سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو ناجائز قرار دیا اور احاطہ عدالت سے ان کی گرفتاری کے طریقہ کار پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے چیئرمین کو فوری رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں رات بھر کے لئے پولیس ریسٹ ہاؤس میں ’نظر بند‘ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت کے فیصلے میں ضرور کوئی حکمت پنہاں ہوگی لیکن بادی النظر میں یہ محض قانون یا انصاف کا معاملہ نہیں لگتا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ سے عمران خان کی گرفتاری کے طریقہ کار پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اس کا اظہار اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے بھی کیا تھا اور اب سپریم کورٹ کے ججوں نے بھی اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ سانحہ چونکہ ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر کے ساتھ پیش آیا تھا، اس لئے میڈیا و تجزیہ نگاروں کے علاوہ اب سپریم کورٹ کے ججوں نے بھی اس پر ردعمل دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی بھی شہری کے حقوق سلب ہوں تو عدالتیں اسے ریلیف دینے کے لئے موجود رہیں گی۔ سوچنا چاہیے کہ ایک مقبول اور چہیتے لیڈر کی گرفتاری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے بنچ میں شامل ججوں کی طرف سے بار بار یہ یقین دلانے کی کوشش کیوں کی جاتی رہی ہے کہ ہر شہری کو اسی طرح انصاف ملے گا۔ کیا عزت مآب ججوں کو شبہ تھا کہ وہ عمران خان کو جو سہولت دے رہے ہیں، اسے قانون سے ماورا اقدام سمجھا جائے گا؟
ملک میں اداروں کو سیاسی معاملات میں ملوث کرنے کی جو روش دیکھنے میں آئی ہے، اس کے تناظر میں عدالتی کارروائی کے دوران ججوں کے تقریر نما ریمارکس اور میڈیا میں تواتر سے ان کی کوریج کا معاملہ نہایت پیچیدہ اور تکلیف دہ صورت اختیار کرچکا ہے۔ عمران خان کو ضرور قانون کے مطابق ریلیف ملنا چاہیے لیکن اس سہولت کو قانونی کارروائی کے طور پر دکھائی دینا چاہیے، ججوں کی رائے اور ناراضی کے اظہار کا پرتو نہیں ہونا چاہیے۔
جب سپریم کورٹ بلکہ ہائی کورٹس میں بھی سیاسی معاملات کی کارروائی کے دوران ججوں کی کہی ہوئی باتیں فوری طور سے ٹکر بنا کر چلائی جاتی ہیں یا خبر رپورٹ کرتے ہوئے متن میں ججوں کے تبصرے اور سوالات کو ہی جگہ ملتی ہے تو اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہوتا کہ ملک کی اعلی عدلیہ کو سیاسی معاملات میں ایک اہم فیکٹر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کیا چیف جسٹس پاکستان کو یہ صورت حال عجیب محسوس نہیں ہوتی؟
جسٹس عمر عطا بندیال نے حال ہی میں لاہور کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ ایک عاجز سے انسان ہیں، اصل اہمیت تو سپریم کورٹ کی ہے۔ ان کی یہ بات جائز اور درست مانی جا سکتی ہے اگر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فاضل جج حضرات ریمارکس کی صورت میں خود اپنی ذات کو منوانے کی کوشش نہ کیا کریں اور پھر میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر سے یہ ثابت نہ کریں کہ ان کے پاس کتنے اختیارات ہیں۔ عدالتی ریمارکس کی عالمگیر تفہیم تو یہی ہے کہ کسی مقدمہ کی سماعت کے دوران جج جب کسی قانونی نکتہ کو سمجھنا چاہتا ہے اور استغاثہ یا وکیل صفائی اس کی وضاحت نہیں کر پاتا تو جج خاص طور سے اس پہلو یا نکتہ کی طرف اشارہ کر کے یہ باور کرواتا ہے کہ اس پہلو کی وضاحت کر دی جائے تاکہ عدالت کو پورا معاملہ درست قانونی تناظر میں سمجھنے میں آسانی ہو۔
البتہ ماضی قریب سے پاکستانی عدالتوں میں ریمارکس کے نام پر ججوں کی شخصی اتھارٹی دکھانے بلکہ دھونس جمانے کا جو طریقہ کار سامنے آیا ہے اس کے لئے لغت میں کسی نئی اصطلاح کی ضرورت ہو گی۔ پاکستانی ججوں کے ایسے تبصروں، ناراضی کے اظہار، سرکاری افسروں پر غصہ نکالنے کے طریقے اور زیر غور معاملہ پر اظہار خیال کے موجودہ چلن کو ’ریمارکس‘ کہنا مشکل ہے۔
9 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے فوری طور سے اس کارروائی کا نوٹس لیا۔ آج سپریم کورٹ نے عمران خان کو ریلیف دیتے ہوئے جو اصول قانون بیان کیا ہے، اس کی روشنی میں یہ ضروری ہو گا کہ آئندہ کسی عدالتی احاطے میں پولیس یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی سائل کے ساتھ کوئی زیادتی کریں تو متعلقہ عدالت کا چیف جسٹس فوری طور سے عدالت لگا کر بیٹھ جائے اور پندرہ منٹ کے اندر آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو طلب کر لیا جائے؟ اگر ہر معاملہ میں یہ صورت دیکھنے میں نہیں آتی تو عمران خان یا بعض دیگر چہیتے لیڈروں کے بارے میں جو طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے، اسے انصاف و قانون کے سوا کوئی دوسرا نام دینا پڑے گا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے غم و غصہ کے باوجود عمران خان کی گرفتاری کو درست قرار دیا تھا۔ اگلے ہی روز احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر عمران خان کا 8 دن کا ریمانڈ بھی دے دیا۔ تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ آج سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے اس فیصلہ کو تبدیل کرتے ہوئے عمران خان کی گرفتاری کو غلط قرار دیا ہے۔ اس معاملہ کی جتنی بھی رپورٹنگ سامنے آئی ہے، اس میں کہیں اس قانونی میرٹ کا ذکر نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرفتاری کو درست کہا تھا۔ نہ ہی اب سپریم کورٹ نے اس تفہیم کو غلط سمجھتے ہوئے قانونی صراحت کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ اس کے خیال میں کیوں یہ گرفتاری غلط تھی۔ غم و غصہ اور ناراضی کا اظہار اگرچہ ضرور سامنے آیا ہے۔
اگر کسی معاملہ میں نامزد کسی شخص کو غلط طریقے سے ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا تو اس پر ضرور دادرسی ہونی چاہیے لیکن اس ناانصافی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کوئی بھی عدالت اصل الزام اور اس کی نوعیت کو کیسے فراموش کر سکتی ہے؟ آج سپریم کورٹ نے یہی انوکھا کام کر دکھایا ہے۔ اس لئے بعض سیاسی حلقوں کی حیرت اور خفگی قابل فہم ہے کہ اعلیٰ عدالتیں ماضی قریب میں دیگر سیاسی لیڈروں کو ایسی ہی سہولت دینے میں کیوں مستعدی کا مظاہرہ نہیں کرتی رہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اپنی غیر جانبداری اور وقار کو قائم رکھنے کے لئے اس تاثر کو زائل کرنا ہو گا۔ ورنہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے معیار انصاف کے بارے میں چہ میگوئیاں ہوتی رہیں گی۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو غلط قرار دے کر اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ تبدیل کیا ہے۔ اس بارے میں تحریک انصاف نے باقاعدہ پٹیشن بھی دائر کی تھی۔ تاہم اگلے ہی روز نیب عدالت نے عمران خان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے انہیں 8 روزہ ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کیا تھا۔ آج اس ریمانڈ کا دوسرا دن تھا۔ سپریم کورٹ میں اس بارے میں کوئی درخواست بھی دائر نہیں ہوئی۔ اگر عمران خان کی گرفتاری غلط تھی اور اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی قانونی لحاظ سے کمزور تھا تو اس کی تبدیلی قابل فہم ہے لیکن سپریم کورٹ کسی ایسے معاملہ میں کس قانون کے تحت ریلیف دے سکتی ہے جس کے بارے میں درخواست ہی دائر نہیں کی گئی۔
آج سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے عدالتوں کی تکریم اور سائل کے حقوق پر طویل گفتگو کی لیکن سپریم کورٹ کا فیصلہ عملی طور سے ایک زیریں عدالت کی توہین کے مترادف ہے۔ نیب عدالت کا فیصلہ قانونی ضابطے پورا کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔ اسے کسی اپیل میں تو تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن سپریم کورٹ اپنے طور پر یہ کہتے ہوئے کیوں کر ساری کارروائی کو لپیٹ سکتی ہے کہ اس معاملہ میں گرفتاری کا طریقہ غلط تھا؟ کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ نیب نے عمران خان پر القادر یونیورسٹی پراجیکٹ کے حوالے سے جو الزام لگایا ہے، سپریم کورٹ نے گرفتاری کو غلط قرار دیتے ہوئے، لگے ہاتھوں ہوئے اسے بھی مسترد کر دیا ہے۔ یا اس کا یہ مطلب ہے کہ سپریم کورٹ عمران خان کو بطور خاص کردہ و ناکردہ سب گناہوں کی بیک جنبش قلم معافی عطا کرنے کا اعلان کر رہی ہے؟
سپریم کورٹ نے عمران خان کو ریلیف دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کو غلط قرار دیا اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہیں رات بھر پولیس ریسٹ ہاؤس میں مہمان کے طور پر رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔ (سائل یا کسی ملزم کو یہ سہولت دینا بھی ملکی عدالتی تاریخ میں ایک خاصے کی شے ہے)۔ بظاہر اس فیصلہ کا مقصد یہ تھا کہ سپریم کورٹ کسی ملزم کو براہ راست کسی معاملہ میں ضمانت نہیں دے سکتی، اس مقصد کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
گویا سپریم کورٹ نے تسلیم کیا ہے کہ عمران خان کو قانونی طور سے رہا کرنا اس کے اختیار میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس کے برعکس حکم جاری کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ اپنی اعلیٰ عدالت کی منشا کے برعکس کیسے کوئی فیصلہ کر سکتی ہے؟ کیا چیف جسٹس صاحب کو اس عدالتی کارروائی میں کوئی کمزوری یا نقص دکھائی دیتا ہے؟
آج عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم پر فوری طور سے عدالت میں پیش کیا گیا تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ان کا ’خیر مقدم‘ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی‘ ۔ کیا چیف جسٹس اپنے سامنے پیش ہونے والے ہر سائل کے ساتھ اسی خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں یا یہ رویہ خاص طور سے عمران خان کے لئے مختص ہے؟ کہا جاتا ہے کہ ججوں کے جذبات نہیں ہوتے۔ وہ قانون کی زبان سمجھتے ہیں اور اسی میں مدعا بیان کرتے ہیں۔
جج اپنے سامنے پیش ہونے والے سائل سے مل کر خوش یا ناراض نہیں ہو سکتا ۔ چیف جسٹس اگر بعض لوگوں کو مل کر خوش ہوتے ہیں تو ان کے معاملات میں انہیں ذاتی جذباتی تعلق کی بنیاد پر خود کو علیحدہ کرلینا چاہیے۔ جسٹس عمر عطا بندیال خود ہی فرما چکے ہیں کہ سپریم کورٹ ایک فرد کا نہیں، ادارے کا نام ہے۔ اب اپنے عمل سے انہیں یہ قول ثابت کرنا ہو گا۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

