سویڈن کی پولیس نے ایک تیس سالہ شخص کو ہفتہ کے روز اسٹاک ہولم میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر توریت اور انجیل کو نذر آتش کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ اجازت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب دنیا بھر میں سویڈن میں قرآن سوزی کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔ اسلامی ممالک اقوام متحدہ، یورپین یونین اور پوپ نے عید الاضحیٰ کے روز جامعہ مسجد اسٹاک ہولم کے باہر ایک عراقی نژاد شخص کی طرف سے قرآن جلانے کی مذمت کی ہے۔
مسلمان ممالک سے مسلسل احتجاج کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے گزشتہ ہفتہ کے دوران سویڈن میں قرآن جلانے کے واقعہ کی شدید مذمت کی تھی اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے تمام مقدس کتابوں کا احترام کرنے کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ ہم پاکستان میں یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی شخص کسی دوسرے مذہب کی کتاب کو آگ لگائے گا۔ کیوں کہ پاکستانی حکومت کے خیال میں ایسی حرکت کا آزادی رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں سے نفرت کا اظہار ہے۔ اس نفرت کی وجہ سے انسانوں میں تقسیم گہری کی جا رہی ہے جو دنیا کے امن و امان کے لئے خطرناک طرز عمل ہے۔
البتہ یورپ کے متعدد ممالک مقدس کتابوں کے احترام کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کے خیالات سے متفق نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ہفتہ کے شروع میں جب اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے سامنے سویڈن میں قرآن سوزی کی مذمت کرنے کی قرار داد پیش کی گئی تو امریکہ سمیت درجن بھر مغربی ممالک نے اس قرار داد کی مخالفت کی اور بعض نے اس پر رائے دینے سے گریز کیا۔ جبکہ 28 ملکوں نے اکثریت سے اس قرار داد کو منظور کر لیا۔ گو کہ سویڈن میں قرآن جلانے کے افسوسناک واقعہ کے خلاف اقوام متحدہ کے اس اہم ادارے میں قرار داد منظور ہو گئی لیکن پاکستان کی قومی اسمبلی کے برعکس یہ متفقہ قرار داد نہیں تھی۔ دنیا کے متعدد ممالک اس قسم کے معاملہ کو اہمیت دینے یا اس بنیاد پر کسی ملک یا فرد کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
بدقسمتی سے جب بھی ایسا کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہوتا ہے تو فریقین تند و تیز لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں لیکن مکالمہ کے ذریعے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوئی بامقصد کوشش دیکھنے میں نہیں آتی۔ بیشتر مسلمان ممالک کے لیڈروں کو اس حوالے سے صرف اپنے اپنے ملک میں رائے عامہ سے غرض ہوتی ہے، اس لئے وہ مذمتی بیانات دے کر یا مختلف اداروں میں احتجاج رجسٹر کروانے سے آگے نہیں بڑھتے۔ جبکہ عوام بعض مذہبی تنظیموں کی سرکردگی میں جلسے جلوسوں میں غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ احتجاج قابو سے باہر بھی ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں یا املاک کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ سلسلہ 90 کی دہائی کے آغاز میں سلمان رشدی کے ناول ’شیطانی آیات‘ کے خلاف احتجاج سے شروع ہوا تھا اور 2005 میں ڈنمارک میں بنائے گئے کارٹونوں کی اشاعت تک جاری رہا۔ ہر موقع پر ایک جیسا رد عمل دیکھنے میں آیا۔ مغربی ممالک ’آزادی رائے‘ کی دہائی دیتے رہے جبکہ مسلمان ممالک کی طرف سے مذہب کے خلاف حرکت کو آزادی کی بجائے ہتک اور توہین قرار دے کر غم و غصہ کیا جاتا رہا۔ بعض صورتوں میں اس غصہ کا اظہار قتل کی دھمکیوں اور قاتلانہ حملوں کی صورت میں بھی ہوا۔ ایسی انتہائی صورتوں میں مسلمانوں کا مقدمہ کمزور ہوا اور مغرب میں انہیں شدت پسند گروہ کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں۔
اب بھی یہی صورت حال موجود ہے۔ گزشتہ ماہ اسٹاک ہولم میں قرآن سوزی کا واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ اس واقعہ کے بعد مسلمان ممالک نے ماضی ہی کی گرم جوشی سے مذمتی بیانات اور اجلاسوں کے ذریعے اپنے عوام کے مذہبی جذبات کی تشفی کرنے کی کوشش کی۔ بحث اس سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ سویڈن چونکہ نیٹو میں رکنیت کے لئے ترکی کی حمایت کا محتاج تھا لہذا سویڈش وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان کے ذریعے قرآن سوزی کی مذمت کی۔ لیکن حکومت اس قسم کی حرکتوں کی روک تھام کا کوئی وعدہ کرنے پر آمادہ نہیں تھی کیوں کہ ایسا کوئی وعدہ سویڈن کے قانون اور جمہوری روایت سے متصادم ہوتا۔ واضح رہے کہ عراقی نژاد باشندے نے پولیس کی باقاعدہ اجازت سے قرآن جلانے کا اہتمام کیا تھا۔ کیوں کہ ایک انتظامی عدالت اس سے پہلے یہ حکم دے چکی تھی کہ اگر کوئی شخص اپنے خیالات کے اظہار کے لئے کوئی کتاب جلانا چاہتا ہے تو پولیس اسے روکنے کی مجاز نہیں ہے۔
اسی پس منظر میں اب پولیس کو مقدس کتابیں جلانے کے کے لئے تین درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک درخواست اسٹاک ہولم کی کسی مسجد کے سامنے قرآن جلانے کے بارے میں ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس درخواست کو جلد منظور کیا جائے۔ دوسری دو درخواستوں میں مقدس کتابوں کا ذکر ہے لیکن اس کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ البتہ پولیس نے ان میں جس درخواست کو فوری طور سے منظور کیا ہے جو ایک تیس سالہ شخص کی طرف سے بھیجی گئی تھی۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ شخص کون ہے لیکن اس نے درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ قرآن جلانے کے واقعہ کا جواب دینے کے لئے اسرائیلی سفارت خانے کے باہر توریت اور انجیل جلانا چاہتا ہے۔ پروگرام کے مطابق وہ اس کا مظاہرہ ہفتہ 15 جولائی کو کرے گا۔ اسٹاک ہولم میں اسرائیل کے سفیر نے اس خبر پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹویٹ پیغام میں مقدس کتابوں کو جلانے پر شدید مایوسی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ حرکت نفرت کا کھلا اظہار ہے جسے بہر صورت روکنا چاہیے‘ ۔
توریت اور انجیل جلانے کی اجازت لینے والے شخص کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ شخص واقعی مسلمان ہے یا کوئی ایسا فرد ہے جو قرآن جلانے کے واقعہ پر سامنے آنے والے ردعمل سے فائدہ اٹھا کر خود اپنی شہرت کا اہتمام کرنا چاہتا ہے۔ البتہ توریت اور انجیل سوزی کا واقعہ یورپ کے مسلمانوں کے لئے بطور خاص اور تمام مسلمان ممالک کے لئے عام طور سے ایک اہم چیلنج کی حیثیت ضرور اختیار کرے گا۔ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے احتجاج کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان کے طور پر وہ قرآن پاک کو مقدس کتاب اور راہ ہدایت سمجھتے ہیں۔ اس کی توہین ان کے عقیدہ پر براہ راست حملہ ہے۔ دوئم یہ کہ مسلمان تمام مقدس کتابوں کا احترام کرتے ہیں اور کسی بھی مذہبی کتاب کو جلانے کو غلط سمجھتے ہیں۔ خاص طور سے مسلمان یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ وہ حضرت موسی اور حضرت عیسیٰ کو اللہ کا پیغمبر مانتے ہیں اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں کو آسمانی صحیفے ماننا ان کے ایمان کا حصہ ہے۔ اس بیان سے عام طور سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ مسلمان جیسے قرآن سوزی پر برہمی کا ظہار کرتے ہیں، وہ توریت اور انجیل جلانے کو بھی ایسا ہی قابل مذمت فعل سمجھیں گے۔
ناروے اور سویڈن سمیت متعدد یورپی ممالک میں مسلمان تنظیموں کی طرف سے اسٹاک ہولم میں قرآن سوزی کے خلاف مسلسل احتجاج منظم کیے جا رہے ہیں۔ اس لئے دیکھنا ہو گا کہ کیا یہ تنظیمیں توریت اور انجیل جلانے کی حرکت کے خلاف بھی اسی جوش و جذبہ سے احتجاج کر کے اپنے موقف کی صداقت ثابت کرنے کی کوشش کریں گی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہفتہ کو جب یہ شخص توریت اور انجیل جلانے اسٹاک ہولم میں اسرائیلی سفارت خانے پہنچے تو مسلمان اس واقعہ سے لاتعلقی ظاہر کرنے کے لئے وہاں جمع ہوں اور اس حرکت کو اسی طرح ناقابل قبول قرار دیں جیسا کہ وہ قرآن جلانے کے واقعہ کو کہتے رہے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی اس دلیل کو سامنے لا سکیں گے کہ مسلمان تمام مقدس کتابوں کا احترام کرتے ہیں۔ قرآن جلانے کے خلاف ان کا احتجاج کسی کے حق اظہار کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ مقدس صحیفوں کا احترام کرنے کا اصول تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے اس نکتہ پر بھی غور ہونا چاہیے کہ توریت اور انجیل اسرائیلی سفارت خانے کے باہر جلانے کی اجازت کیوں حاصل کی گئی ہے۔ اسرائیل تو اس تنازعہ میں فریق ہی نہیں ہے اور نہ ہی یہودیوں نے کبھی قرآن جلا کر مسلمانوں سے نفرت کا اظہار کیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اسرائیل اور توریت کو بھی اس معاملہ میں کھینچا جا رہا ہے؟ اگر کسی شخص کو قرآن سوزی کا ’جواب‘ ہی دینا تھا تو کسی چرچ کے سامنے صرف انجیل جلانے پر کیوں اکتفا نہیں کیا گیا۔ اگر اس مذموم حرکت کا مظاہرہ کرنے والا شخص مسلمان ہے تو یورپ کی مسلمان تنظیموں کو ایسے عناصر کا سراغ لگانا چاہیے جو یورپ کی ایک مذہبی اقلیت کو دوسری مذہبی اقلیت کے مدمقابل لانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ شخص مسلمان نہیں ہے تو بھی اس کی حرکت کو مسترد کرنا چاہیے اور اس واقعہ سے لاتعلقی ظاہر کر کے واضح کرنا چاہیے کہ کسی بھی مقدس کتاب کی توہین کی جائے، مسلمان اس کے خلاف ہیں۔
بعینہ مسلمان حکومتوں کو بھی اس واقعہ کی اسی طرح مذمت کرنی چاہیے جیسے انہوں نے قرآن جلانے پر برہمی و ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ خاص طور سے وزیر اعظم شہباز شریف کو اب ثابت کرنا چاہیے کہ تمام مقدس کتابوں کا احترام کرنے کے حوالے سے ان کا بیان محض سیاسی ہتھکنڈا نہیں تھا بلکہ وہ اس موقف پر اب بھی قائم ہیں۔ اور سویڈن میں توریت اور انجیل جلا کر توہین قرآن کا بدلہ لینے کی حرکت کو ناجائز اور قابل مذمت سمجھتے ہیں۔
(بشکریہ :کاروان ۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

