تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:پرویز خٹک کا بیان حکومت کی مکمل ناکامی کا اعلان ہے

چاہے یہ بات مذاق سمجھ لی جائے یا اسے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سادہ لوحی کہہ لیا جائے لیکن ایک ایسے وقت میں جب کہ فضا میں ہجوم کے ہاتھوں تشدد سے ایک سری لنکن منیجر کی ہلاکت سے افسردگی چھائی ہو اور وزیر اعظم سمیت ملک کی تمام قیادت انتہا پسندی سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کے لئے سر جوڑ کر بیٹھی ہو ۔۔۔ ملک کا وزیر دفاع جب سیالکوٹ کے انسانیت سوز سانحہ کو ’نوجوانوں کا جوش ‘ قرار دے کر اس کی شدت کم کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے حکومت ہی نہیں ملک کی ناکامی قرار دیا جائے گا۔
پرویز خٹک نے خواہ یہ بیان تحریک انصاف سے محبت کے ’جوش‘ یا وزیراعظم عمران خان سے وابستگی کے ’وفور‘ میں دیا ہو لیکن جب بھی کوئی سیاسی ذمہ دار، حکومتی عہدیدار، مذہبی لیڈر یا سماجی کارکن کسی گناہ کا عذر تلاش کرنے کی کوشش کرے گا تو دراصل وہ معاشرے کے بھیانک چہرے کو چھپانے سے زیادہ اسے نمایاں کرنے کا سبب بنے گا۔ اس رویہ سے یہ احساس تکلیف دہ حد تک شدید ہوجاتا ہے کہ پاکستان میں ہجوم کےسامنے سرنگوں ہونے اور مذہب کو ناقابل معافی جرم کے لئے عذر بنانے کا طرز عمل عام ہوچکا ہے اور اس کے خلاف اٹھنے والا احتجاج اور آوازیں وقتی اور سطحی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیالکوٹ کے سانحہ پر وزیر اعظم کے علاوہ آرمی چیف نے بھی شدید رد عمل ظاہر کیا اور قصور واروں کو عبرت ناک سزا دینے کا عزم دہرایا ہے اور کہا کہ ملک میں ایسی لاقانونیت کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ تاہم پاکستان میں آباد کسی بھی شہری کو ان دعوؤں پر اعتبار نہیں ہے۔ سب یہی سوچ کر پریشان ہورہے ہیں کہ آئیندہ ایسی اطلاع کب اور کہاں سے آئے گی اور اس کا منظر نامہ کتنا بھیانک ہوگا۔
ستم ظریفی تو یہ بھی ہے وزیر دفاع پرویز خٹک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دراصل میڈیا ہی کو نیچا دکھانےکے لئے جو ’پر زور‘ انداز اختیار کیا ہے ، اس میں دیگر باتوں کے علاوہ اس شبہ کو تقویت دی گئی ہے کہ قوم تیار رہے۔ سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں ہونے والا قتل اور دہشت گردی نہ تو پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی یہ آخری واقعہ ثابت ہوگا۔ کیوں کہ پرویز خٹک جیسا اہم وفاقی وزیر اور گھاک سیاست دان یہ اعلان کررہا ہے کہ نوجوانوں سے ایسے واقعات جوانی کے جوش میں سرزد ہوتے ہی رہتے ہیں۔ پرویز خٹک صحافیوں کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ ’ کیا یہ سانحہ9 پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے والے گروہ کو معاف کر نے اور اس سے معاہدہ کرنے کی سرکاری حکمت عملی کا بالواسطہ شاخسانہ ہے؟ یہ سوال صرف پرویز خٹک سے بات کرنے والے صحافی ہی نے نہیں اٹھایا بلکہ عام طور سے ملک کے تمام حلقوں میں یہ موضوع زیر بحث ہے کہ حکومت نے پہلے تحریک لبیک پاکستان اور پھر تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مفاہمت اور معذرت خواہی پر مبنی جو پالیسی اختیار کی ہے، کیا اس کے نتیجہ میں عام طور سے ملک میں یہ تاثر عام نہیں ہوگا کہ مذہب کی آڑ میں بڑے سے بڑا جرم کرنے کے بعد بھی اس کا جواز تلاش کیا جاسکتاہے، عام ہمدردی بھی حاصل کی جاسکتی ہے اور ایک طرح کا قوم ہیرو بننے کا موقع بھی فراہم ہوتا ہے۔
یہ سوال صرف حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان یک طرفہ معاہدہ سے ہی سامنے نہیں آتا بلکہ اس معاہدہ کے بعد سامنے آنے والے واقعات بھی اس پریشانی میں اضافہ کرتے ہیں جو حکومت کی پسپائی اور ریاست کی لاچاری سے پیدا ہونے والے منظر نامہ میں ابھرے ہیں۔ ایک طرف مفتی منیب الرحمان ایک خفیہ معاہدہ کا اعلان کرتے ہیں جس میں حکومت کے کسی نمائیندہ کو بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ مظاہرین اور ’ثالث منیب الرحمان‘ کے مطالبے کی وجہ سے ملک کے وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات کو زبان بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اسی مطالبے کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے منیب الرحمان کی پریس کانفرنس میں حکومت کی نمائیندگی کی لیکن بیان کا اختیار صرف مفتی صاحب کو حاصل تھا جنہوں نے خود ساختہ ثالث کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ پھر متعدد پولیس افسروں کو قتل کرنے میں ملوث گروہ کے احتجاج اور دھرنے کو ختم کروانے کے لئے جس معاہدہ کا اعلان کیا گیا اسے ’خفیہ‘ رکھا گیا اور مفتی منیب الرحمان نے بتایا کہ وقت کے ساتھ جب اس پر عمل ہوگا تو خود ہی لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ ’کیا معاہدہ ‘ ہؤاتھا‘۔ سب جانتے ہیں کہ مفتی صاحب کی بات سو فیصد درست تھی ۔ تحریک لبیک کے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ سارے مطالبے پورے ہوئے اور حکومت اپنے اہلکاروں کی لاشیں اٹھاکر ان کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے سے بھی معذور دکھائی دی۔ اسی لئے اب سیالکوٹ کے سانحہ کے بعد سوال کیا جارہا ہے کہ کیا 31 اکتوبر کو ہونے والے معاہدہ سے ایسی بنیاد فراہم نہیں ہوئی تھی جس سے سیالکوٹ میں ایک ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے اور پولیس کی موجودگی کی پرواہ نہ کرنے کا حوصلہ ہؤا؟
اب یہ بات واضح ہے کہ جس وقت پریانتھا کمارا پر تشدد کرکے اسے گھسیٹتے ہوئے فیکٹری سے سڑک پر لایا جارہا تھا جہاں بعد میں اس مظلوم کی لاش کو جلایا گیا، اس وقت تک پولیس وہاں پہنچ چکی تھی لیکن ان میں اتنا حوصلہ و ہمت نہیں تھی کہ وہ مشتعل ہجوم کو روکنے کے لئے آگے بڑھتی۔ یا ہوسکتا ہے کہ ان پولیس والوں کو لاہور اور وزیر آباد میں مرنے والے اپنے ساتھیوں کا انجام یاد ہو اور انہوں نے خاموش رہنے میں ہی بھلائی سمجھی ہو۔ آخر کوئی پولیس افسر کیسے ایک ایسی حکومت کے لئے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کسی کی جان بچانے کی کوشش کرے گا، جسے یہ علم ہو کہ معاہدہ کرتے وقت حکومت کو اس قربانی کی ہرگز پرواہ نہیں ہوگی۔ کسی ریاست کا نظام چھوٹے چھوٹے اشاروں سے مرتب ہوتا ہے اور بعض چھوٹے وقوعات ہی اس نظام کو بے وقعت اور کمزور کردیتے ہیں۔ اس کے بعد وزیر اعظم ایک شہری کو ہجوم کا سامنا کرنے کی کوشش پر سرکاری مہمان بنا کر اور تمغہ شجاعت سے نواز کر اپنی حکومت کے فعال ہونے کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ خود بھی جانتے ہیں کہ حکومت نام کی کوئی چیز ملک میں موجود نہیں ہے۔ اخباری بیانات اور انٹرویوز میں کئے گئے دعوؤں میں حکومت کی جو دھاک بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے، ایک ہجوم چند منٹ میں اس کا جنازہ نکال دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پرویز خٹک کا بیان درحقیقت اس میت پر فاتحہ کہنے کا اعلان ہے۔
تحریک لبیک سے ہونے والا معاہدہ اور اس کے مضمرات یوں بھی سیالکوٹ سانحہ کی حقیقت سمجھنے میں بنیادی اہم اہمیت رکھتے ہیں کیوں کہ اس ’خفیہ معاہدہ‘ کے تحت حب الوطن قرار دیے گئے ایک باغی گروہ کا لیڈر سعد رضوی جب بغاوت، بلوے اور تشدد و قتل جیسے الزامات سے ’بری‘ ہوکر اپنے مرکز واپس پہنچتا ہے تو حکمران جماعت کا صوبائی لیڈر اسے پھولوں کے ہار پہنانے میں پیش پیش ہوتا ہے۔ میڈیا یا تجزیہ نگاروں کو اس ’سیاسی حکمت‘ پر سوال اٹھانے کی اجازت بھی نہیں کہ نئے ڈاکٹرائن کے تحت ٹی ایل پی ایک سیاسی پارٹی تسلیم کی جاچکی تھی جو آئیندہ انتخابات میں عمران خان کی سیاسی کمزوری میں رفو گیری کے کام آسکتی ہے ۔ صاف ظاہر کہ سیاست میں دشمنیاں اور دوستیاں مستقل نہیں ہوتیں۔ عمران خان دھیرے دھیرے یہ سبق سیکھ رہے ہیں۔
اس پس منظر میں پرویز خٹک کا جواب دراصل ان کی شدید بدحواسی ، امن و امان قائم کرنے میں ناکامی ، شہریوں کی حفاظت اور سیاسی مقاصد کی تکمیل میں حکومت کی مکمل شکست کا اعتراف نامہ ہے۔ وفاقی وزیر کے طور پر وہ یہ اعتراف کسی ’بیان حلفی‘ کی صورت میں نہیں دے سکتے تھے ، اسی لئے صحافیوں پر غرانے اور میڈیا کو برا بھلا کہنے ہی سے کام چلایا گیا۔ پروزیز خٹک کا فرمانا تھا’ جب بچے بڑے ہوتے ہیں اور جذباتی ہوتے ہیں تو جوش میں ایسے کام ہوجاتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ واقعہ حکومت کے کسی غلط فیصلہ کی وجہ سے رونما ہؤا ہے۔ سیالکوٹ میں یہی ہؤا۔ نوجوان اکٹھے ہوئے اور کمارا پر اسلام کی توہین کا الزام لگایا اور پھر اچانک تشدد سے موت ہوگئی۔ جب لڑکے بلوغت میں داخل ہورہے ہوتے ہیں تو وہ کچھ بھی کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ جذبات پر قابو پانا تو وقت کے ساتھ آتا ہے۔ جذبات میں کچھ بھی ہوجاتا ہے۔ لڑائی بھی ہوتی ہے اور قتل بھی ہوتے ہیں۔ کسی ایک واقعہ کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت کی کسی غلطی سے ایسا ہؤا یا پاکستان تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘۔
سبحان اللہ کیسی ٹھوس دلیل سے صحافی کا منہ بند کیا گیا ہے۔ اس دلیل کی اصابت کا اندازہ تو اسی بات سے کیا جا سکتا ہے کہ جب بڑھاپے کی سیڑھیاں عبور کرتا ہؤا وفاقی وزیر ایک سوال پر ’جذبات‘ میں اس قدیربے قابو ہوجاتا ہوتو نوجوانوں سے تو واقعی کچھ بھی ممکن ہے۔ لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ ایسی جذباتیت کو دنیا کے موجودہ انتظام میں قبول نہیں کیاجاتا ۔ سرکش اور بے لگام گروہوں کے سامنے بے بس ہونے والی حکومت اور ملک کو عام طور سے ناکام ریاست قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے امریکی جریدے نیوز ویک نے اپنے تازہ شمارہ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’دنیا کا سب سے خطرناک ملک عراق نہیں پاکستان ہے‘۔ اب پرویز خٹک خواہ صحافیوں کو لیکچر دیتے ہوئے کہتے رہیں کہ ’ میڈیا ہر بات کا الزام حکومت کے سر تھوپ دیتا ہے۔ میڈیا اس مزاج کو تبدیل کرے۔ اینکرز بچوں کو اپنے مذہب سے آگاہ کریں۔ میڈیا نے تو بس اشتہاروں سے دولت کمانے کا طریقہ پکڑا ہؤا ہے‘۔
وزیر اعظم عمران خان نے آج اسلام آباد میں سول و ملٹری قیادت کے اجلاس کی صدارت کی جس میں سیالکوٹ سانحہ جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں دیگر عہدیداروں کے علاوہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی موجود تھے۔ انہوں نے ایک روز پہلے ایک ٹی وی انٹرویو میں قرار دیا تھا کہ’ہم نے معاشرے میں ٹائم بم لگائے تھے جو اب پھٹ رہے ہیں‘۔ میڈیا رپورٹس میں یہ واضح نہیں ہے کہ وزیر دفاع پرویز خٹک کو بھی اس اجلاس میں بلایا گیا تھا۔ ورنہ شاید وہ فواد چوہدری کی سرزنش کرتے کہ انہیں اپنے شر پسندانہ خیالات سے حکومت کو بدنام نہیں کرنا چاہئے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker