پاکستان میں انتخابات اور جمہوریت کے بہت چرچے ہیں۔ اعلیٰ عدالتیں روزانہ کی بنیاد پر انصاف کا علم بلند کرتی ہیں اور فاضل ججوں کے ریمارکس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدلیہ ہی کرپشن سے پاک اور ملکی انتظام چلانے والا واحد ادارہ ہے۔ کچھ اسی قسم کا گمان عسکری قوتوں کو بھی رہا ہے تاہم اب اعلان کیا جارہا ہے کہ فوج ’غیر سیاسی‘ ہوگئی ہے۔
اس حوالے سے البتہ دو باتوں کی وضاحت نہیں ہوسکی۔ ایک یہ کہ اگر فوج نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے بقول 70 سال تک غیر آئینی طریقے سے ملکی سیاسی معاملات میں مداخلت کی تھی اور اب اس طریقے سے تائب ہوگئی ہے تو فوج کی ان غلط کاریوں کا حساب کون لے گا؟ سپریم کورٹ میں آج کل نیب آرڈی ننس میں ترامیم کا بہت چرچا ہے اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت بنچ میں شامل فاضل جج حضرات روزانہ کی بنیاد پر نت نئے تبصروں سے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار کو پرکھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ریمارکس دیے جاتے ہیں کہ جن سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ میں سب چور اچکے بیٹھے ہیں۔ بس عدالت عظمی کے مٹھی بھر ججوں کے دلوں میں قوم و ملک کا درد ہے کہ سوا ہوتا ہے۔نیب آرڈی ننس میں ترامیم کے خلاف تحریک انصاف کی پٹیشن پر غور کرتے ہوئے فوج کو نیب قوانین سے استثنی دینے کا ذکر بھی بار بار ہؤا جس کے دوران اگرچہ یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے بھی خود کو ’احتساب‘ سے ماورا سمجھا ہؤا ہے اور نیب ججوں کے معاملات میں بھی مدخلت کا مجاز نہیں ہے۔ واضح رہے یہ دونوں ادارے یعنی فوج اور عدلیہ نام نہاد ’خود احتسابی‘ کے نظام پر یقین رکھتے ہیں اور عوام کو یہی بتایا جاتا رہا ہے کہ ان دونوں اداروں میں سخت ڈسپلن اور کنٹرول موجود ہے۔ اس لئے ان کے معاملات میں کسی بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ ملک کی تقدیر کے بارے میں تقریباً تمام اہم فیصلے کرنے والے ان اہم ترین اداروں میں اگر کرپشن کا گزر بھی نہیں ہوتا اور داخلی احتساب کا نظام اس حد کڑا ہے کہ کوئی اس کی گرفت سے بچ نہیں پاتا تو کیا وجہ ہے کہ دونوں ادارے اس داخلی احتساب کے بارے میں سخت رازداری کے اصول پر عمل کرتے ہیں ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ نہ صرف خود احتسابی کے عمل کو نمایاں کیا جائے تاکہ دیگر اداروں مثلاً ملکی پارلیمنٹ اور سیاست دانوں اور سول بیورو کریسی کو بھی اس سے سبق حاصل ہو اور وہ بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔
داخلی احتساب کو رازداری کی دبیز تہوں میں چھپانے سے تو شکوک کو سر اٹھانے کا موقع ہی ملتا ہے۔ نہ صرف داخلی احتساب میں شفافیت کے نقطہ نظر سے پبلک سکروٹنی کا کوئی فعال میکنزم میں مقرر ہونا چاہئے بلکہ ان معاملات کو ملک میں احتساب کے لئے مروج طریقوں اور ضابطوں کے ذریعے پرکھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے تاکہ کسی کو نہ تو انگلی اٹھانے کا موقع ملے اور نہ ہی کسی قسم کا شک و شبہ پیدا ہو۔ البتہ فوج اور عدلیہ فی الوقت ایسی ’ناجائز شفافیت‘ پر آمادہ نہیں ہے جس کا کنٹرول ان ہاتھوں میں آجائے تو کہلاتے تو عوام کے نمائیندے ہیں لیکن انہیں مسلسل قومی کٹہرے میں کھڑا رکھا جاتا ہے۔ عسکری قیادت اور اعلیٰ عدالتوں کے جج ہی نہیں بلکہ ’انفرادی احتساب‘ کے ہر فورم پر ان کی نگرانی کی جاتی ہے اور سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ دن کا آغاز اور اختتام بہر حال اس جملے پر ہی ہوتا ہے کہ’ ملکی سیاست دان چور لٹیرے ہیں‘۔
یہ طویل اور تکلیف دہ بحث ہے لیکن جنرل باجوہ کی طرف سے فوجی قیادت کی آئین شکنی کے حوالے سے کئے جانے والے انکشاف کے حوالے سے دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی آرمی چیف کو اپنی ریٹائیرمنٹ سے محض چند روز پہلے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیشروؤں کی آئین شکنی کا اعتراف کرنے کا حوصلہ ہو ہی گیا تھا تو کیا انہوں نے اس بے اعتدالی پر خود کو یا اپنے ادارے کو ملکی قانون کے سامنے احتساب اور سرزنش کے لئے بھی پیش کیا؟ اگر احتساب اور غلطیوں سے سبق سیکھنا مطلوب نہیں تھا تو یہ بلند بانگ اعتراف کیا معنی رکھتا ہے ۔ اور اس بات کی ضمانت کون فراہم کرسکتا ہے کہ سبک دوش ہونے والے آرمی چیف کا یہ وعدہ وفابھی ہوگا کہ فوج اب کبھی سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس اعتراف کے بعد نہ صرف فوج کا داخلی احتساب گرفت کرتا بلکہ پارلیمنٹ میں پارلیمانی کمیٹی قائم کی جاتی جو اس اقبالی بیان کی روشنی میں ملکی تاریخ کو ازسر نو مرتب کرتی تاکہ مستقبل میں قوم کے بچوں کو وہ سارے جھوٹ نہ پڑھائے جائیں جو اس وقت نصابی کتابوں کے ذریعے آئین شکن فوجی رہنماؤں کے بارے میں ازبر کروائے جاتے ہیں۔اس سوال کا دوسرا حصہ ملکی اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے ہے۔ یوں تو عدالت عظمی کے ججوں نے ایسی روایات قائم کررکھی ہیں کہ کسی اداکارہ کے قبضے سے برآمد ہونے والی شراب کی بوتلوں پر بھی سو موٹو نوٹس لے لیا جائے تاکہ قوم خبردار رہے کہ انصاف کا ڈنکا بجتا رہے گا ۔ لیکن اب مشاہدہ کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس اور عدالتوں کا پورا نظام ایک سابق آرمی چیف کے ایسے ہولناک اعتراف کے بعد بھی مہر بلب ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ آخر جج کوئی سیاست دان ہیں جو بیان بازی کرتے رہیں۔ یہ اعتراض سر آنکھوں پر لیکن ہمارے ملک کی قومی سماعت اس بات کی بھی گواہ ہے کہ چند سالوں سے ججوں کے ریمارکس سب سے زیادہ رپورٹ کی جانے والی خبر ہوتے ہیں۔ کسی جج کو یہ پوچھنے یا اعتراض کرنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ ریمارکس میں آخر خبر کہاں سے اور کیوں تلاش کی جاتی ہے؟ یہ تو کسی جج کا قانونی استفسار ہوتا ہے، کوئی رائے نہیں ہوتی۔ یہ وکلا کے ساتھ کسی معاملہ کی تہ تک پہنچنے کے لئے پروفیشنل مکالمہ ہوتا ہے۔ کیا میڈیا ان ریمارکس کو بریکنگ نیوز بناکر پیشہ وارانہ بددیانتی کا مظاہرہ کرتا ہے ؟ یا ججوں نے جان بوجھ کر قومی منظر نامہ پر ضرورت سے زیادہ جگہ پر تصرف حاصل کرنے کے لئے یہ طریقہ وضع کیا ہے۔ وجہ جو بھی ہو ، یہ طریقہ حصول انصاف کا راستہ کھوٹا کرتا ہے۔ اس سے غلط تاثر راسخ ہوتے ہیں اور ججوں کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ جب کسی ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگیں تو انصاف غیرضروری ’عیاشی‘ بن کر رہ جاتا ہے جس کا نا م محض گفتگو کو مرصع کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
باجوہ کے اعتراف اور عدالتوں کے طریقے کے حوالے سے صرف اتنا عرض کرنا مطلوب ہے کہ عام شہریوں کے دلوں میں کہیں نہ کہیں تو یہ سوال ضرور رینگتا ہوگا کہ اگر ایک طاقت ور شخص اپنے طاقت ور ادارے کی غلطیوں کا برملا اعتراف کررہا ہے تو کیا اسے نظر انداز کردینا ہی بہترین قومی مفاد، سب سے سچا اور کھرا انصاف اور بہبود کا اعلیٰ و ارفع راستہ ہے یا اس اعتراف کی روشنی میں کسی ادارے، کسی منصف کسی ہوشمند کی تیوری پر بل پڑنے چاہئیں اور کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی سوال اٹھنا چاہئے۔ یہ بحث اس قدر سنگین اور مشکل ہے کہ قلم کی مزدوری کرنے والا ایک ادنیٰ صحافی اس کا پوری طرح احاطہ کرنے کی تاب نہیں رکھتا۔ البتہ جمہوریت اور انصاف کی بلند ہوتی صداؤں کے ہجوم میں دنیا کی دو مختلف انتہاؤں پر رونما ہونے والے دو واقعات بیان کرکے اس بحث کو سمیٹنا بہتر ہوگا۔ یہ دونوں واقعات بجائے خود کہانی کے سب پہلو نمایاں کرتے ہیں۔
ایک واقعہ قطب جنوبی میں واقع ایک چھوٹے سے ملک نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں پیش آیا۔ کارروائی کے دوران ایک اپوزیشن لیڈر ڈیوڈ سیمور نے مقبول وزیر اعظم جیسنڈا آڈرن سے سوال کیا کہ ’کیا وہ کوئی ایسی مثال دے سکتی ہیں کہ ان سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہو اور انہوں نے اس کا ادراک کرکے اس پر معافی مانگی ہو اور اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کی ہو؟‘۔ اس سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے طویل پرجوش تقریر کی ۔ وہ اپنی گفتگو ختم کرکے جب نشست پر واپس پہنچیں تو وفور جذبات میں انہوں نے خود کلامی کرتے ہوئے اس اپوزیشن لیڈر کے بارے میں ایک ایسا لفظ بولا جو پارلیمانی روایت سے متصادم تھا۔ وزیراظم آڈرن کی اس خود کلامی کو مائیکروفون نے ریکارڈ کرلیا اور اسپیکر سے یہ الفاظ حذف کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن وزیر اعظم آفس نے تھوڑی دیر بعد ہی اعلان کیا کہ جیسنڈرا آڈرن نے ان الفاظ پر متعلقہ رکن پارلیمنٹ سے معافی مانگ لی ہے۔
دوسرا واقعہ نیوزی لینڈ سے کوسوں دور قطب شمالی میں واقعہ ملک ناروے میں پیش آیا۔ ناروے کی سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور قائم مقام چیف جسٹس ینس ایڈون آندرسن سکوگ ہائے نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں ان کی اہلیہ نے زہر کی کوئی قسم دینے کی کوشش کی تھی۔ ان کے پیشاب اور خون کے ٹیسٹ سے اس زہریلے مادے کی تصدیق ہوئی تھی اور وہ اس کے علاج کے لئے اکتوبر کے دوران ہسپتال میں داخل رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنی اہلیہ سے سے دریافت کرنے کی کوشش کی تو اس نے جواب دینے سے گریز کیا۔ جج اب اس خاتون سے علیحدگی لے رہا ہے۔ جج سکوگ ہائے نے میڈیا کو بتایا کہ وہ کوئی انتقامی کارروائی نہیں چاہتے اس لئے اس خاتون کے خلاف کوئی شکایت نہیں کریں گے۔ البتہ پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کرنے میں آزاد ہے۔ اس واقعہ کے بعد متعلقہ جج تین ماہ کی رخصت پر چلے گئے۔ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرکے بیانات قلمبند کئےہیں لیکن ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اس معاملہ پر کوئی کارروائی کی جائے یا نہیں۔
تین ماہ بعد ایک مقامی اخبار نے گزشتہ روز اس خاتون کا انٹرویو شائع کیا ہے جس میں اس نے جج کو زہریلا مواد دینے کی تردید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ شخص سپریم کورٹ میں اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔ جج سکوگ ہائے نے اس بیان پر مزید کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ناروے )
فیس بک کمینٹ

