تجزیےلکھاریمظہر خان

کرونا وائرس : وبا یا عالمی جنگ کی ابتدا؟ ۔۔ مظہر خان

کرونا وائرس اس وقت دنیا کے 209 ممالک و خطوں کو متاثر کر چکا ہے ۔ آئے روز مرنے والوں اور متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس سے جہاں انسانی زندگی پر برے اثرات پڑے ہیں وہیں عالمی معیشت بھی ہل کر رہ گئی ہے، تقریبا پوری دنیا ہی لاک ڈاؤن کا شکار ہو چکی ہے، اس عالمی وبا کے دوران امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، اس کشیدگی کو ان ممالک کے رہنماؤں کے بیانات سے واضح محسوس کیا جا رہا ہے لیکن اصل حقائق اس سے بھی زیادہ پریشان کن ہیں اور اگر اس کا بغور جائزہ لیں تو ایسا لگ رہا ہے دنیا پر اس وقت ایک بڑی اور خوفناک جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، پینٹاگون کی بحر الکاہل و بحر ہند کی کمانڈ نے چند روز قبل ہی امریکی حکومت سے 20 ارب ڈالرز فوری جاری کرنے کی ڈیمانڈ کی ہے، جو رقم جنگی سازو سامان کی تیاریوں کے لیے خرچ کی جانی ہے، پینٹاگون کی یہی کمانڈ معربی بحر الکاہل کے جزیرے ” گوام” (Guam) کا کنٹرول سنبھالتی ہے جو بحر الکاہل و بحر ہند میں امریکن نیوی کا بڑا مرکز ہے اور اس جگہ سے ہی امریکی نیوی تمام امور سر انجام دیتی ہے، یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ چین کی نیوی نے بھی بحر الکاہل میں ہی چند روز قبل مشقیں شروع کر دی ہیں، بڑے پیمانے پر ہونے والی ان مشقوں میں روس بھی شریک ہے، حالات کی سنگینی کا اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف تو دونوں ممالک کرونا وائرس سے لڑ رہے ہیں ( چین کسی حد تک کرونا وائرس پر قابو پا چکا ہے) اور پوری دنیا ہی لاک ڈاؤن اور پریشانی کے عالم میں ہے، ایسے میں جنگی مشقیں شروع کرنا اور پہلے سے قائم بحری اڈوں کی کمانڈ کا اچانک 20 ارب ڈالرز کی ڈیمانڈ کرنا خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں ۔
اگر چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور چین کے لیڈرز کے بیانات کی بات کی جائے تو ان میں ایک دوسرے کے خلاف بتدریج شدت آتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر کے بیانات کے بعد اب یورپ سے بھی چین کے خلاف بیانات سامنے آ رہے ہیں، جس پر چین نے ایک روز قبل باقاعدہ وضاحت بھی کی ہے کہ ایک اس کا کرونا وائرس سے کوئی تعلق نہیں اور چین کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے پوری دنیا کے ساتھ ہے اور ہر کسی کی ہر ممکن مدد بھی کر رہا ہے۔ دو روز قبل امریکی خبر رساں ادارے نے چین کی ایک اور ملک کے ساتھ بحر ہند میں بھی مشقوں کی سیٹلائیٹ تصاویر جاری کی ہیں۔
اس تمام صورتحال میں اگر خدا نخواستہ ان دو بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور نوبت جنگ تک پہنچتی ہے تو پوری دنیا کو اس کا ناقابل تلافی نقصان ہو گا، کرونا وائرس سے لڑتی عالمی معیشت تباہی کے گڑھے میں گر جائے گی، اور اس جنگ کا نقصان پاکستان جیسے غریب ممالک کو زیادہ ہو گا اور پاکستان جیسے ملک کے لیے اس جنگ میں کسی کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کرنا ہی ایک بڑا چیلنج بن جائے گا کیونکہ پاکستان امریکہ اور چین دونوں پر ہی مختلف امور میں انحصار کرتا ہے، بہرحال کرونا وائرس دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جا رہا ہے اور جب تک اس کا باقاعدہ علاج دریافت نہیں ہوتا یہ تباہی کرتا رہے گا لیکن اگر اس دوران امریکہ اور چین کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا تو دنیا کو نئی جنگ بھگتنی پڑ جائے گی جس کی پوری دنیا آج متحمل نہیں ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker