صہیب اقبالکالملکھاری

صہیب اقبال کا کالم: ضیاءالحق اور عمران خان ، گولی سے گالی کلچر تک

عمران خان کی حکومت عدم اعتماد کے ساتھ ختم ہوچکی ہے یہ ایک تاریخی عمل ہے کہ ایک وزیر اعظم جو قومی اسمبلی کے ممبران کے ووٹ سے وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر آتا ہے اس کو انہی کے ووٹوں سے گھر بھیج دیا گیا ہے جو یقیناً ایک آئینی عمل ہے جس کا سپریم کورٹ نے بھی از خود نوٹس لیا اور اس جمہوری اور آئینی عمل کا ساتھ دیا بہرحال اب عمران خان جلسے جلوسوں میں مصروف ہیں جبکہ متحدہ اپوزیشن کی حکومت اس وقت ملک کی باگ ڈور سنبھال رہی ہے ۔ پنجاب اسمبلی کے اندر بھی پارلیمانی روایات کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔ حکومتی اراکین نے اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ہنگامہ آرائی کی ۔ دوسری طرف عمران خان کی حکومت کے حوالے سے کوئی بھی عام انسان مطمئن دکھائی نہیں دیا ۔ اشیا خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں ۔ بیوروکریسی نے کام چھوڑ دیا تھا ہے آپ سفارتی سطح پر تنہا ہوکر رہ گئے تھے جبکہ ڈالر اوپر جارہا تھا ملک میں مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا تھا اگر عمران خان کی حکومت اور ان کے طرزِ حکمرانی کا جائزہ لیں تو مختلف آرا پائی جاتی ہیں ان کے حامی بھی ان کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کرتے کم دکھائی دیتے ہیں جبکہ عمران خان کی ذاتی شخصیت اور مخالفین کو برا بھلا کہتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ مخالفین پر لحاظ سے انہیں ناکام وزیراعظم قرار دیتے ہیں ۔
ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا ان کے دور میں ملک میں “گولی کلچر” پروان چڑھا آپ دیکھتے ہیں کہ ایک فرقے کو بھرپور طریقے سے دبایا گیا جبکہ دوسرے کی حوصلہ افزائی کی گئی جس سے معاشرے میں تشدد ، انتہا پسندی بڑھی ۔ ضیاء الحق کے دور میں جہاں آزادی اظہارِ رائے کو سلب کیا گیا وہیں عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا گیا گولی کلچر نے سوسائٹی میں خوف کی فضا کو قائم کیا جس کو ٹھیک کرتے کرتے ہمیں کئی دہائیاں لگ گئیں ضیاء الحق کے آمریت دور کے اثرات تک یہ قوم بھگت رہی ہے اسی طرح عمران خان نے ملک میں “گالی کلچر ” کو عام کیا ۔ وہ خود سٹیج پر کھڑے ہوکر جلسے میں جہاں عورتیں اور بچے بھی موجود ہوتے ہیں انہی کی تقریر کو مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی براہ راست نشر کیا جاتا ہے جس میں وہ مخالفین کو برے ناموں سے پکارتے ہیں جو ہمارے اسلام میں سختی سے منع ہے اسی طرح غلط جملے کسے جاتے ہیں مخالفین کو برا بھلا کہا جاتا ہے اور اس عمل پر پیشمانی کی بجائے اس پر ڈھٹائی دکھائی جاتی ہے کہ میں سچا اور درست ، میری ہر غلط بات بھی درست ہے اسی طرح ان کے فالورز خاص طور پر سوشل میڈیا کے فالورز اس کو سنتے ہیں پھر اسی طرح اگر کوئی ان کی بات سے اختلاف یا اپنی رائے کا اظہار کرے تو اس کو گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس پر غلط جملے کسے جاتے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر جعلی تصاویر اور ایڈٹ شدہ ویڈیوز کے ذریعے ان کے اختلاف رائے پر منفی پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ہے ۔
حال ہی میں اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں تحریک انصاف کے ایک فالور نے اپنی پارٹی پارٹی کے ایم این اے کے خلاف جملہ کسا اور بدتمیزی کی جس کا ردعمل بھی آپ نے دیکھا اگر آپ کو کسی جماعت یا شخص سے اختلاف ہے تو دلائل سے بات کریں یا آپ کو بالکل پسند نہیں تو آپ انتخابات کے دن ان کو ووٹ نہ دیکر حساب برابر کردیں یہ کوئی تہذیب اجازت نہیں دیتی کہ آپ مخالف سیاسی جماعت کے ممبر کی راہ چلتے ہوئے بدتمیزی کریں فیملی کے ساتھ ہراساں کریں ۔ آپ نفرت اور بدتہذیبی کا بیج نا بوئیں جس طرح ضیاء الحق نے گولی کلچر کا بیچ بویا جسے آج تک ہم انتہا پسندی کی صورت میں کاٹ رہے ہیں اسی طرح اس گالی کلچر کو ہم کئیں دہائیوں تک اس رویے کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں گولی اور گالی کلچر ہوتو وہاں ذہین دماغ نہیں پیدا ہوتے وہاں ایسا ذہن نہیں پنپتا جو دنیا میں اپنی شناخت بناسکے وہاں پھر نفرت پنپتی ہے جو ذہنی غلام پیدا کرتی ہے جو بس دوسرے انسان کو نیچا دکھانے یا برا بھلا کہنا جملے کسنے کو اپنی کامیابی قرار دیتی ہے ۔
نئی حکومت کو اس حوالے سے بھی قانون سازی کرنی چاہیے جس کی طرف ڈی جی آئی ایس پی آر نے اشارہ بھی کیا کہ کسی بھی ادارے یا شخص کی کردار کشی ہرگز نہ کی جائے اس حوالے سے حکومت کو قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دین جہاں آزادی اظہارِ رائے کے ساتھ اختلاف رائے کا بھی حق ہو ناکہ ایک دوسرے سے بدتمیزی اور بدتہذیبی سے پیش نہ آئیں۔۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker