سوات : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر سوات میں واقع ایک دینی مدرسے کے اساتذہ کی جانب سے کیے گئے مبینہ تشدد سے 12 سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد مقامی انتظامیہ نے مدرسہ سیل کر کے وہاں زیر تعلیم 160 طلبا کو اُن کے والدین کے حوالے کر دیا ہے۔ اس واقعے کی ایف آئی آر مقتول 12 سالہ فرحان کے چچا کی مدعیت میں خوازہ خیلہ پولیس نے درج کی ہے۔
سوات پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کے قتل اور دیگر طالبعلموں پر تشدد کے دو الگ الگ مقدمات درج کر کے مجموعی طور پر 11 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم دو ملزمان اب بھی مفرور ہیں۔ایک مقدمہ مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے طالبعلم فرحان کے چچا کی درخواست پر درج کیا گیا ہے جبکہ دوسرا مقدمہ پولیس نے اپنی مدعیت میں درج کیا ہے۔
کیا واقعہ پیش آیا؟
مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے 12 سالہ طالبعلم فرحان کے چچا نے مقامی پولیس کو بتایا کہ اُن کا بھتیجا گذشتہ تین سال سے مدرسہ محزن العلوم (چالیار) میں زیر تعلیم تھا۔ انھوں نے پولیس کو بتایا کہ بچے کے والد ملازمت کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق اپنی موت سے چار روز قبل بچہ چھٹیوں پر گھر آیا تھا، تاہم اُس کا إصرار تھا کہ وہ واپس مدرسے نہیں جائے گا۔ لواحقین کے مطابق وجہ پوچھنے پر بچے نے بتایا کہ مدرسے کے مہتمم کا بیٹا مبینہ طور پر اُس سے ’ناجائز مطالبات‘ کرتا تھا۔ مدعی مقدمہ یعنی بچے کے چچا کے مطابق اِس پر وہ خود بچے کو اپنے ساتھ مدرسے لے کر گئے جہاں اُنھوں نے مدرسے کے مہتمم محمد عمر، اُن کے بیٹے احسان اللہ اور مدرسے کے ناظم عبداللہ سے ملاقات کی۔
بچے کے چچا نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ مدرسے گئے تو ان تمام ملزمان نے قران پر ہاتھ رکھ کر اور قسمیں کھا کر یقین دلایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور بچہ پڑھائی سے بھاگنے کے بہانے بنا رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مدرسے کے عہدیداروں کے اس بیان پر وہ اور ویڈیو کال پر موجود بچے کے والد مطمئن ہو گئے اور بچے کو مدرسے چھوڑ دیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق اُسی روز شام کے اوقات میں بچے کے چچا کو مدرسے کے ناظم کا فون آیا جنھوں نے بتایا کہ فرحان غسل خانے میں گِر کر ہلاک ہو گیا ہے۔
بچے کے چچا کے مطابق جب وہ یہ اطلاع ملنے کے بعد خوازہ خیلہ ہسپتال پہنچے تو وہاں ان کے بھتیجے کی ’تشدد زدہ لاش پڑی ہوئی تھی۔‘
فرحان کے چچا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے تو اُسے اچھا انسان بنانے کے لیے مدرسے میں داخل کروایا تھا، ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ مدرسہ نہیں مذبح خانہ ہے۔‘انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب بچے کی میت کو غسل دیا گیا تو اس کے چہرے کے علاوہ پورے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔
بچے کے چچا کے مطابق انھیں مدرسے کے دیگر طالبعلموں نے بتایا کہ ’جب میں (چچا) عصر کے بعد فرحان کو مدرسے چھوڑ کر گیا تو اس کے بعد مدرسے کے تین، چار لوگ جن میں مدرسے کا مہتمم، اس کا بیٹا اور مدرسے کا ناظم شامل ہیں، نے لاٹھیوں اور زنجیروں سے اس پر تشدد شروع کر دیا۔‘’مجھے کئی طالب علموں نے بتایا کہ ایک شخص اس پر تشدد کرتا اور جب وہ تھک جاتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اس دوران جب بچہ پانی مانگتا تو تشدد کرنے والے دوسرے بچوں سے کہتے کہ اگر اسے پانی لا کر دیا تو تمہارا بھی یہی حشر ہو گا۔‘
خوازہ خیلہ پولیس کے مطابق قتل کے مقدمے میں نامزد مہتم اور اُن کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب دو ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ پولیس کے مطابق مدرسے سے زنجیریں اور لاٹھیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد عمر خان نے میڈیا کو بتایا کہ چالیار میں قائم اس غیر رجسٹرڈ مدرسہ میں کمسن طالبعلم کے قتل اور دیگر زیر تعلیم بچوں پر تشدد کے الزام میں مدرسہ ناظم سمیت 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دو مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

