اسلام آباد: ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ کرانےکی درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے سیاسی جماعتوں کو 4 بجے تک مذاکرات کا وقت دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا۔تاہم پی ڈی ایم کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے مذاکرات کی راہ اختیار کرنے سے انکار کر دیا ۔
پی ڈی ایم کے صدر اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی سماعت کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جمعرات کو پارٹی کا کوئی رہنما یا نمائندہ عدالتی نوٹس پر سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوا۔
مولانا نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں لے لیا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے اپنی قرارداد میں متفقہ طورپر تنازع کا سبب بننے والے بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
ایک اور اہم پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ پی ڈیم ایم کے صدر نے واضح طور پر ایک مرتبہ پی ٹی آئی چیف عمران خان کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی کے وفد نے چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں مولانا سے ڈیرہ اسماعیل کے قریب ان کے آبائی گھر میں ملاقات کی لیکن یہ وفد مولانا کو پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات پر راضی نہ کر سکا۔انہوں نے مہمانوں کو بتایا کہ ان کی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی کارروائی سے فاصلہ اختیار کیا جائے گا۔
ملک بھر میں ایک ساتھ الیکشن کرانےکی درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے، بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔
الیکشن کی تاریخ پر سیاسی اتفاق رائے کے لیے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سیاسی قائدین کو آج طلب کیا تھا۔
آج سماعت کے آغاز میں درخواست گزار سردارکاشف کے وکیل شاہ خاور نےکہا کہ امید ہے تمام سیاسی جماعتیں ایک نکتہ پر متفق ہوجائیں گی، ایک ہی دن انتخابات سے سب مسائل حل ہوجائیں گے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم عدالت کے ذریعے احکامات جاری کریں تو پیچیدگیاں بنتی ہیں، سیاسی جماعتیں افہام وتفہیم سے معاملات طےکرتی ہیں توبرکت ہوتی ہے، سیاسی قائدین کے تشریف لانے پر مشکور ہوں، صف اول کی قیادت کا عدالت آنا اعزاز ہے، قوم میں اضطراب ہے، قیادت مسئلہ حل کرے تو سکون ہوجائےگا، وزارت دفاع نے بھی عمدہ بریفنگ دی، اٹارنی جنرل کو ایک ساتھ انتخابات کے معاملے پر دلائل دینا تھے لیکن وہ سیاست کی نذر ہوگئے، آصف زرداری کے مشکور ہیں انہوں نے ہماری تجویز سے اتفاق کیا، بڑی بات یہ ہےکہ ن لیگ نے بھی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔
( بشکریہ: جیونیوز )
فیس بک کمینٹ

