یوں سراج نے ایک طرح سے باقاعدہ صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ سرگرم سے منسلک ہونے کے بعد سراج نے اس اخبار کے لیے اہلِ علم و دانش کے انٹرویوز کیے جو اخبار کی زینت بنتے رہے۔ ایک دن اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ان انٹرویوز کو کتابی شکل میں شائع کرنا چاہتا ہے ۔ کئی ماہ تک وہ اس سلسلے میں کام کرتا رہا اور آخر ِ کار اس کو اس کے خواب کی تعبیر مل گئی ۔ “بات کر کے دیکھتے ہیں ” کے نام سے اس کی کتاب منظر ِ عام پر آئی تو علمی اور ادبی حلقوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کی خوب پذیرائی کی ۔ ہزارہ سے شائع ہونے والی یہ کتاب اپنی نوعیت کی پہلی کاوش ہے ۔ کتاب دیکھتے ہی بخوبی یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ سابقہ ریاست ِ امب سے ابھرنے والا یہ نوجوان اپنے علاقے کی پہچان بنے گا ۔ 436 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں 43 انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں ۔ فلیپ ، دیباچہ اور علم و دانش سے وابستہ افراد کی آرا بھی اس کتاب میں شامل ہیں ۔ پاکستان ادب پبلشرز نے اسے کتاب خوب صورت گیٹ اپ میں شائع کیا ہے ۔ کتاب کی قیمت آٹھ سو روپے ہے اور یہ سراج سے درج ِ ذیل نمبر پر رابطہ کر کے حاصل کی جا سکتی ہے ۔
03441011071

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker