ارشد چوہدریتجزیےلکھاری

طالب علم رہنما عالمگیر وزیر سپریم کورٹ سے ضمانت کے باوجود رہا نہ ہو سکے :ارشد چوہدری کی رپورٹ

چار مہینے پہلے لاہور سے بغاوت کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے طالب علم رہنما عالمگیر وزیر سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود اب تک رہا نہ ہوسکے۔ انہیں طلبہ یونین بحالی کے لیے مال روڑ پر نکالی گئی ایک ریلی میں ‘ریاست مخالف’ تقاریر کرنے کے الزام میں پنجاب یونیورسٹی سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر رکھا گیا تھا۔
مقامی عدالت اور لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت خارج ہونے پر انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جہاں 31 مارچ کو ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا گیا، لیکن نو دن گزرنے جانے کے باوجود وہ جیل میں ہیں۔کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی کوششوں کے دوران انہیں کیمپ جیل سے حافظ آباد جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ عالمگیر کی رہائی کے لیے جاری عدالتی روبکار کیمپ جیل میں موجود ہے، وہاں سے حافظ آباد جیل آئے گی تو رہائی ہوسکتی ہے۔
ضمانت کے باوجود عالمگیر رہا کیوں نہ ہوئے؟
عالمگیر کے قریبی دوست ریاض محسود نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ ‘ان کی رہائی میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔’
اس کیس کی پیروی کرنے والے ریاض کے مطابق ’31 مارچ کو سپریم کورٹ نے عالمگیر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ جب انہوں نے یکم اپریل کو ضمانتی مچلکوں کی ادائیگی کر کے کیمپ جیل لاہور حکام سے ملاقات کی اور ملزم کی رہائی کا مطالبہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ابھی روبکار موصول نہیں ہوئی لہذا فوراً رہائی ممکن نہیں۔’
‘اسی انتظار میں تین روز گزر گئے۔ اس کے بعد کیمپ جیل میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات شروع ہوگئے اور بعض قیدیوں اور حوالاتیوں کی دیگر جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔ جب پیر کو دوبارہ کیمپ جیل حکام سے ملے تو بتایا گیا کہ عالمگیر کو ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد منتقل کردیا گیا ہے۔’ریاض محسود نے کہا کہ اب گذشتہ تین روز سے حافظ آباد جیل حکام سے رابطہ کر رہے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہیں ابھی تک روبکار موصول نہیں ہوئی، جب ہوگی تو رہا کر دیں گے۔
اس حوالے سے جب سپریٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد ملک ایوب سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے انتہائی محتاط انداز میں کہا کہ ‘عالمگیر وزیر اسی جیل میں بند ہیں اور ان کی روبکار کیمپ جیل حکام کے پاس ہے جو ابھی حافظ آباد جیل حکام کو موصول نہیں ہوئی۔’
ان سے سوال پوچھا گیا کہ روبکارکب تک موصول ہونے کا امکان ہے تو انہوں نے فون پر ریکارڈ چیک کرنے کے لیےانتظار کا کہا، کچھ دیر بعد انہوں نے رویہ تبدیل کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں؟
انہیں بتایا گیا کہ اس حوالے سے ایک خبر پر کام کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا ‘سوری میں مزید تفصیلات نہیں بتا سکتا۔ مجھے کیا معلوم آپ کس مقصد سے پوچھ رہے ہیں۔’ یہ کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا۔
عالمگیر وزیر کی گرفتاری اور ردعمل:
لاہور میں 29 نومبر کو مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ نے ناصر باغ سے چیئرنگ کراس، مال روڈ پہ مارچ کیا جس کا مقصد تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی تھا۔ شام کو ریلی کے اختتام پر طالب علم رہنما عالمگیر وزیر کو ‘ریاست مخالف’ تقاریر کے الزام پر حراست میں لیا گیا، لیکن ان کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی۔
طلبہ ایکشن کمیٹی کی کال پر اس گرفتاری کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا۔ تاہم دو روز بعد انہیں ریمانڈ کے لیے مقامی عدالت پیش کر دیا گیا۔ عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا اور درخواست ضمانت دائرہ اختیار نہ ہونے پر خارج کر دی گئی۔
24 جنوری کوعالمگیر کے وکلا کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی جو خارج کر دی گئی۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ وہ بے قصور ہیں، پولیس نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا اور وہ کسی قسم کی بغاوت میں ملوث نہیں۔درخواست کے مطابق انہیں جیل میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں، نیز وہ ضمانتی مچلکے دینے کے لیے تیار ہیں اور ٹرائل میں بھی باقاعدگی سے پیش ہوتے رہیں گے۔ ان کا موقف تھا کہ علاقہ مجسٹریٹ کینٹ اور سیشن عدالت نے حقائق کے برعکس ان کی درخواست ضمانت مسترد کی۔ ان کی عدالت عالیہ سے استدعا تھی کہ ان کی ضمانت منظور کی جائے۔سرکاری وکیل کی جانب سے ریاست مخالف تقاریر سے طلبہ کو بغاوت پر اکسانے سے متعلق دلائل دیے جانے پر درخواست ضمانت عدالت نے خارج کر دی تھی۔ عالمگیر کے خلاف پولیس تھانہ سول لائنز لاہور نے بغاوت سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
( بشکریہ : انڈپنڈنٹ اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker