پاکستان کے منظر نامہ پر کینیا میں صحافی ارشد شریف کی افسوسناک ہلاکت کی خبر چھائی ہوئی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے سوشل میڈیا کی قیاس آرائیوں نے جلتی پر تیل کا کام کیاہے اور اس موت کو مرحوم صحافی کے کیرئیر اور خیالات کے تناظر میں پرکھا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے تھوڑی دیر پہلے پشاور میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے ارشد شریف کی ہلاکت کو ’ٹارگٹ کلنگ‘ قرار دیا۔ اس طرح ایک افریقی ملک میں ہونے والے سانحہ کی بنیاد پر ملکی سیاست میں طوفان برپا کرنے کی ناروا کوشش کی گئی ہے۔
البتہ کینیا سے ارشد شریف کی المناک موت کی خبر آنے کے بعد پاکستان میں رونما ہونے والے دو واقعات بھی قابل ذکر ہیں ۔ ان واقعات پر غور کیاجائے تو ارشد شریف کے قتل سے بننے والی تصویر کو مکمل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ کل رات دیر گئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صدر پاکستان کے نام ایک خط میں ذاتی وجوہات کی بناد پر استعفیٰ دے دیا۔ اس استعفیٰ پر سامنے آنے والے تبصروں میں قیاس کیا جارہا ہے کہ لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے جس سیشن کی صدارت وفاقی وزیر قانون کررہے تھے، اس میں اسٹبلشمنٹ کے خلاف نعرے بھی بلند کئے گئے۔ اب نذیر تارڑ کے استعفیٰ کو اس ناخوشگوار واقعہ سے جوڑا جارہا ہے۔
دوسری طرف سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون نے انکشاف کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے لئے ججوں کی تعیناتی کے معاملہ میں وزیر قانون نے سینارٹی سے ہٹ کر ووٹ دیاتھا۔ یہی فیصلہ ان کے استعفی کی وجہ بنا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس نے تین ایسے ججوں کے نام پیش کئے تھے جو ہائی کورٹس میں سینارٹی کے لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ان تینوں ججوں کے نام جوڈیشل کمیشن کے سابقہ اجلاس میں بھی تعیناتی کے لئے پیش کئے تھے لیکن اکثریت کی حمایت نہ ملنے کی وجہ سے ان کی تقرری کا فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔ چیف جسٹس نے 24 اکتوبر کو منعقد ہونے والے اجلاس میں ایک بار پھر ان ناموں کو غور کے لئے پیش کیا جس پر اجلاس کے دوران طویل بحث ہوئی اور بعض ارکان کی طرف سے نشاندہی کی گئی کہ ایک بار ان ججوں کے نام مسترد ہوچکے ہیں ، اس لئے انہیں دوبارہ پیش نہیں کرنا چاہئے۔
تاہم ان ججوں کے ناموں میں سے دو کے بارے میں رائے شماری ہوئی اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے حمایت کرنے پر دونوں کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی سفارش کی گئی جبکہ تیسرے جج کا نام واپس لے لیا گیا۔ البتہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا نام اتفاق رائے سے منظور ہوگیا کیوں کہ وہ سینارٹی کے میرٹ پر پورا اترتے ہیں۔ حکومتی نمائیندوں وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے جوڈیشل کمیشن کے سابقہ اجلاس میں سینارٹی کے اصول کی وجہ سے ان ججوں کی تقرری کے خلاف ووٹ دیاتھا لیکن اس بار وزیر قانون نے اسی اصول کو مسترد کردیا ۔ جبکہ اٹارنی جنرل کامؤقف تھا کہ انہوں نے سابقہ میٹنگ میں بھی مخالفت میں ووٹ نہیں دیاتھا بلکہ مزید غور کے لئے وقت دینے کا مشورہ دیا تھا ۔ وکلا تنظیمیں جونئیر ججوں کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی شدید مخالفت کررہی ہیں جبکہ چیف جسٹس کے اصرار پر ایک بار پھر دو جونئیر جج سپریم کورٹ میں ترقی پاجائیں گے۔ البتہ اس مرحلہ پر حکومتی نمائیندوں کا بدلا ہؤا رویہ اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان بنا ہؤا ہے۔ اب شاید نذیر تارڑ کو قربانی کا بکرا بنا کر اس بے اصولی سے درگزر کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ جاننا بھی اہم ہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے ان ہی جونئیر ججوں کی تقرری کے سوال کو اپنی عزت کا معاملہ کیوں بنایا اور حکومتی نمائیندوں کی رائے تبدیل کروانے کے لئے کس قسم کا دباؤ بروئے کار لایا گیا۔
مشکوک حالات میں ایک کمزور حکومت کے وزیر قانون کا اچانک استعفیٰ ملکی سیاست اور اداروں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے تشویش کا سبب بنا ہے۔ البتہ عدلیہ کے بارے میں تحریک انصاف کی طرف سے عمران خان کا ایک بیان بھی جاری کیا گیاہے جس میں اعلیٰ عدلیہ سے سوال کیاگیا ہے کہ وہ اداروں کی قانون شکنی اور ماورائے آئین اقدامات کے بارے میں کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ عدالت موجودہ حالات میں اپنی ’عدم فعالیت‘ کی پوزیشن واضح کرے۔ بیان میں غیر آئینی اقدامات کے سلسلہ میں اپنی حکومت کے خلاف نام نہاد سازش اور تحریک انصاف کے لیڈروں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا حوالہ دیاگیا ہے۔ اس بیان میں عمران خان نے فوج کے بعد اب اعلیٰ عدالت کو سیاسی فعالیت کا مظاہرہ کرنے پر اکساتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی عسکری قیادت کی طرح عدالتوں کے جج بھی تحریک انصاف کی سیاست کے لئے اپنا اختیار و صلاحیت استعمال کریں ۔ اداروں کو سیاست میں ملوث کرنے کی اس کوشش کے بارے میں نہ جانے قانون دان کیا کہیں گے لیکن ملکی آئین سیاسی معاملات عوام کے منتخب نمائیندوں کے ذریعے پارلیمنٹ میں حل کرنے کی رائے دیتا ہے۔ عمران خان کا بیان اور ملک کے سیاسی حالات میں رونما ہونے والے واقعات البتہ اس آئینی انتظام کا پرتو نہیں ہیں ۔ معاملات کو سختی سے آئینی حدود میں واپس لانے کی کوئی واضح کوشش بھی دکھائی نہیں دیتی۔ وفاقی وزیر قانون کا استعفیٰ اور عمران خان کا بیان دونوں آئینی طریقوں سے گریز کی کہانی بیان کرتے ہیں۔
ان حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے صحافی سیاسی لیڈروں اور اداروں کے درمیان جاری اس معرکہ آرائی میں پیادوں کے طور پر کام کررہے ہیں یا وہ غیر جانبدار مبصر کے طور پر حقیقت احوال کو من و عن عوام کے سامنے پیش کرنے کی پیشہ وارانہ ذمہ داری پورا کرنے کے اہل ہیں۔ پاکستان صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل کیاجاتا ہے۔ غیر جانبدارانہ رپورٹنگ یا خود مختارانہ رائے دینے پر کسی کے خلاف بھی ملک کا قانون حرکت میں آسکتا ہے اور کسی بھی صحافی کو کسی کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا دی جاسکتی ہے۔ یہ صورت حال نئی نہیں ہے بلکہ ہر آنے والی حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کے لئے ایسے ہی ہتھکنڈے اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ البتہ جب اقتدار سے محروم ہونے کے بعد وہی طریقے ان کے خلاف استعمال ہوتے ہیں تو دو دلیلوں کے پیچھے پناہ تلاش کی جاتی ہے۔ ایک: سابقہ حکومت میں میڈیا کو دبایا گیا تھا، ہم اس کی اصلاح کررہے ہیں۔ دوئم: ملکی سلامتی کے محافظ اداروں کے خلاف نعرے بازی اور رائے زنی برداشت نہیں کی جائے گی۔
دیکھا جائے تو ارشد شریف کو اگر ان میں سے کسی ’جرم ‘ کی پاداش میں قتل نہیں بھی کیا گیا اور ان کی موت حادثاتی ہے تو بھی انہیں اپنے ایک پروگرام میں شہباز گل کو نامناسب رائے دینے سے روکنے میں ناکام رہنے پر پہلے ملک چھوڑنا پڑا اور پھر ان کے آجر اے آر وئی نے ان کے ساتھ اپنا راستہ علیحدہ کرلیا۔ پاکستان میں صحافیوں کو انصاف دلانے والا کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں ہے جو یہ سوال اٹھاتا کہ کوئی اینکر کیوں کر کسی پروگرام میں شریک مہمان کو رائے دینے سے روک سکتا ہے ۔ یا کسی صحافی کو کیوں کر کسی دوسرے شخص کی رائے کے لئے جوابدہ قرار دیاجاسکتا ہے۔ جیسا کہ ارشد شریف کے معاملہ میں نوٹ کیا گیا کہ انہیں جب ملک چھوڑنا پڑا یا کام سے جواب دیا گیا تو کسی طرف سے کوئی خاص احتجاج سننے یادیکھنے میں نہیں آیا۔ البتہ اس افسوسناک بے حسی کا ایک دوسرا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
بدقسمتی ملک کے متعدد صحافیوں نے شہرت اور اثر و رسوخ کا آسان راستہ تلاش کرنے کے لئے خود کو ایک خاص گروہ، پارٹی یا کسی ادارے کے ساتھ وابستہ کرنے اور ان کے ’مفادات‘ کے لئے کام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ یہ تو عالمی طور سے جانی مانی حقیقت ہے کہ ایجنسیاں صحافت کے شعبے میں اپنے لوگ پلانٹ کرتی ہیں لیکن پاکستان میں یہ کام کسی حد کھلم کھلا بھی ہؤا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی صحافی نے راستہ تبدیل کرنے کی کوشش کی تو اسے شدید دشواریوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ ملکی تاریخ میں متعدد صحافیوں کو خود مختاری کے جرم میں سنگین سزا بھی دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارشد شریف اگر بظاہر کینیا جیسے دور دراز ملک میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں عمران خان اسے ’ٹارگٹ کلنگ‘ قرار دے رہے ہیں۔ اور آئی ایس پی آر جیسا طاقت ور ادارہ حکومت سے مطالبہ کررہا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائے۔ تحقیقات میں اس بات کا سراغ بھی لگایا جائے کہ ارشد شریف کو کیوں ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے یہ تقاضا بھی کیا کہ’ اداروں پر الزام تراشی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے‘۔
ملکی قانون میں صحافی کمزور، بے بس اور لاچار ہے۔ اس پر ہر الزام دھرا جاسکتا ہے اور جھوٹے سچے الزام میں اسے قانونی و غیر قانونی تشدد اور کارروائی کا نشانہ بھی بنایا جاسکتا ہے لیکن اس کے برعکس اداروں کی تکریم کو قانونی تحفظ دیتے ہوئے انہیں قانون و آئین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی جوابدہ کرنے کی روایت قائم نہیں ہوسکی۔ اگرچہ ملک میں اس وقت اداروں کی غیر جانبداری اور خود مختاری کا چرچا ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہونا چاہئے کہ اگر کوئی ادارہ یا اس سے متعلق کوئی فرد آئینی حدود سے تجاوز کرتا ہؤا پایا جائے تو ملکی قانون کسی رو رعایت کے بغیر اس کی گرفت بھی کرسکے۔ البتہ یہ اصولی باتیں ہیں جن کا تصوراتی خاکہ تو کھینچا جاسکتا ہے یا دوسرے ملکوں کی مثال دے کر کہا جاسکتا ہے کہ فلاں فلاں ملک میں قانون کی علمداری ہی کی وجہ سے سب ادارے اپنی اپنی حدود میں کام کررہے ہیں لیکن پاکستان میں اس کا عملی اظہار موجود نہیں ہے۔ اسی لئے بعض اوقات صحافی محض ’حفاظت و سلامتی‘ کے نقطہ نظر سے یا ’اندر کی خبر‘ نکالنے کی دھن میں کسی ایسے جال میں پھنسا لئے جاتے ہیں جس سے باہر نکلنے کی کوئی کوشش ا ن کے لئے پیغام اجل بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں ضرور اداروں کا احترام عام ہونا چاہئے لیکن اس کے لئے یک طرفہ جوابدہی کا اصول کارگر نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان میں صحافیوں کی حفاظت کااہتمام بھی ہو اور پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دینے کی پاداش میں انہیں ہراساں یا بے روزگار کرنے کا طریقہ بھی ختم ہونا چاہئے۔ تاکہ کوئی بھی صحافی ارشد شریف کی طرح ملک سے فرار ہونے پر مجبور نہ ہو۔ اور پاکستان میں اس کے دوستوں عزیزوں کو اچانک اس کی پراسرار موت کا صدمہ برداشت نہ کرنا پڑے۔ البتہ پاکستان میں جب تک قانون کی عملداری کا طریقہ نافذ نہیں ہوتا اور جوابدہی کے اصول پر صرف صحافیوں کو ہی پرکھنے پر اصرار کیا جاتا ہے ، اس وقت تک تمام صحافیوں کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے علاوہ اپنے پیشے کی آبرو کے لئے چوکنا رہنا پڑے گا۔
صحافیوں پر آزادی اظہار کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی صفوں میں سے غیر صحافی عناصر کو چھانٹنے اور کسی وقتی لالچ کے عوض مفادات سے فیض یاب ہونے والے عناصر پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ صحافت مقدس پیشہ ہے لیکن اگر صحافیوں کے چہرے جھوٹ اور الزامات کی گرد میں اٹے رہے تو ملک میں آزادی اظہار کا اصول تسلیم کروانا ممکن نہیں رہے گا ۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

