وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے سوموار کو بجٹ بحث کا آغاز کرنے سے پہلے بھارت کی حکمرن جماعت بی جے پی کے بعض لیڈروں کی طرف سے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ہرزہ سرائی کی مذمت کے لئے ’بحث‘ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم، راجہ پرویز اشرف اور وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے بھارتی ہندو لیڈروں کے رویہ مذمت کرتے ہوئے بھارت کو دوٹوک پیغام دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں اس پر ’بحث‘ کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے برتاؤ اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کی طرف سے نفرت اور خوف کی فضا پیدا کرکے ایک مشکل اور پیچیدہ صورت حال پیدا کی ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے جستہ جستہ بھارت کے سیکولر مزاج کو ہندو انتہاپسندی سے تبدیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو معاشرے میں تنہا کرنے اور ان کے خلاف متعصبانہ رویوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بھارت میں گئو کشی یا کسی دوسرے عذر پر مسلمان باشندوں کو تشدد کے ذریعے ہلاک کرنے کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ اس صورت حال کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے کبھی ایسے کسی واقعہ پر افسوس یا مذمت کا اظہار سامنے نہیں آتا بلکہ بالواسطہ طور سے مسلمانوں ہی کو مورد الزام ٹھہرا کر ان کی مشکلات میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
مسلمانوں کے حوالے سے بی جے پی کی حکمت عملی کے خد و خال اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہندوستان کی حکمران پارٹی نے ملک میں ایسے ہندو انتہاپسندانہ مزاج کو فروغ دیاہے جو اب بھارت میں وسیع بنیادوں پر فساد اور انتشار کا سبب بن رہا ہے۔ آج ہی ملک بھر میں رسول پاک ﷺکے خلاف مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ ایک مظاہرے پر پولیس فائرنگ سے دو مظاہرین جاں بحق ہوئے ہیں۔ درجنوں افراد کو زخمی حالت میں اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ متعدد شہروں میں دفعہ 144 لگا کر اور سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری کے ذریعے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی جمعہ کے روز ملک بھر میں بی جے پی کے بعض عناصر کی طرف سے اہانت آمیز کلمات ادا کرنے پر مظاہرے کئے گئے تھے۔ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت نے مذہبی شدت پسندی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کئے ہیں ، نئی دہلی کے ساتھ ڈھاکہ کی عوامی لیگ حکومت کے تعلقات بہت اچھے ہیں ۔ اس کے باوجود بنگلہ دیش میں بھارتی حکمران جماعت کے ذمہ دار ترجمانوں کی جانب سے اشتعال انگیز اور گستاخانہ بیانات کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور بظاہر مذہبی جذبات کو کنٹرول کرنے کی شہرت رکھنے والی وزیر اعظم شیخ حسینہ بھی موجودہ صورت حال میں عوامی مظاہروں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
نریندر مودی نے گزشتہ سات برس کے دور حکومت میں پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و تعصب کی وہی فضا پیدا کی ہے جو وہ اس سے پہلے ریاست گجرات میں متعارف کرواکرچکے تھے۔ وزیر اعلیٰ گجرات کے طور پر مودی پر مسلمانوں کی قتل و غارت گری کے سنگین الزام عائد ہیں۔ انہی الزامات اور مسلم کش رویہ کی وجہ سے 2014 میں وزیر اعظم بننے سے پہلے امریکہ سمیت متعدد مغربی ممالک میں نریندر مودی کا داخلہ ممنوع تھا۔ اسے بھارتی نظام ریاست کی شدید ناکامی سمجھنا چاہئے کہ ملک کی بہت بڑی اقلیت کے خلاف شدید تعصب و نفرت کا پرچار کرنے کے باوجود مودی پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی میں قومی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ، پھر 2014 کے انتخابات میں انہیں پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم کا امیدوار بھی بنا دیا گیا۔ انہوں نے ایک طرف پارٹی کے ہندتوا ایجنڈے کو زیادہ شدت پسندی کی طرف مائل کیا تو دوسری طرف ملکی سرمایہ داروں کو کانگرس کی معتدل اور عوام دوست معاشی پالیسیوں کے مقابلے میں سرمایہ دارانہ لبرل معاشی ایجنڈے کی بنیاد پر ساتھ ملا لیا۔
نئی دہلی میں اقتدار سنبھالنے سے پہلے بھی نریندر مودی کی زیادہ توجہ ملک میں ہندو انتہا پسندی کو مستحکم کرنے اور ایسے گروہوں کو مضبوط کرنے پر مرکوز رہی تھی جو اقلیتی عقائد کے خلاف پر تشدد کارروائیوں میں ملوث رہتے ہیں۔ مجرمانہ ذہن رکھنے والے لیڈر کی سربراہی میں اب ملک کا انتظامی ڈھانچہ ایسے جرائم کی پشت پناہی بلکہ حوصلہ افزائی کا سبب بنا ہؤا ہے۔ ملکی نظام پر پوری طرح قابو پانے کے لئے نریندر مودی نے سرمایہ داروں، میڈیا اور عدالتوں کو کنٹرول کرنے کی منظم اور سوچی سمجھی حکمت عملی پر کام کیا ہے۔ سیکولر ازم کا سہرا باندھنے والا بھارتی نظام اس وقت مودی کی ہندو انتہاپسندی اور مسلح مذہبی جتھوں کی دہشت گردی کے ہاتھوں بے بس ہوچکا ہے ۔ ملک میں لبرل اور متوازن سوچ رکھنے والے عناصر یا مذہبی ہم آہنگی کا پرچار کرنے والی آوازیں تیزی سے معدوم ہورہی ہیں۔ مودی کی قیادت میں ہندو انتہا پسندی اس حد تک بھارتی معاشرے کے رگ و پے میں سرایت کرگئی ہے کہ بی جے پی کی مدمقابل پارٹیاں مثلاً کانگرس پارٹی کے لیڈر بھی عوام میں پزیرائی کے لئے ، مذہبی ہتھکنڈے اختیار کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی کی انتہاپسندی کے خلاف سیاسی قوتیں کمزور اور بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ بھارت میں ہندو انتہاپسندی کے ہاتھوں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذہبی اقلیتوں کو اپنا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔
اس صورت حال میں مسلمانوں کے خلاف بھارتی حکومتی کا کوئی بھی غیر انسانی اقدام عالمی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ حتی کہ اگست 2019 میں کشمیر کی خود مختاری اور شناخت کے حوالے سے بھارتی آئین میں شامل شقات 370 اور 35 اے کو کسی پارلیمانی بحث کی بجائے ایک صدارتی حکم سے ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کردی گئی اور اسے وفاقی حکومت کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کو کشمیری عوام کی مرضی و منشا کے بغیر تین انتظامی اکائیوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اس فیصلہ کے خلاف کوئی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ تمام کشمیری قیادت کو غیر معینہ مدت کے لئے قید رکھا گیا۔ حریت پسند کشمیری لیڈروں کو نشان عبرت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ حال ہی میں یاسین ملک کو دی جانے والی عمر قید کی سزا اس سرکاری حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملکی عدالتیں بھی نئی دہلی کی غیر انسانی ، غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکتوں کا نوٹس لینے کا حوصلہ نہیں کرتیں۔
اس کا مشاہدہ مقبوضہ کشمیر کے بارے آئینی شقات کالعدم قرار دینے کے بعد کشمیر کے ڈومیسائل قوانین میں ترمیم کے ذریعے وہاں مسلم اکثریت کے خاتمہ کرنے کے منصوبہ پر استوار قوانین کی صورت میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر پر پوری طرح ہاتھ صاف کرنے پر اقوام عالم کی مکمل خاموشی کے بعد نریندر مودی کی حکومت نے دسمبر 2019 میں ہی قومی شہریت قوانین میں ترامیم کے ذریعے بھارتی مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کا اقدام کیا لیکن ملک کا عدالتی نظام مسلمانوں کی داد رسی کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ اس قانون کے تحت آسام میں لاکھوں مسلمانوں کی بھارتی شہریت ختم کرکے انہیں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قانون میں ترمیم کے خلاف نئی دہلی میں مسلمانوں کے دھرنے اور احتجاج کو بے دری سے کچل دیا گیا اور مسلمان آبادیوں کے خلاف بدترین تشدد دیکھنے میں آیا۔
نریندر مودی حکومت کی ان تمام حرکات کے باوجود عرب ممالک سمیت دنیا بھر نے بھارت کی آبادی اور معاشی اہمیت کی وجہ سے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ البتہ مئی کے آخر میں ایک ٹی وی مباحثہ میں بی جے پی دہلی کے میڈیا ونگ کی سربراہ نو پور شرما نے رسول پاک کے بارے میں نازیبا باتیں کیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر سامنے آنے پر سعودی عرب، قطر، متحد عرب امارات سمیت درجن بھر کے لگ بھگ مسلمان ملکوں نے بھارتی حکومت سے شدید احتجاج کیا اور عرب ممالک میں بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی مہم چلائی گئی۔ مودی حکومت کو پہلی بار مسلمان ملکوں کی طرف سے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد بی جے پی نے نو پور شرما اور اس کے بیان کو ٹوئٹ کرنے والے نوین کمار جندل کو پارٹی سے نکال دیا۔ بی جے پی نے ایک بیان میں کہا کہ ’کسی مذہب کی توہین اور دل آزاری پارٹی کے منشور کے خلاف ہے‘۔ اب نوپور شرما کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ تاہم اس تصویر کا المناک پہلو یہ ہے کہ طاقت ور عرب ممالک کی ناراضی کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر خارجہ جے شنکر یا کسی اہم پارٹی یا حکومتی لیڈر نے نوپور شرما کی ہرزہ سرائی کی مذمت کرنا اور مسلمانوں کی دلجوئی کے لئے کوئی بیان دینا ضروری نہیں سمجھا۔ اس حکومتی رویہ کی وجہ سے بھارتی مسلمانوں میں غم و غصہ اور بے بسی کے ملے جلے جذبات ابھررہے ہیں جس کا ایک اظہار آج کے مظاہروں میں بھی ہؤا ہے۔
پاکستانی حکومت نے بھی شدید الفاظ میں بھارتی لیڈروں کی اسلام دشمنی کی مذمت کی ہے اور بھارت سے احتجاج کیا گیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ سے بھارت میں رونما ہونے والے حالات کا نوٹس لینے اور بھارت کے خلاف اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اس معاملہ پر بحث کی درخواست کی تھی۔ تاہم وزیر اعظم کی یہ خواہش اور اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی طرف سے بحث کروانے کا فیصلہ اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے ۔ قومی اسمبلی اس معاملہ پر قرار داد کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرسکتی ہے لیکن اس موضوع پر بحث کروانے کا اقدام کمزور پاکستانی حکومت کی طرف سے اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کی بھونڈی کوشش بھی کہا جاسکتا ہے۔ رسول پاک ﷺ کی حرمت کے حوالے سے کسی معاملہ پر احتجاج ریکارڈ کروانا تو قابل فہم ہے لیکن اس پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے اپوزیشن کو اس موقع پر اجلاس میں شرکت کی دعوت دے کر اسے ایک نیا سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
اپنے تئیں اسمبلی سے استعفے دینے والے تحریک انصاف کے اراکین کو قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ’ یہ معاملہ سیاسی، جماعتی یا انفرادی نوعیت کا نہیں بلکہ ہمارے ایمان کا معاملہ ہے۔ آئیں سب مل کر گستاخوں کے خلاف ایمان کا مظاہرہ کریں‘۔ اس ’دعوت‘ کے بعد اگر عمران خان اور ان کے ساتھی اجلاس میں شرکت نہیں کرتے تو اندیشہ ہے کہ حکمران اتحادی جماعتوں کے لیڈر اس معاملہ کو تحریک انصاف کے خلاف سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کریں گے۔ یہ رویہ بنیادی سیاسی اخلاقیات اور مذہبی حساسیات سے میل نہیں کھاتا۔
بھارت کی اسلام دشمن اور مسلم کش پالیسیوں کے خلاف عالمی رائے تیار کرنے کے لئے مسلسل سفارتی و سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے لیکن مذہبی حساسیات کو ملکی سیاسی کھیل میں ہتھکنڈے کے طور استعمال کرنے سے گریز مناسب ہوگا۔ قومی اسمبلی میں اس موضوع پر بحث بھارت کے انتہا پسند عناصر کو غیر ضروری اہمیت دینے کے مترادف ہے۔ اس وقت ملک کو سیاسی تنازعات سے بچنے اور بھارت کے خلاف یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے قومی اسمبلی میں بحث کروانا کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے۔ یہ بحث ایک مذہبی انتہا پسندی کے خلاف دوسری قسم شدت پسندی کی حوصلہ افزائی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

