پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کے بعد اتحادی حکومت کی صفوں میں دراڑیں پڑنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ مریم نواز کے ٹوئٹ اور اطلاعات کے مطابق نواز شریف عوام پر مزید کوئی بھی مالی بوجھ ڈالنے کے خلاف ہیں جبکہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور شہباز شریف کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تمام ضروری معاشی اقدامات ناگزیر ہیں۔
مبینہ طور پر اس معاملہ پر فیصلہ کرنے والے ایک اجلاس سے مسلم لیگ (ن) کے رہبر نواز شریف یہ کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے کہ وہ حکومت کی مجبوریوں کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اتحادی حکومت کا اہم حصہ پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف علی زرداری نے بھی ایک بیان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اتحادی حکومت کو اس قسم کے فیصلے حکومتی شراکت داروں کے ساتھ مل کرکرنے چاہئیں۔ گو کہ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد میں شامل ہے اور اس کا حصہ رہے گی لیکن انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو غیر ضروری قرار دیا۔ اس اضافہ پر رد عمل کی ایک وجہ یہ بھی دکھائی دیتی ہے کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہوئی ہیں او ربظاہر پاکستان میں تیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی تھی لیکن سوموار کو اوگرا کے مشورہ پر حکومت نے ہمہ قسم پیٹرولیم مصنوعات پر پونے سات روپے لیٹر کے لگ بھگ اضافہ کی منظوری دی تھی۔ پاکستان میں ہر دو ہفتے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی کا فیصلہ ہوتا ہے۔
موجودہ حکومت کے آغاز میں پیٹرول کی قیمتوں میں ستر روپے لیٹر اضافہ ہؤا تھا تاہم حالیہ ہفتوں میں قدرے کمی بھی دیکھنے میں آئی تھی۔ حکومت کا دعویٰ تھا کہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں کمی پاکستانی صارفین کو منتقل کی جائے گی اور حکومت مزید محاصل عائد نہیں کرے گی۔ یوں تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی منڈیوں کے مطابق کرنا آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کی نتیجہ میں ضروری تھا۔ سیاسی تصادم کے عروج کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان نے نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی بلکہ اسے بجٹ تک منجمد کرنے کا اعلان بھی کیا حالانکہ اس وقت عالمی منڈیوں میں یوکرائن جنگ کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔ اس فیصلہ کی وجہ سے ایک طرف آئی ایم ایف کے ساتھ جاری امدادی پروگرام معطل ہوگیا تو دوسری طرف عدم اعتماد کے بعد برسر اقتدار آنے والی شہباز شریف کی حکومت کو پریشان کن مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی لئے موجودہ حکومت پہلے ایک ماہ کے دوران کوئی بڑا معاشی فیصلہ کرنے میں ناکام رہی تھی کیوں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا اور اس کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑتی۔ تاہم لندن اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) بالآخر یہ سیاسی جؤا کھیلنے پر تیار ہوگئی البتہ یہ طے کیا گیا کہ موجودہ حکومت بہر حال فوری انتخابات نہیں کروائے گی تاکہ آئیندہ سال کے بجٹ میں موافق حالات پیدا کرکے عوام کو سہولت دی جائے اور مسلم لیگ (ن) کے علاوہ اتحادی جماعتیں بھی بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے عوام سے ووٹ مانگنے کے لئے جاسکیں۔
پیٹرولیم کی مصنوعات میں اضافہ حکومت پاکستان کی شدید مجبوری تھی۔ اس کے بغیر پاکستانی معیشت شدید تعطل کا شکار تھی۔ آئی ایم ایف معاہدہ کے مطابق یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کوئی تعاون کرنے پر آمادہ نہیں تھا اور شہباز شریف کو دوست ممالک کے دوروں کے دوران یہی پیغام دیا گیا تھا کہ جب تک آئی ایم ایف پاکستان کا مالی پیکیج بحال نہیں کرتا ، اس وقت تک پاکستانی حکومت کسی مالی امداد کی توقع نہیں کرسکتی۔ پاکستانی خزانہ اس غیر معمولی صورت حال کا بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے تھے اور یہ تشویش موجود تھی کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان کسی بھی عالمی ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں ڈیفالٹ ہوسکتا ہے اور اسے بھی سری لنکا جیسی صورت حال کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی اندیشے کے پیش نظر بہرصورت آئی ایم ایف کو راضی کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور پیٹرول کی قیمتوں میں یکے بعد دیگرے بھاری اضافہ کرنے کے علاوہ بجٹ میں حکومتی آمدنی میں اضافہ کے لئے ایسے اقدامات تجویز کئے گئے جن سے براہ راست عام لوگ متاثر ہوئے ہیں اور ملک میں افراط زر میں اضافہ ہؤا ہے۔
یہ ستم ظریفی بھی دیکھنے میں آئی کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کے خلاف سازشی نظریہ کی ترویج کرنے کے بعد مہنگائی کو بھی ایک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا۔ لوگوں کو یہی تاثر دیا گیا کہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کے ذریعے اور عوام کو لوٹنے کے لئے بدعنوان لیڈروں کو حکومت دی گئی ہے اور یہ اضافہ شاید ان لیڈروں کے غیر ملکوں اکاؤنٹس میں جمع ہورہا ہوگا۔ اس قسم کی سیاسی نعرے بازی کا ہی اثر تھا کہ پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف شاندار کامیابی حاصل کرکے حمزہ شہباز کی جگہ پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنوانے اور شہباز حکومت کو شدید دباؤ میں لانے میں کامیاب ہوگئی۔ پیٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور آصف زرداری کا رد عمل شاید اسی سیاسی خوف کا نتیجہ ہے۔ خاص طور سے مسلم لیگ میں اس سوال پر پیدا ہونے والا اختلاف قابل توجہ ہے کیوں کہ عدم اعتماد سے لے کر مشکل معاشی فیصلے کرنے کے تمام مراحل میں نواز شریف کی مرضی شامل رہی ہے۔ پھر موجودہ نسبتاً معمولی اضافہ پر اس قدر شدید رد عمل ناقابل فہم ہے کہ نواز شریف پارٹی اجلاس سے ناراض ہوکر چلے گئے اور مریم نواز اپنی ہی حکومت کے خلاف ٹوئٹر پر مہم جوئی کررہی ہیں۔
حکمت عملی کی یہ تبدیلی یوں بھی قابل غور ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں عام تاثر یہی ہے کہ ووٹ بنک نواز شریف کا ہی ہے اور ان کی مرضی کے بغیر مسلم لیگ (ن) سیاسی طور سے کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتی۔ ووٹروں کی اس حمایت کی وجہ سے ہی نواز شریف کو تمام اہم فیصلوں میں شامل کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے حالانکہ عدالتیں انہیں سیاسی سرگرمیوں اور کسی بھی سیاسی ، سرکاری یاعوامی عہدہ کے لئے نااہل قرار دے چکی ہیں۔ نواز شریف کو یہ اندازہ بھی ہوگا کہ وہ جب خود ہی اپنے بھائی اور پارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے تو اسے اتحادی حکومت میں اختلاف کے طور پر دیکھا جائے گا اور موجودہ حکومت کی اتھارٹی اور دائرہ کار مزید محدود ہو گا ۔ اس لئے اہم سوال یہ ہے کہ نواز شریف کو یہ انتہائی پوزیشن لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ نواز شریف کے اس رویہ کی دو ہی توجیہات ممکن ہیں:
ایک: ان پر پنجاب کے ضمنی انتخاب میں پارٹی کی ناکامی کا شدید دباؤ ہے اور وہ اسے کم کرنے کے لئے اپنی حکومت سے اختلاف ظاہر کرکے اپنے حلقہ اثر میں اپنا اثر و رسوخ اور پسندیدگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ جائز طور سے سمجھتے ہیں کہ حکومت کے سخت معاشی اقدامات خواہ ملکی اقتصادیات کو بہتری کی طرف گامزن کرسکیں لیکن ان سے ان کی اپنی پوزیشن اور پارٹی کی سیاسی حیثیت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اب وہ یہ قیمت ادا کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ خاص طور سے گزشتہ دنوں ان کی پاکستان واپسی کے تناظر میں یہ سمجھنا ہوگا کہ نواز شریف کو اگر عمران خان کے شدید سیاسی مؤقف کے مقابلہ میں عوامی رائے کا سامنا کرنا ہے تو ان کے پاس ایسا کوئی ٹھوس سیاسی زاد راہ ہونا چاہئے جس کی بنیاد پر وہ کچھ نعرے تخلیق کرکے عوام کو رجھانے کی کوشش کریں۔
دوئم: پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی ناکامی اور حکومت سے محرومی کے بعد مسلسل شہباز شریف کی حکومت کے مستقبل کے بارے میں سوالات سامنے آتے رہے ہیں۔ تجزیہ نگار اس پر حیران ہیں کہ صرف اسلام آباد تک محدود وفاقی حکومت کس طرح کام کرسکتی ہے اور نئے انتخابات کے مطالبہ کو کب تک ٹالا جاسکے گا۔ پنجاب میں حمزہ شہباز کی ناکامی کے بعد سے جلد انتخابات کی باتیں سیاسی حلقوں میں گردش کرتی رہی ہیں۔ اگرچہ وفاقی حکومت نے یہی دعویٰ کیا ہے کہ وہ مزید ایک سال تک اقتدار میں رہنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حال ہی میں شہباز گل کے فوج مخالف بیان کے بعد تحریک انصاف کسی حد تک دفاعی پوزیشن میں آئی ہے اور لاہور کے اہم جلسہ آزادی میں بھی فوری انتخابات کا مطالبہ دہرایا نہیں گیا۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ تحریک انصاف اس بحران سے نکلنے کے بعد فوری انتخابات کے مطالبہ سے دست بردار ہوجائے گی۔ اگلے ماہ کے دوران قومی اسمبلی کی 9 نشستوں پر انتخاب ہونے والا ہے۔ تحریک انصاف پوری قوت سے ان میں شریک ہونے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگر پارٹی ان میں سے بیشتر سیٹیں جیت گئی تو نئے انتخابات کا جواز بھی پیدا ہوجائے گا اور یہ مطالبہ بھی زیادہ شدت اختیار کرے گا۔
یہ ممکن ہے کہ نواز شریف کو بھی یہ اندیشہ ہو کہ موجودہ حکومت کے پاس پورا ایک سال نہیں ہے جس کے دوران وہ کوئی ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کرسکے کہ عوام کی توجہ حاصل کرلے یا تحریک انصاف کے طوفان کو روک سکے۔ اس لئے پیش بندی کے طور وہ ابھی سے اپنی ہی حکومت کے خلاف ’محاذ‘ بنا کر عوام تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ شہباز شریف خواہ مسلم لیگ (ن) کے صدر کی حیثیت میں ہی وزیر اعظم بنے ہوں لیکن نواز شریف ان کی حکومت کے فیصلوں سے پوری طرح متفق نہیں ہیں۔ گزشتہ روز دیے گئے رد عمل میں یہی تاثر دیا گیا ہے کہ نواز شریف حکومت کی مزید ’عوام دشمن پالیسیوں‘ کی حمایت نہیں کریں گے۔ بلکہ وہ عوام کو ریلیف دلانا چاہتے ہیں۔ ان کے حامی اس ردعمل کو نواز شریف کے امیج بلڈنگ کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔
اس ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے شروع میں وزیر اعظم شہباز شریف کو نئے آرمی چیف کے بارے میں اہم فیصلہ بھی کرنا ہے۔ عام طور سے خیال کیا جاتا ہے کہ اس تقرری سے پاکستانی سیاست کے رخ کا تعین ہوگا۔ یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ شہباز شریف اگرچہ ہمیشہ بھائی کے ساتھ وفادار رہے ہیں لیکن اسٹبلشمنٹ اور فوج سے تعلق کے بارے میں ان کی حکمت عملی نواز شریف کے برعکس رہی ہے۔ اب جبکہ وہ خود بطور وزیر اعظم آرمی چیف کا تقرر کرنے کے مجاز ہیں ، کیا وہ بھائی کے مشورہ و خواہش کو پورا کریں گے یا خود اپنی مرضی کے مطابق کوئی ایسا فیصلہ کریں گے جو ان کے خیال میں ان کے سیاسی مستقبل کے لئے سود مند ہوسکے۔ نواز شریف اس صورت حال سے بے خبر نہیں ہوسکتے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

