تحریک انصاف نے نواز شریف کی طرف سے عمران خان پر سب سے بڑا چور ہونے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہی لوگ چالیس سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ گزشتہ روز پارٹی کے امیدواروں کے اجلاس میں نواز شریف کے خطاب کی جو مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان میں انہوں نے 1993 سے لے کر یکے بعد دیگرے اپنی حکومتوں کو برطرف کرنے کے اقدامات کو چیلنج کیا ہے اور سوال کیا ہے کہ بتایا جائے ہمیں کیوں نکالا گیا۔
میڈیا میں ہمدردوں کے تعاون سے میاں نواز شریف کو ایک بار پھر اینٹی اسٹبلشمنٹ لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہو رہی ہے حالانکہ میاں صاحب اپنے خطاب میں احتساب یا ماضی میں سیاسی انجنیئرنگ کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی کا اعلان کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا دو ٹوک موقف ہے کہ ان پر چوری کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن عمران خان القادر ریفرنس کے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں شامل تھے۔ اس طرح وہ بڑا چور ثابت ہو گیا۔
حالانکہ میاں نواز شریف کو بھی اس حقیقت سے آگاہی حاصل ہے کہ عمران خان پر القادر ٹرسٹ یا توشہ خان کیسز کی حقیقت بعینہ وہی ہے جو نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس یا العزیزیہ ریفرنس کی رہی ہے۔ پہلے کہ طرح اب بھی یہی موقف درست ہے کہ سیاسی لیڈروں کے خلاف مالی بدعنوانی کے الزامات اور مقدمات قائم کر کے محض سیاست دانوں کو معتوب کرنے اور ڈوریاں ہلانے والے عناصر کو مضبوط و طاقت ور کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔
بارہا کہا جا چکا ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف کسی عدالت میں قائم کیے گئے مقدمے یا نیب ریفرنس کی بنیاد پر اس کی دیانت داری کا علم نہیں ہو سکتا ۔ ان ہتھکنڈوں کو گزشتہ تین دہائیوں سے اتنے تسلسل سے استعمال کیا گیا ہے کہ یہ دلیل اب اپنی وقعت کھو چکی ہے۔ یوں بھی کسی بھی الزام پر حتمی عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے اس الزام کو حقیقی وقوعہ کے طور پر بیان کرنا سیاسی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے۔ عمران خان نے تسلسل سے یہ طریقہ اختیار کیا تھا۔
اب نواز شریف بھی عمران خان کو ’بڑا چور‘ ثابت کرنے کے لئے یہی ہتھکنڈا اختیار کر رہے ہیں۔ عمران خان کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ایک تو استغاثہ کے الزامات کو حقیقی وقوعہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسرے نواز شریف نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے گویا ملک ریاض پر عائد جرمانے کی مد میں برطانیہ سے جو 190 ملین پاؤنڈ وصول ہوئے تھے، وہ قومی خزانے کی بجائے عمران خان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئے تھے۔ حالانکہ یہ تاثر بے بنیاد اور غلط ہے کیوں کہ یہ رقم سپریم کورٹ کی طرف سے بحریہ ٹاؤن کو عائد کیے گئے جرمانے کی مد میں جمع کروانے کی اجازت دی گئی تھی جس پر اب تنازعہ ہے۔ لیکن عمران خان براہ راست اس مالی لین دین میں فریق نہیں تھے اور نہ ہی انہیں اس میں انہیں کوئی ذاتی مالی فائدہ ہوا تھا۔
عمران خان پر ہزار طریقے سے نکتہ چینی کی جا سکتی ہے۔ ان کی سیاست، طرز عمل، حکمت عملی اور وزیر اعظم کے طور پر ناکامیوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے لیکن ابھی تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ان پر کسی مالی بدعنوانی کا معاملہ ثابت نہیں ہوسکا۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے معاونین نے بدعنوانی کی ہو لیکن ابھی تک ایسا بھی کوئی معاملہ کسی عدالت میں ثابت نہیں ہوا۔ توشہ خانہ کیس یا القادر ریفرنس میں بھی عمران خان پر قواعد کی خلاف ورزی یا ایک بری سفارتی رسم شروع کرنے کا الزام تو عائد کیا جاسکتا ہے لیکن یہ کہنا کہ وہ ’چور ہیں یا انہوں نے خزانہ لوٹ لیا‘ قطعی بے بنیاد اور لغو الزامات ہیں۔
موجودہ سیاسی منظر نامہ تبدیل ہونے کے بعد عدالتیں عمران خان کو ان مقدمات میں ویسے ہی بری کرتی دکھائی دیں گی جیسے اس وقت نواز شریف کو ایک کے بعد دوسرے مقدمے میں بے قصور قرار دیا جا رہا ہے۔ نواز شریف چونکہ خود اس سارے عمل سے گزر چکے ہیں، اس لیے مناسب ہو گا کہ وہ الزام تراشی کرتے ہوئے سیاسی معاملات کو فوکس کریں اور ذاتی کردار کشی سے گریز کیا جائے۔
عمران خان کے لیے سب سے پریشان کن معاملہ سائفر کیس ہو سکتا ہے۔ اس میں انہیں طویل سزا بھی ہو سکتی ہے اور ان کا سیاسی کیرئیر بھی داؤ پر لگ سکتا ہے۔ کیوں کہ یہ معاملہ دو ملکوں کے تعلقات، ایک خفیہ سفارتی مراسلہ اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ البتہ یہ معاملہ بھی سیاسی طور سے زیر بحث لانا مناسب نہیں ہو گا بلکہ سیاسی مخالفین عدالت کو کسی دباؤ کے بغیر کام کرنے کا موقع دیں۔ تاکہ بعد میں سیاسی لیڈر ریاست کے خلاف ایک ’جرم‘ کے حوالے سے کسی سنسنی خیزی کے مرتکب نہ ٹھہرائے جاسکیں۔
نواز شریف ماضی میں اپنی حکومتوں کی ’کارکردگی‘ کے نام پر عوام سے ووٹ لینا چاہتے ہیں۔ یہ جائز طریقہ ہے لیکن اس طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ وہ اگر اپنی کارکردگی کو نام نہاد احتساب کے ذکر سے نمایاں کریں گے۔ اور عمران خان کی بجائے ان جرنیلوں اور ججوں کو کٹہرے میں لانا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے 1993 سے لے کر 2017 تک مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں گرائی جاتی رہی ہیں تو انہیں اپنے سیاسی مخالف اور ملکی اسٹبلشمنٹ کے طاقتور کرداروں کا ذکر ایک ہی سانس میں نہیں کرنا چاہیے۔
اور احتساب اور ذمہ داری کے تعین کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ گزشتہ روز کی گئی تقریر میں انہوں نے احتساب کی ضرورت کو اقتدار کی خواہش پر ترجیح دینے کی بات کی تھی۔ البتہ احتساب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یک بیک عمران خان کی مالی بد عنوانی کی رام لیلا شروع کردی تھی۔ اس طریقہ سے ان کرداروں کا احتساب نہیں ہو سکتا جو ملک میں سیاسی انجنیئرنگ کے لیے جانے جاتے ہیں اور جن کی حفاظت ان کا متعلقہ ادارہ جی جان سے کرتا ہے۔
ملکی سیاست میں فوج کے کردار کا معاملہ ایک حساس اور سنگین معاملہ ہے۔ نواز شریف کو اس بات کا علم ہو گا کہ وہ تن تنہا یہ پہاڑ عبور نہیں کر سکتے۔ نہ ہی سیاسی تقریروں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ’وہ کون تھا جس نے مجھے اقتدار سے نکالا اور ملک ایک کھلنڈرے کے حوالے کر دیا‘ جیسے فقرے اچھال کر ملک میں فعال جمہوریت کا عظیم تر مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت سب سیاسی پارٹیاں انتخابات کی تیاری کر رہی ہیں اور سب کی بھاگ دوڑ کا ایک ہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو باور کروایا جا سکے کہ اقتدار ملنے کی صورت میں وہ ’اچھے بچے‘ کا کردار ادا کریں گے۔
اسی کشمکش میں نواز شریف پر یہ الزام عائد ہو رہا ہے کہ وہ چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے لیے ہر قسم کی مفاہمت پر تیار ہیں۔ احتساب کی خواہش کے لیے انتخابات میں عوام کی حمایت مانگنے والا مفاہمت کے الزامات کے ساتھ انتخابات میں نہیں جائے گا بلکہ وہ اس مقصد کے لیے انصاف اور شفافیت کا ایک واضح ایجنڈا لے کر عوام کو بتائے گا کہ وہ احتساب کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
نواز شریف کی حکومتیں گرانے والوں میں عمران خان یا تحریک انصاف شامل نہیں تھی بلکہ ہر عہد میں فوج سے اختیارات کی چھینا جھپٹی میں مسلم لیگ (ن) کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ اصل سوال یہ ہے اب چوتھی بار وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے لیے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کن عناصر سے افہام و تفہیم یا مصالحت کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں؟ اگر فوج یا اسٹبلشمنٹ کی ہمدردی یا التفات سے اقتدار لینے کی امید کی جا رہی ہے تو وہ سیاست میں سے فوج کے اثر و رسوخ کو کیسے ختم کرسکیں گے؟
احتساب کا مقصد ایک یا چند افراد کو معتوب کرنا یا سزا دلوانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ فوج اور سیاست کے تناظر میں اس کا مقصد ان ہتھکنڈوں کا خاتمہ ہونا چاہیے جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے عوام کے ووٹ کو مذاق بنا یا گیا ہے۔ کبھی دھاندلی کے ذریعے جعلی حکومت مسلط کروائی گئی اور کبھی عوام کے حمایت یافتہ سیاست دانوں کا راستہ روکا گیا۔ تحریک انصاف اور عمران خان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں عوام میں مقبولیت کی سزا دی جا رہی ہے۔ گزشتہ بار نواز شریف اور ان کی پارٹی یہی موقف اختیار کیے ہوئے تھی۔ ایسے میں احتساب کا مقصد ان طریقوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ نہ کہ انہی ہتھکنڈوں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اس طرح مسائل کیوں کر ختم ہوں گے؟
فوج کو سیاست سے علیحدہ کرنے کے لیے کسی ایک سابق جنرل کو سزا دلوانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اس مقصد کے لیے معیشت اور سول حکمرانی میں فوج کا حصہ ختم کرنا ہو گا۔ فوج کے زیر اہتمام چلنے والے تجارتی منصوبوں کو سول انتظام میں لینا اہم ہو گا تاکہ فوج تن دہی سے ملکی دفاع پر توجہ دے سکے۔ لیکن اگر شہباز حکومت کی طرح سرمایہ کاری کونسل جیسے ادارے کے نام پر فوج کو براہ راست معیشت میں اسٹیک ہولڈر بنا یا جائے گا تو پھر کون کس کا احتساب کرے گا؟
اس سارے قضیے میں سب سے مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے۔ گویا مسلم لیگ (ن) کے پاس اس عہدے کے لیے کوئی دوسرا مناسب امید وار نہیں ہے۔ اگر میاں نواز شریف کی زندگی بھر کی سیاسی جد و جہد کا یہی انجام ہے تو بہتر ہو گا کہ وہ سیاست چھوڑ کر پارٹی کے معاملات سے دست بردار ہوجائیں۔ جو پارٹی چالیس سال میں وزیر اعظم بننے کے لئے ایک طاقت ور اور تازہ دم امید وار سامنے لانے میں ناکام ہے، وہ کس برتے پر ملک کو بحران و مصائب سے نکالنے کا اعلان کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں چور اور مہا چور کے مباحث کا بازار گرم ہے لیکن یہ رویے درحقیقت ملک میں جمہوریت کا خون کر رہے ہیں۔
(بشکریہ :کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

