Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, فروری 11, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • نیٹ میٹرنگ ۔۔ امیر اور غریب کو یکساں نگاہ سے دیکھنے والا بندوبست : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • ڈاکٹر علی شاذف کا جہان ِحیرت : ظہور چوہان کا اختصاریہ
  • پی ٹی آئی کی تنظیمی کمزوریاں اور سیاسی عمل سے لاتعلق عوام : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • نیٹ میٹرنگ ختم، بلنگ شروع، سولر صارفین کو یونٹ کی قیمت دینی ہوگی : نیپرا
  • اسیں لہور سجائیے : وجاہت مسعود کا کالم
  • تہران : انسانی حقوق کی نوبل انعام یافتہ کارکن نرگس محمدی کو مزید ساڑھے سات سال قید کی سزا
  • ناصر ملک ایک ہمہ جہت شاعر و ادیب : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا بلاگ
  • گزران: ایک حسّاس روح کی سرگزشت : محمد عمران کا کتاب کالم
  • ندیم الرحمان : خدا کا دوست خدا کے حوالے :رضی الدین رضی کا اختصاریہ
  • ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : خوفزدہ بہار اور ہارا ہوا حوصلہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»سید مجاہد علی کا تجزیہ:عمران خان: معیشت کے لئے آزار بننے کی بجائے، عوام کے سہولت کار بنیں
تجزیے

سید مجاہد علی کا تجزیہ:عمران خان: معیشت کے لئے آزار بننے کی بجائے، عوام کے سہولت کار بنیں

ایڈیٹراکتوبر 15, 20220 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
imran march
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

ملک میں قومی اسمبلی کے متعدد حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کی وجہ سے سیاسی ہیجان میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان مسلسل یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ جلد ہی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے والے ہیں۔ ان کی باتوں پر یقین کیا جائے تو اس ایک کال کے بعد ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوجائے گا۔ عمران خان سمیت کسی کو بھی ایسی کسی ڈرامائی تبدیلی کی امید نہیں ہے ، اسی لئے سیاسی ماحول کو آلودہ رکھنے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کئے جارہے ہیں۔
واشنگٹن ائیرپورٹ پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ’چور چور‘ کے نعرے اور فیصل آباد کے ایک شہری کی طرف سے مریم نواز کو قتل کرنے کی دھمکی جیسے واقعات کو ان ہتھکنڈوں میں شامل کرنا چاہئے جن کی تحریک انصاف جان بوجھ کر حوصلہ افزائی کرتی ہے تاکہ سیاسی ماحول مسلسل کشیدہ رہے اور حکومت کی توجہ امور مملکت کی بجائے ہنگامے فرو کرنے اور اختلافی بیانات اور الزامات کا جواب دینے پر صرف ہوتی رہے۔ ملک کا کوئی ذی شعور شہری ایسی سیاست کی تائد نہیں کرسکتا ۔ اس کے باوجود یہی اطوار اس وقت قومی منظر نامہ پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ اس لئے سمجھا جاسکتا ہے کہ سیاسی اور قومی امور کو اصولوں کی بنیاد پر دانشمندی سے حل کرنے کی بجائے، عوام کو نعروں، اندھی محبت و نفرت ، دشنام طرازی اور یک طرفہ جھوٹے پروپیگنڈا کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تھوڑی دیر پہلے عمران خان نے کراچی میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دو روز بعد ہونے والے ضمنی انتخاب کو ملک کی تقدیر کا ’ریفرنڈم‘ قرار دیا۔ یعنی قومی اسمبلی کے دس اور پنجاب اسمبلی کے دو حلقوں میں ہونے ان ضمنی انتخابات میں اگر تحریک انصاف کامیاب ہوگئی تو ملک کی ناؤ پار لگ جائے گی اور اگر تحریک انصاف کو خاطر خواہ کامیابی نصیب نہ ہوسکی تو پاکستانی عوام کو ’حقیقی آزادی‘ کے خلاف کسی نئی سازش کی کہانی سناکر گمراہی کا ایک نیا سفر شروع کردیا جائے گا۔ اتوار کو جن حلقوں پر ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں، یہ تمام حلقے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے اراکین کے استعفوں کی وجہ سے خالی ہوئے تھے۔ کیوں کہ عمران خان کا خیال تھا کہ موجودہ قومی اسمبلی ، ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور ہونے کے بعد عوام کی نمائیندہ نہیں رہی۔ ویسے تو یہ اپنی جگہ پر ایک دلچسپ اور ناقابل فہم دلیل ہے لیکن اس بحث کو فی الوقت فراموش کرکے اگر عمران خان کے اس طرز عمل پر غور کیا جائے کہ وہ اب خود خالی ہونے والی تمام نشستوں پر امید وار بنے ہوئے ہیں۔ ان نشستوں پر تحریک انصاف کی کامیابی کی صورت میں منتخب ہونے والے رکن کو اسی اسمبلی کا حلف اٹھانا پڑے گا اور کارروائی میں شریک ہونا پڑے گا جس سے پارٹی نے استعفے دینے کا فیصلہ کررکھا ہے۔ وہ تو اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے ابھی تک تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استعفے منظور کرنے سے اجتناب کیا ہے، بصورت دیگر ان تمام حلقوں پر ضمنی انتخاب منعقد ہوتا۔ تو کیا تحریک انصاف کی قومی سیاست کا اہم ترین نکتہ محض یہ سیاسی شعبدہ بازی ہے کہ استعفے دیے جائیں۔ پھر انتخاب لڑ کر کامیاب ہؤا جائے اور مخالفین پر اپنی ’مقبولیت‘ کا دباؤ ڈال کر کوئی نہ کوئی سیاسی رعایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
اس سیاسی حکمت عملی میں عمران خان اس حد تک تو کامیاب ہیں کہ وہ مسلسل خبروں میں رہتے ہیں۔ اخبارات کی روزانہ شہ سرخیوں میں عمران خان سے متعلق دو تین خبریں لازمی شامل ہوتی ہیں۔ اسی طرح ملک کے سیاسی مباحث میں بھی یہی ایک نکتہ حاوی رہتا ہے کہ عمران خان کی حکمت عملی کیاہے اور وہ اپنی پٹاری سے کون سا نیا سانپ نکالنے والے ہیں۔ یہ تو مانا جاسکتا ہے کہ خبروں میں رہنے سے عمران خان سیاسی طور سے بدستور حکومت کے لئے اہم ترین چیلنج بنے ہوئے ہیں لیکن یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ اس طرز سیاست سے عمران خان کے ووٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا یا سیاسی لحاظ سے انہیں زیادہ اہم سمجھا جانے لگے گا۔ کسی بھی پارلیمانی نظام میں کوئی سیاسی لیڈر یا پارٹی اسی صورت میں اپنی اہمیت منوا سکتی ہے اور اپنے منشور کے بعض نکات کو حکومتی فیصلوں میں شامل کروا سکتی ہے اگر وہ پارلیمنٹ میں مثبت کردار ادا کرنے پر تیار ہو۔ جو پارٹی اسمبلی سے استعفے دے کر ایک بار پھر اپنی ہی خالی کی ہوئی نشستوں پر محض اس لئے انتخاب لڑ رہی ہو تاکہ ایک بار پھر استعفی دینے کا ’موقع‘ مل سکے، اسے قومی سیاست میں کیوں کر اہم اور ذمہ دار سمجھا جاسکتا ہے۔ اس طرز عمل سے ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ عمران خان تحریک انصاف کی اندرونی سیاست کے بعد اب قومی سیاست کو بھی اپنی ذات کا اسیر کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ لیکن خود کو نعمت غیر مترقبہ ثابت کرنے کے لئے پارلیمانی کردار ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
اس تصویر کا یہ پہلو بھی کم افسوسناک اور تکلیف دہ نہیں ہے کہ خود کو قوم کا مسیحا قرار دینے والا ایک لیڈر اپنی پارٹی کو ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کررہا ہے جس کی وجہ سے ضمنی انتخابات کی صورت میں قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑتا ہے۔ البتہ اس کی پرواہ کرنے اور کوئی متبادل اور معتدل طرز سیاست اختیار کرنے کی بجائے یہ جھوٹے سچے قیاسات عام کئے جاتے ہیں کہ حکومت میں شامل لیڈروں نے سازش کے تحت حکومت حاصل کرکے کتنے ارب روپے کی بچت کرلی ۔ لیکن ا س حقیقت پر غور نہیں کیا جاتا کہ ا س منفی سیاست سے حفاظتی انتظامات اور ضمنی انتخابات کی صورت میں قومی خزانے کو کتنے ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔ اب عمران خان ضمنی انتخاب میں متعدد نشستوں پر خود امید وار بنے ہوئے ہیں۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ضمنی انتخاب میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ کر تحریک انصاف قومی اسمبلی میں واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہے تو بھی عمران خان تو صرف ایک ہی نشست سے نمائیندگی کرسکیں گے۔ خالی ہونے والی نشستوں پر پھر سے انتخاب ہوگا۔ کیا قوم کے ہمدرد لیڈر کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ملک کی بدحال معیشت کر مزید زیر بار کرنے کا موجب بنے۔ لیکن شخصی سیاسی سرخروئی کے لئے اس پہلو پرغور کرنے کی زحمت ہی نہیں کی جاتی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت قومی اسمبلی میں خصوصی قانون سازی کے ذریعے ایک سے زیادہ نشستوں پر انتخاب لڑنے کا شوق پورا کرنے والے لیڈر سے ان تمام حلقوں کے ضمنی انتخاب پر صرف ہونے والے اخراجات وصول کرے جو ایک یا دو سے زائد حلقوں میں امید وار بنتا ہے۔
پاکستان نہ تو کسی بڑی ہنگامہ آرائی کا متحمل ہوسکتا ہے اور نہ ہی عمران خان اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود ایسا کوئی عوامی طوفان برپا کرسکتے ہیں کہ ملک کا نظام تتر بتر ہوجائے۔ لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بے یقینی کی کیفیت پیدا کرکے عمران خان ملکی معیشت کے لئے ’حقیقی آزار‘ کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ وہ خود کہتے ہیں کہ انتخابات ضروری ہیں تاکہ ایک مستحکم حکومت قائم ہوسکے۔ لیکن انہیں علم ہونا چاہئے کہ ملک میں صرف اس وقت کوئی مستحکم اور فعال حکومت قائم ہوسکے گی جب اپوزیشن ہمہ وقت احتجاج کا طریقہ ترک کرکے ملکی سیاست میں ہیجان اور بے چینی کم کرنے میں کردار ادا کرے گی۔ اگر نئے انتخابات کے بعد بھی عمران خان کو دو تہائی اکثریت نہ مل سکی یا انہیں پہلے کی طرح ویسی ہی کمزور حکومت بنانا پڑی جسے ہر قانون کی منظور ی کے وقت اسمبلی میں نمبر پورے کرنے کے لئے ’اسٹبلشمنٹ‘ کے تعاون کی ضرورت ہوئی تو کیا ایسی حکومت کی اپوزیشن اسے اطمینان سے حکمرانی کرنے دے گی؟
اور اگر تحریک انصاف انتخابات کے نتیجہ میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ آئی تو کیا وہ خود نچلا بیٹھ جائے گی اور انتخابی نتائج کو قبول کرلے گی؟ ہرگز نہیں۔ عمران خان روزانہ کی بنیاد پر اعلان کرتے ہیں کہ انہیں کوئی ایسا نتیجہ منظور نہیں ہوگا جس میں وہ سرخرو نہ ہوں۔ عمران خان ایک ایسے ’امتحان ‘ میں بیٹھنا چاہتے ہیں جس کے سوالات اور جوابات پہلے ہی عمران خان کے کان میں بتا دیے جائیں۔ کیا کسی ایسے انتخاب کو کوئی جمہوری کہے گا جس میں کامیاب ہونے والی پارٹی کا پہلے سے تعین کرلیا جائے۔ 2018 میں ایسا تجربہ کیا جاچکا ہے۔ تحریک انصاف کو قبل از وقت مستقبل کی حکمران جماعت کا اسٹیٹس دیا گیا، مخالف جماعتوں کو ناکام بنانے کے ہتھکنڈے بروئے کار لائے گئے اور اہم ترین مخالفین کو نشان عبرت بنانے کے لئے ملکی عدالتی نظام کو بے دردی سے استعمال کیا گیا۔ اس کا کیا نتیجہ برآمد ہؤا؟ کیا عمران خان اپنی حکومت کا ایک کارنامہ بتاسکتے ہیں یا کسی ایسے منصوبہ کی نشاندہی کرسکتے ہیں جسے تحریک انصاف کی کارکردگی کہا جائے۔ درحقیقت عمران خان کی حکومت ناکامیوں اور مایوسیوں کی طویل کہانی ہے۔ اب موجودہ حکومت کی ناکامیوں کا حوالہ دے کر یہ تاثر قوی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کیسے تحریک انصاف کی حکومت بہتر تھی۔ عمران خان کو علم ہونا چاہئے کہ تحریک انصاف کی حکومت قائم رہتی تو ملکی معاشی ، انتظامی اور سفارتی حالات شاید اس حد تک خراب ہوتے کہ فوج کو براہ راست مداخلت پر مجبور ہونا پڑتا۔
عمران خان ضرور انتخاب کی تیاری کریں لیکن اس کے لئے بازی گر کی طرح قوم کا تماشہ بنانے کا طریقہ ختم ہونا چاہئے۔ آئینی طور سے بھی نئے انتخابات اب آٹھ دس ماہ کی دوری پر ہیں۔ محض اس عذر پر اسلام آباد پر دھاوا بولنے اور عالمی اداروں و سرمایہ داروں کو سراسیمہ کرنے کا طریقہ ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے شہباز حکومت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن پاکستان کے مسائل میں ضرور اضافہ ہورہا ہے۔ عمران خان کو لانگ مارچ کا راگ الاپنے اور اپنے جاں نثاروں کو سیاسی مخالفین کے خلاف نعرے لگانے کی تیاری کروانے کی بجائے تحریک انصاف کی معاشی حکمت عملی کا اعلان کرنا چاہئے۔
پہلے بھی عمران خان کسی تیاری کے بغیر نعرے لگاتے ہوئے اقتدار میں آئے تھے۔ نتیجہ ان کے سامنے ہے۔ اب بھی کسی ٹھوس سیاسی و معاشی منشور کے بغیر اول تو ووٹروں کو بے وقوف بنانا مشکل ہوگا ، اگر بالفرض وہ اس مقصد میں کامیاب ہو بھی جائیں تو بھی اقتدار میں نئی ناکامیاں اور پریشانیاں ان کی منتظر ہوں گی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعبدالرشید شکورکاکالم:محمد نواز صحیح معنوں میں فتح گر: پاکستان نے نیوزی لینڈ کو پانچ وکٹوں سے ہرا کر سہ فریقی سیریز جیت لی
Next Article پاکستان شاید دنیا کی خطرناک ترین اقوام میں سے ایک ہے، امریکی صدر
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

نیٹ میٹرنگ ۔۔ امیر اور غریب کو یکساں نگاہ سے دیکھنے والا بندوبست : برملا / نصرت جاوید کا کالم

فروری 11, 2026

ڈاکٹر علی شاذف کا جہان ِحیرت : ظہور چوہان کا اختصاریہ

فروری 10, 2026

پی ٹی آئی کی تنظیمی کمزوریاں اور سیاسی عمل سے لاتعلق عوام : برملا / نصرت جاوید کا کالم

فروری 10, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • نیٹ میٹرنگ ۔۔ امیر اور غریب کو یکساں نگاہ سے دیکھنے والا بندوبست : برملا / نصرت جاوید کا کالم فروری 11, 2026
  • ڈاکٹر علی شاذف کا جہان ِحیرت : ظہور چوہان کا اختصاریہ فروری 10, 2026
  • پی ٹی آئی کی تنظیمی کمزوریاں اور سیاسی عمل سے لاتعلق عوام : برملا / نصرت جاوید کا کالم فروری 10, 2026
  • نیٹ میٹرنگ ختم، بلنگ شروع، سولر صارفین کو یونٹ کی قیمت دینی ہوگی : نیپرا فروری 10, 2026
  • اسیں لہور سجائیے : وجاہت مسعود کا کالم فروری 9, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.