گزشتہ سے پیوستہ
اگر طالب علم روزانہ کالج آتے رہیں۔ لیکچرز سنتے رہیں تو یقین جانیں انہیں کسی اضافی تعلیمی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ درجنوں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بہت سے اوسط درجہ کے طلباء جو صرف ریگولر تھے۔ روزانہ کالج آتے اور اساتذہ کرام کے دیئے ہوئے لیکچرز توجہ سے سنتے انہوں نے نہ صرف بہت اچھے مارکس لئے بلکہ کچھ نے تو پورے بورڈ میں نمایاں پوزیشنز حاصل کیں۔ ریکارڈ موجود ہے۔
میں نے ایک دن لیکچر کے دوران دروازے سے باہر دیکھا تو میری کلاس کا ایک طالب علم ایک گھنے درخت کے نیچے بیٹھا تھا۔ میں نے کہا بیٹا آپ کالج پڑھنے آتے ہیں یا چھاوں میں بیٹھنے ۔ طالب علم نے پورے اعتماد سے مجھے چپ کرا دیا کہ سر گھر میں دھوپ ہوتی ہے میں سچ پوچھیں تو گھنی چھاوں کے مزے لینے آتا ہوں۔ کچھ طلباء کالج کا گیٹ اندر داخل ہوتے ہی سپورٹس گراونڈ میں جا کر کرکٹ یا والی بال کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ سارا دن کھیل کود میں وقت ضائع کرکے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔ کچھ ہینڈ فری لگائے محو سرور ہوتے ہیں۔ کچھ کنٹین ، کیفے میں سارا وقت بیٹھ بیٹھ کے دو بجے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔ ایک دن میں نے ایک بیٹی طالبہ سے پوچھا کہ بیٹا سارا وقت آپ کچھ نہ کچھ کھاتی رہتی ہیں ۔ کہنے لگیں :
” سر مجھے گھر سر روزانہ کی بنیاد پر دو سو روپے پاکٹ منی مطلب جیب خرچ ملتے ہیں ۔ جس دن میں نہ آؤں پھر مما نہیں دیتیں۔ ”
یہ صرف ایک کالج کی کہانی نہیں بلکہ ہر کالج میں ایسے طالب علم موجود ہوتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ان کے والدین کیوں بے خبر رہتے ہیں۔ انہیں چاہیے وہ کبھی کبھی کالج آ کر اپنے بیٹوں یا بیٹیوں کی خبر لیں۔ ان کی سرگرمیاں پوچھیں۔ ان کی تعلیمی استعداد دیکھیں۔ جب تک ادارہ ، والدین اور طلباء ایک پیج پر نہیں ہوں گے نتائج کبھی بھی حوصلہ افزا نہیں ملیں گے۔ اکثر طالب علموں نے تو کالج میں فون نمبر بھی غلط دیئے ہوتے ہیں۔ کالج سے اگر والدین تک رابطہ کرنے کی کوشش کی جائے تو والدین تک رسائی ہو ہی نہیں سکتی۔ دلچسپ اور حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اگر کالج انتظامیہ نے آخری آپشن کے طور پر ایسے طالب علموں کے نام رول لسٹ سے خارج کر دیئے اور طلباء کو اپنے اپنے والدین بہ نفس نفیس کالج لے آنے کا حکم دیا تو بچے پہلے تو والد کو بتاتے ہی نہیں۔ آگر کالج کی طرف سے زیادہ اصرار پر کوئی طالب علم اپنا والد لے ہی آئے تو وہ اس کا اپنا والد ہوتا ہی نہیں۔ بلکہ کوئی بڑی عمر کا تعلق دار یا کوئی دوست لے آتا ہے۔
جب کالج آپ کے بچے کے لئے اپنے محدود وسائل میں ہر ممکن کوشش کررہا ہے وہاں والدین کا اپنی اولاد سے اتنا غافل ہونا ، ان کی خبر گیری نہ کرنا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ مجرمانہ غفلت ہے۔
آج کے نوجوانوں میں انتہائی خطرناک عادتیں فیشن کے طور پر ان کی زندگیوں کا حصہ بن رہی ہیں۔ پھر یہی فیشن عادت بن جاتے ہیں۔ آخر کار یہی گندی عادتیں صحت جیسی انمول نعمت اور بچوں کا مستقبل تباہ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ جن میں بچوں کی ہیر کٹنگ ، ہیر سٹایئل ، غیر ضروری فیشن، بے ہودہ لباس ، موبائل فون، بد کردار دوست، آوارہ گردی ، بائیک پسندی ، سموکنگ اور سٹنگ ٹائپ تمام ڈرنکس۔ اب تو ای سگریٹ ، ویپ آئس وغیرہ ایسے نشے ہیں جو جان لیوا ہیں۔ کیا والدین کو یہ سب نظر نہیں آتے۔
(جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

