تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کا عبوری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں کو ضروری کارروائیاں شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاہدہ 25 اکتوبر کو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے تعاون سے طے پایا تھا ۔ تاہم ٹی ٹی پی بظاہر پاکستان کی طرف سے اپنے کارکنوں کی رہائی میں تاخیر کے سبب اس معاہدے سے منحرف ہورہی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے اکتوبر میں تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنے اور پھر ایک ماہ کے لئے جنگ بندی پر اتفاق رائے کا اعلان کرتے ہوئے دو باتوں پر اصرار کیا تھا ۔ ایک یہ کہ کوئی بھی جنگ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رکھی جاسکتی، بالآخر فریقین کو کسی نہ کسی معاہدے کے تحت ہی تنازعات کو ختم کرنا پڑتا ہے۔ دوئم یہ کہ پاکستان تحریک طالبان میں شامل صرف ان عناصر کو معافی دے گا اور عام شہری کے طور پر زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے گا جو پاکستانی آئین کا احترام کریں گے اور اس کے قوانین کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ اعلان کرتے ہوئے تصویر کے بہت سے پہلو غیر واضح رہے تھے اور اب ٹی ٹی پی کی طرف سے یک طرفہ طور سے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی طور پر جب ریاست کسی مسلح اور جنگجو گروہ کو ہم پلہ اور برابری کے درجے پر فائز کرکے بات چیت شروع کرتی ہے تو دراصل وہ خود ہی اس آئینی یا قانونی جواز سے گریز کررہی ہوتی ہے جس کی بنیاد پر کسی شدت پسند جنگجو گروہ کو مفاہمت پر آمادہ کرنا مقصود بتایا جاتاہے۔
ٹی ٹی پی کے ساتھ مصالحت کے حوالے سے سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ حکومتی حلقوں میں کافی عرصہ سے اس بارے میں کھچڑی پکتی رہی ہے لیکن عوام یا پارلیمنٹ کو کسی موقع پر یہ آگاہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد ، پاک فوج کی طرف سے بار بار قومی سلامتی کے تمام تقاضے پورے کرنے کے اعلانات کے باوجود آخر چند ہی ہفتے میں حکومتی عہدیداران کو تحریک طالبان کو عام معافی اور اس کے جنگجوؤں کو ایک نیا موقع دینے کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس بارے میں سب سے پہلے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بات کی تھی۔ اس کے بعد کابینہ کے ارکان چہ میگوئیاں کرتے دکھائی دیے ۔ اکتوبر کے شروع میں وزیر اعظم عمران خان نے ایک ترک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنگجو عناصر کو عام معافی دینے کا واضح اعلان کیا تھا۔
واقعات کی اس ترتیب کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تحریک طالبان کی اصل لڑائی پاک فوج کے ساتھ رہی ہے۔ یہ عناصر عسکری قیادت کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے مسلح جد و جہد کا حصہ بنے تھے اور بعد میں افغانستان میں امریکی جنگ اور بعد میں لال مسجد ایکشن کی وجہ سے ملک میں شریعت کے نفاذ کا نعرہ لگاتے ہوئے ان عناصر نے پاکستانی ریاست اور فوج کے خلاف اعلان جنگ کیا ہؤا تھا۔ اس جنگ میں افغان اور پاکستانی طالبان کے مقاصد ایک رہے ہیں اور انہوں نے ہر اونچ نیچ میں ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیا۔ پاکستانی فوج کو ایک طرف ٹی ٹی پی کے دہشت گرد حملوں کا سامنا رہا لیکن دوسری طرف افغان طالبان اور اس سے منسلک حقانی گروپ سے پاکستانی ایجنسیوں کے مراسم کی خبریں عالمی طور سے نشر بھی ہوتی رہیں۔ بادی النظر میں پاکستانی فوج نے اپنے وسیع تر اسٹریٹیجک مفاد میں ان بظاہر دو لیکن حقیقت میں ایک ہی گروہ کے دو حصوں کے درمیان فرق قائم کرنے اور اپنی حکمت عملی میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ستمبر اکتوبر کے دوران جب تحریک طالبان کو عام معافی دینے اور قومی دھارے میں شامل کرنے کے اعلانات سامنے آئے تو یہ صرف ملک کی سیاسی قیادت کا مؤقف تھا۔ فوجی قیادت نے اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی بیان دینا ضروری نہیں سمجھا۔
یہ صورت حال اس لحاظ سے ناقابل فہم تھی کہ اس معاملہ میں فوج ہمیشہ پیش پیش رہی تھی۔ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ٹی ٹی پی کے بزدلانہ دہشت گرد حملہ کے بعد فوجی قیادت نے آپریشن ضرب عضب کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا اور ملک کی سیاسی قیادت کو دہشت گرد عناصر کی بیخ کنی کے لئے متعدد اقدامات کرنے پر آمادہ کیا۔ اسی دوران پاکستان نے قومی ایکشن پلان بھی ترتیب دیا جس کے بارے میں اب یہ کہا جاتا ہے کہ اس پر کبھی بھی پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ عمران خان نے اس وقت کی حکومت کے خلاف اسلام آباد کے ڈی گراؤنڈ میں ’تاحیات‘ دھرنا دیا ہؤا تھا تاہم اے پی ایس سانحہ کے بعد فوج کی حوصلہ افزائی پر یہ دھرنا ختم کرکے تحریک انصاف بھی دہشت گردی کے خلاف قومی کاوشوں کا حصہ بننے پر آمادہ ہوگئی۔ اس پس منظر میں اب ملک کی سیاسی قیادت ہی تحریک طالبان کے ساتھ معاہدہ کرنے اور مصالحت کو تصادم سے بہتر قرار دینے کے لئے دلائل لانے میں مصروف دکھائی دی ہے۔ لیکن فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ان کوششوں کے حوالے سے عوام کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
حکومت پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد شدت پسند عناصر بھاگ کر افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پہنچ گئے تھے ۔ پاکستان الزام لگاتا رہاہے کہ افغانستان میں اشرف غنی کی سابق حکومت اور بھارتی ایجنسی را ، ان عناصر کی مالی اور عملی امداد کرتی تھی ۔ گویا ٹی ٹی پی کے بارے میں یہ واضح سرکاری بیانیہ تھا کہ یہ لوگ دشمن کے ایجنٹ ہیں اور ملک میں تخریب کاری کے لئے بھارت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ تاہم جب ان عناصر کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا گیا اور عام معافی دینے کی باتیں ہونے لگیں تو اس مؤقف کو بھلا دیا گیا۔ حالانکہ سرکاری بیانیہ کے مطابق ٹی ٹی پی کے اصل سرپرست یعنی بھارتی حکومت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے منظر نامہ سے ہٹنے کے بعد تو اس گروہ کو تتر بتر ہوجانا چاہئے تھا اور خود ہی کسی مذاکرات ، معاہدے یا معافی کے بغیر پاکستانی ریاست کے نظام کے سامنے پیش کرکے اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے پر مجبور ہونا چاہئے تھا۔ خاص طور سے پاکستان نے جس طرح کابل میں طالبان حکومت کو خوش آمدید کہا ہے اور اس حکومت کو تسلیم کروانے اور اس کی امداد بحال کروانے کے لئے اپنے سی سفارتی مہم جوئی کی ہے، اس کی روشنی میں تو تحریک طالبان پاکستان کو کسی قسم کی سرپرستی بہم نہیں ہونی چاہئے تھی۔
تاہم اس کے برعکس زمینی حقائق یہ ہیں کہ ٹی ٹی پی کے عناصر اور قیادت نہ صرف افغانستان میں موجود ہے بلکہ کابل حکومت ان کی ہمدردی اور سرپرستی سے دست بردار ہونے پر آمادہ بھی نہیں ہے۔ طالبان کی حکومت نے ٹی ٹی پی کو اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ وہ پاکستان جیسے دوست اور ہمدرد ملک کے خلاف دہشت گردی اور جنگجوئی کی کارروائی بند کردے اور پر امن طریقے سے اس گروہ کو ختم کردیاجائے تاکہ کابل اور اسلام آباد وسیع تر علاقائی اور عالمی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کام کرسکیں۔ اس کے برعکس افغان حکومت نے حکومت پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرے اور ان عناصر کو عام معافی دینے کی تیاری کرے جو گزشتہ بیس سال کے دوران 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔
اس طرح حقیقی تصویر کچھ یوں بنتی ہے کہ کابل میں طالبان کی حکومت ٹی ٹی پی کی ہمدردی اور سرپرستی سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہے ۔ پاکستان کو البتہ یہ پیشکش کی گئی ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے گرفتار عناصر کو رہا کردے اور اس کے بدلے میں شاید تحریک طالبان بھی مستقل جنگ بندی پر آمادہ ہوجائے۔ د وسری طرف ٹی ٹی پی بھی مذاکرات میں صرف قیدیوں کی رہائی اور مستقبل میں پر امن شہریوں کے طور سے زندگی گزارنے کی یقین دہانی نہیں چاہتی بلکہ وہ اپنے بعض سیاسی مطالبات پر عمل درآمد کی بات کرتی ہے۔ ان میں پاکستان میں شریعت کا نفاذ اور قبائیلی علاقوں کو پاکستان کا حصہ بنانے کے پارلیمانی فیصلہ کو تبدیل کرنے کا مطالبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان مذاکرات کی سہولت کاری کرتے ہوئے افغانستان کی طالبان حکومت درحقیقت ٹی ٹی پی کی طرف داری کررہی ہے۔
ہر پاکستانی حکومت کسی نہ کسی طریقے سے ہمیشہ پاکستانی قوانین کو شرعی بنانے کی بات کرتی رہی ہے اور پاکستانی آئین میں بھی اس کا ذکر موجود ہے لہذا حکومت کا خیال ہوگا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں بھی شریعت نافذ کرنے کا وعدہ کرلینا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ لیکن ان مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل اور اب ٹی ٹی پی کی طرف سے جنگ بندی کے خاتمہ کے اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ قبائیلی علاقوں کی حیثیت اور سنگین جرائم میں ملوث دہشت گردوں کو معافی دینے کا معاملہ اصل مشکل کا سبب بنا ہؤاہے۔ کابل حکومت نے ان دونوں امور پر افغان علاقوں سے پاکستان پر حملے کرنے میں ملوث عناصر کو قائل کرنے کی کوئی مثبت کوشش نہیں کی ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو للکارنے اور پاکستان کے دفاع پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کے نعروں کے دوران بظاہر ایک ’کمزور اور بے سہارا‘ گروپ سے بات چیت کے ذریعے ’بقائے باہمی‘ کا راستہ حاصل کرنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے۔ کابل حکومت سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ٹی ٹی پی کو بھارت اور سابقہ افغان حکومت کی سرپرستی بھی حاصل نہیں ہے تو پاک فوج کیوں ان عناصر کو گھیر کر ہتھیار پھینکنے پر مجبور نہیں کرتی؟ اس حوالے سے ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کی صورت حال کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ کسی معاہدے کی صورت میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی ریاست کمزور دکھائی دے گی اور ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دینے والے عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
تحریک طالبان نے پاکستان پر پھر سے حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے لئے ان شدت پسند عناصر کو کچلنے کا اس سے اچھا کوئی دوسرا موقع نہیں ہوسکتا۔ مصالحت اور بات چیت کو مسائل کا حل بتا کر ایک مذہبی شدت پسند گروہ کو قوت پکڑنے کا موقع دینا پاکستان کے وسیع تر قومی اور عالمی مفادات کے خلاف ہوگا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

