دور حاضر کے اہم اور منفرد شاعر اور میرے انتہا ئی محترم بزرگ دوست پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری سے شاید ایک بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے 1960 کے عشرے کے اوائل سے بھی پہلے لاہور میں(جب وہ اورینٹل کالج میں ایم اے اردو کررہے تھے) بطور شاعر ناصر کاظمی،انتظار حسین، احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض، مظفر علی سید، کی اور دیگر اہم ترین اہل شعر و سخن کی تحسین حاصل کرنے کے باوجود لاہور کی بجائے اپنی جنم بھومی ملتان کو اپنا مستقل مستقر بنانا پسند کیا ان کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی رہا کہ انھیں کبھی مختلف اہم ادبی حلقوں اور گروہوں سے تعلقات بنانا بھی نہیں آیا اسلئے اپنے اندر موجود تمام تر تخلیقی جوہر کے باوجود وہ ایسا ادبی تعارف اور ناموری حاصل نہ کرسکے جس کے وہ مستحق تھے۔
جب اس درویش نے ملتان آ کر کالج میں داخلہ لیا تب اسلم انصاری ایک خوبصورت، طرحدار اور جمال پرست نوجوان شاعر کے طور پر نوجوانوں میں بہت مقبول تھے۔ ان دنوں کالجوں کی سالانہ تقریبات میں بہت بھرپور مشاعرے ہوا کرتے تھے اور ہر مشاعرے میں اسلم انصاری کو سننے کا شور اٹھا کرتا تھا ان کی کئی غزلیں نوجوانوں کو ازبر تھیں جن کی فرمائشیں ہوتیں ۔ ایک نظم "مرے عزیزو تمام دکھ ہے(گوتم کا آخری وعظ)” بھی بزبان شاعر سننے کی فرمائش ضرور ہوا کرتی۔ وہ ایک بے حد وسیع المطالعہ اور عالم فاضل شخص ہیں اور گفتگو کرنا بھی انہیں خوب آتا ہے اس لئے وہ بہت مقبول استاد بھی تھے اور طالبعلم دوسری کلاسوں سے ان کی کلاس میں آکر بیٹھا کرتے ۔
انصاری صاحب اردو کے علاوہ فارسی انگریزی سرائیکی پنجابی اور عربی زبان وادب کے سچے رمز شناس ہی نہیں اردو کے علاوہ فارسی اور انگریزی کے قادرالکلام اور صاحب تصنیف شاعر ہیں۔ اپنی مادری زبان سرائیکی میں اگرچہ انھوں نے کم شاعری کی جس سے بہت کم لوگ آگاہ ہیں لیکن اگر ان کی یہ شاعری شائع ہوجائے تو سرائیکی میں بھی ان کی انفرادیت اور اہمیت بہت جلد تسلیم کر لی جائے گی اس درویش کو خود ان کی زبانی ان کی سرائیکی شاعری سننے کا اعزاز حاصل ہے ۔ سرائیکی میں ان کا ایک ناول بھی شائع ہو چکا ہے خواجہ غلام فرید کی شاعری کی جو تفہیم وہ رکھتے ہیں کم ہی لوگوں کے حصے میں آئی ہوگی۔ خواجہ فرید کی شاعری کا انگریزی ترجمہ انہوں نے جیلانی کامران کے ساتھ مل کر کیا تھا جو 1970 کے عشرے میں شائع ہوا تھا خواجہ کی شاعری پر ان کے مضامین ان اہل دانش کے لئے لائق مطالعہ ہیں جو واقعی اسے سمجھنا چاہتے ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود خبط عظمت جعلی میں مبتلا چند نام نہاد سرائیکی شاعر اور دانشور (ساڑے پاروں) اسلم انصاری کو محض اردو شاعر ہونے کا طعنہ دیتے رہے ہیں۔
ایک بہت تکلیف دہ واقعہ اس درویش کے سامنے ہوا جب وہ سرائیکی ایریا سٹڈی سنٹر بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کا ڈائریکٹر تھا اسلم انصاری صاحب بھی ان دنوں اس سنٹر سے بطور ایڈوائزر وابستہ تھے ۔یوں تو انصاری صاحب سے دور طالبعلمی میں (1977 سے بھی قبل سے) تھوڑی بہت سلام دعا رہی تھی کیونکہ وہ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان (حالیہ ایمرسن کالج یونیورسٹی) میں اردو کے استاد تھے جب ملاقاتوں کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا تب وہ ملتان آرٹ کونسل کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر تھے اور یہ درویش ایم اے اردو کا طالب علم تھا۔ ان ملاقاتوں کی یادیں بہت دلچسپ ہیں کیونکہ یہ انصاری صاحب کی جوانی کے ایام تھے اور وہ ان دنوں ایک شدید جذباتی بحران سے گزر رہے تھے (اور وجہء بحران سے میری شناسائی تھی) جس کے تذکرے سے خود انھوں نے مجھے روک رکھا ہے۔
فاسٹ فارورڈ کرکے دوبارہ یونیورسٹی کے تذکرے پر آ تے ہیں کہ وہ سرائیکی ایریا سٹڈی سنٹر میں بطور ایڈوائزر اس درویش کی رہنمائی فرمارہے تھے۔۔۔ یہ 2008 سے 2013 تک کا قصہ ہے انصاری صاحب سے مستقل صحبت میسر رہی ان دنوں ان سے ان کی اور میری پسند کے لگ بھگ ہر موضوع پر مسلسل مکالمہ جاری رہا اور یہ درویش ان سے فیض یاب ہوتا رہا۔۔۔ تو ایک ناخوشگوار واقعے کا ذکر ہو رہا تھا۔ اس وقت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد ظفراللہ کالج میں انصاری صاحب کے شاگرد رہے تھے اس لئے وہ ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ ایک روز یہ طے ہوا کہ کچھ سرائیکی دانشوروں اور ادیبوں کو وائس چانسلر کے دفتر میں چائے پر بلایا جائے اور مشاورت میں شریک کیا جائے۔ میں نے ان سات آٹھ لوگوں کو بلا لیا جن کے فون نمبر اس وقت میرے پاس موجود تھے بہرحال مقررہ روز وہ صاحبان تشریف لائے تو معاملہ ہی الٹ نکلا پتا چلا کہ اس درویش کے ڈائریکٹر ہونے پر تو ان میں سے اکثرمہربان نا خوش تھے ہی پروفیسر اسلم انصاری صاحب کی سرائیکی سنڑ سے بطور ایڈوائزر وابستگی بھی انہیں ایک آنکھ نہ بھاتی تھی کیونکہ ان کے خیال میں انصاری صاحب محض اردو شاعر تھے اور سرائیکی کے ان ٹھیکے داروں کیلئے ناقابل قبول تھے۔ خیر ان کے باری باری (مذمتی) خطبات جاری تھے اور وی سی صاحب حیرت سے کبھی ان کی طرف دیکھتے اور کبھی انہیں مدعو کرنے والے یعنی میری طرف دیکھتے رہے ۔۔۔بزعم خویش سرائیکی کے ایک قومی شاعر نے تو حد ہی کردی اور انصاری صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ ہم ان کی اس لئے عزت کرتے ہیں کہ یہ امید ملتانی کے چھوٹے بھائی ہیں (انصاری صاحب کے بڑے بھائی امید ملتانی ایک سیدھے سادے وضعدار بزرگ تھے اور سرائیکی میں شاعری کرتے تھے)مجھے بہت تاؤ آیا اور میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہاں موجود شمیم عارف قریشی مرحوم نے معاملہ سنبھال لیا اور اپنی پاٹ دار اونچی آواز میں ان صاحب کو ٹوک کر انصاری صاحب کے علم وفضل کی تعریف شروع کردی اور میرا ہاتھ دبا کر خاموش رہنے کا کہا۔
انصاری صاحب جن کی زود رنجی بہت مشہور رہی ہے اس سارے دورانیے میں ایک طرف خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور ان صاحب کی بات سن کر بے حد آزردہ تھے بہر حال یہ درویش بعد میں ایک عرصہ تک ان کی دلجوئی کرتا رہا اگرچہ وہ جانتے تھے کہ میرا اس میں کوئی قصور نہیں تھا لیکن میں اپنے "حسن انتخاب” پر شرمندہ تھا۔ ڈاکٹر ظفراللہ صاحب بھی اتنے وضعدار انسان ہیں کہ انھوں نے کبھی مجھ سے اس انتخاب بے مثل کا گلہ نہیں کیا بس اتنا ضرور پوچھا کہ ان صاحب کا حدود اربعہ کیا ہے؟ حالانکہ ان صاحب کو یقین کامل تھا کہ ملتان میں کون ایسا ہے جو انھیں نہ جانتا ہو۔۔۔!
(جاری ہے)

