سہیل وڑائچکالملکھاری

سہیل وڑائچ کا کالم: ڈر کاہے کو؟

شیکسپیئر نے ٹھیک ہی کہا تھا ”There is a method in his madness” یعنی ’اس کے پاگل پن میں بھی ایک طریقہ ہے۔‘
سینیٹ الیکشن میں خریدو فروخت کا واویلا ہو یا سیکرٹ بیلٹ کے بجائے اوپن بیلٹ پر زور، دراصل اس سیاسی نقصان سے بچنے کی کوشش ہے جو ممکنہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کو سینیٹ الیکشن میں ہو سکتا ہے۔
بظاہر سیاسی اصول پسندی کا روپ دھار کر یہ کہا جا رہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں اراکین کی بولیاں لگتی ہیں اس لیے پی ٹی آئی اوپن بیلٹ اپنا کر اس طریقے کو شفاف بنانا چاہتی ہے۔
حقیت یہ ہے کہ اگر سیاسی اصول پسندی ہو تو فیصلے سود و زیاں اور نفع نقصان سے اوپر اٹھ کر کیے جاتے ہیں مگر تلخ ترین پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی ہو یا ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، سب کو اصو ل صرف اپنے فائدے میں یاد آتے ہیں، اور نقصان ہو تو اصول بھلا دیے جاتے ہیں۔
ابھی گذشتہ روز خیبر پختونخوا میں ووٹوں کی خریدو فروخت کی وڈیو وائرل کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ وڈیو حکومت کی طرف سے ریلیز ہوئی ہے اور اس کی ٹائمنگ بھی سیاسی طور پر مقررکی گئی ہے تاکہ سیکرٹ بیلٹ کے خلاف فضا بنے اور عدالت عظمیٰ پر بھی یہ دباؤ پڑے کہ وہ حکومتی ریفرنس پر حکومتی مرضی کا ہی فیصلہ سنائیں۔
اس وڈیو کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر قانون کو مستعفی ہونے کا کہہ دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 16، 17 ایم پی اے حضرات کے خلاف تحریک انصاف نے سینیٹ 2017 میں ووٹوں کی خریدو فروخت پر ایکشن بھی لیا تھا اور انھیں الیکشن میں پارٹی ٹکٹ نہیں دیے گئے تھے۔
بظاہر یہ بھی اصول پسندی کا ہی اظہار تھا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف نے پنجاب میں ن لیگ اور دوسرے ارکان اسمبلی کے ساتھ جوڑ توڑ سےچودھری سرور کو حیران کن طور پر سینیٹر منتخب کروایا تھا۔
اس بارے میں گہری خاموشی اختیار کی گئی بلکہ انھیں دوسری جماعتوں کے ووٹ لینے پر داد دی گئی یہی وہ ’Method‘ یا سیاسی بہروپ ہے جو اب بھی اختیار کیا جارہا ہے۔
اگر سینیٹ انتخابات کے حوالے سے پنجاب کا جائزہ لیا جائے تو بزدار صاحب کی ڈھیلی ڈھالی حکومت سے بہت سے اراکین اسمبلی شکوہ کناں ہیں۔ وزیر اعظم ذاتی طور پر بیشتر افراد کو نہ جانتے ہیں نہ ان کا ان سے مسلسل رابطہ ہے۔
اس لیے پنجاب میں کئی ارکان اسمبلی اپنی مرضی کر سکتے ہیں، جس سے یہ تاثر ابھرے گا کہ تحریک انصاف کے اندر بہت سے لوگ ناراض ہیں۔
ایک معاملے میں البتہ پنجاب دوسرے صوبوں کی نسبت سینیٹ الیکشن میں ظاہری بغاوت نہیں کر پاتا اور وہ ہے سینیٹ کا جنرل نشست پر ایک ممبر بنانے کے لیے 47 سے 53 ارکان صوبائی اسمبلی کی بھاری تعداد کا ووٹ ڈالنا۔
بغاوت یا ناراض اراکین کی اس بھاری تعداد کا اکھٹے ہونا، اجلاس کرنا یا پھر سازش سے اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دینا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اتنی بھاری تعداد کا اجلاس کرنا خفیہ نہیں رہتا اور پھر حکومت کے لیے ایسی بغاوت کو فرو کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
یہ بات بہر حال طے ہے کہ اگر پنجاب میں سینیٹ الیکشن سیکرٹ بیلٹ سے ہوا تو پی ٹی آئی کے اندر کی کئی ناراضیاں کھل کر سامنے آئیں گی اور پی ٹی آئی الیکشن سے طاقتور ہونے کے بجائے کمزور ہو کر سامنے آئے گی۔
ہاں البتہ اوپن بیلٹ ہو تو لوگ بغاوت کے خوف سے کھل کر سامنے نہیں آئیں گے اور یوں پی ٹی آئی اپنے زیادہ تر لوگ اپنی نئی پالیسی کی وجہ سے جتوا لے گی۔
سینیٹ الیکشن میں گڑ بڑ یا روپے پیسے کا سب سے زیادہ استعمال بلوچستان اسمبلی میں ہوتا ہے۔
ارکان اسمبلی کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بلوچستان سے جنرل نشست پر نو یا دس اراکین صوبائی اسمبلی ایک سینیٹر منتخب کرتے ہیں۔
ماضی میں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے بہت سے دولتمند اور کروڑ پتی صرف دولت کے بل بوتے پر خرید و فروخت کر کے سینیٹر منتخب ہوتے رہے ہیں۔
حد تو یہ تھی ایک ہی کاروباری خاندان کے چار افراد بیک وقت سینیٹر منتخب ہوگئے اور وہ بھی پارٹی بنیادوں پر نہیں بلکہ ذاتی بنیادوں پر، اور یہ ماضی کا ایک مشہور سیاسی لطیفہ رہا ہے۔
اب فاٹا کے اراکین شامل ہونے سے خیبر پختونخوا کے اراکین اسمبلی کی تعداد بڑھ گئی ہے اور یوں ایک سینیٹر کو جنرل نشست پر 20 اراکین اسمبلی کے ووٹ کی ضرورت ہو گی۔
سندھ میں جنرل سیٹ کے لیے ووٹوں کی تعداد 23 ہے۔
اگر تو سینیٹ الیکشن کے معاملے کو اصولی طور پر پرکھا جائے تو شاید حکومت کی یہ تجویز کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے، درست نظر آتی ہے کیونکہ اس سے بہرحال شفافیت بڑھے گی اور پیسے کا عمل دخل کم ہو گا۔
مگر اس کے ساتھ ہی جب سیکرٹ بیلٹ ختم ہو گا تو پارٹیوں کی آمریت بڑھے گی اور وہ ارکان اسمبلی جو اپنی پارٹی سے اختلاف رائے کا اظہار سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے کرتے تھے ان کے اظہار رائے کا راستہ بند ہو جائے گا۔
تحریک انصاف کی نیت کو دیکھا جائے تو وہ بھی اس معاملے کا اصولی حل نہیں بلکہ اپنے فائدے کا حل چاہتی ہے وگرنہ سب جماعتوں کو ساتھ ملا کر قانون سازی کی کو شش کی جاتی۔
تحریک انصاف واقعی شفافیت چاہتی ہوتی تو پنجاب میں ن لیگ کے ووٹ توڑنے کو بھی غلط قدم گردانتی اور اس معاملے میں بھی انکوائر ی کرواتی۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ ان کے فائدے میں نہیں تھا اس لیے اس معاملے کو قالین کے نیچے دبا دیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب نواز شریف کا اقتدار نصف انتہا پر تھا تب بھی ن لیگ کے لوگوں نے نواز شریف کے قریبی ساتھی زبیر گل کو ووٹ نہیں دیا تھا۔
کیونکہ اس وقت سیکرٹ بیلٹ تھا اس لیے یہ پتہ نہ چل سکا کہ وہ باغی افراد کون تھے مگر بعد ازاں یہ اندازہ ہوا کہ ن لیگ کے کئی افراد نے موجودہ گورنر چودھری سرور کو ووٹ ڈال کر سینیٹر بنانے میں مدد کی تھی۔
اس مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر اب بھی سیکرٹ بیلٹ جاری رہا اور پی ٹی آئی ووٹروں کی مرضی سے سینیٹرز کو ٹکٹ نہ ملے تو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بڑے اپ سیٹ ہو سکتے ہیں۔
شہباز گل یا شہزاد اکبر یا اس قسم کے لوگوں کو امیدوار بنایا گیا تو خدشہ ہے کہ ان کا حشر بھی زبیر گل جیسا ہی ہو گا۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker