ملک میں اسمبلیوں نے کام شروع کر دیا ہے اور نئی حکومتیں قائم ہو گئی ہیں لیکن اس بات کے آثار دکھائی نہیں دیتے کہ ملک کی تمام سیاسی قوتیں بھی صورت حال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے گروہی اختلافات پس پشت ڈال کر پاکستان کی فلاح اور موجودہ دگرگوں معاشی صورت حال سے نکلنے کے کسی ایک نکاتی منصوبہ پر اکٹھے ہو سکتی ہیں۔ اس انتشار کے اشارے صرف تحریک انصاف ہی کی طرف سے سامنے نہیں آئے بلکہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تند و ترش لب و لہجہ اختیار کیا ہوا ہے اور وہ مسلسل اداروں کو متنبہ کرتے ہوئے ’میدان سجانے‘ کی باتیں کر رہے ہیں۔
دو روز بعد صدر مملکت کا انتخاب ہونے والا ہے۔ امید ہے کہ اتحادی جماعتوں کے امید وار آصف علی زرداری اس عہدے کے لیے دوبارہ منتخب ہوجائیں گے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں آصف زرداری کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ہم مل کر ملک کو مسائل سے نکالنے کا عزم رکھتے ہیں۔ آصف زرداری نے بھی جوابی تقریر میں ملتے جلتے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ جب ضرورت پڑی تو شہباز شریف کو ’قوت‘ فراہم کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم ملک کو درپیش مشکلات حل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ البتہ اس گرمجوشی کے باوجود پیپلز پارٹی نے ابھی تک وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ صدارتی انتخاب کے بعد یہ مرحلہ بھی طے ہو جائے گا اور پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ بن جائے گی۔ البتہ اگر پیپلز پارٹی نے اس کے برعکس حکومت سے باہر رہنے پر اصرار کیا تو شہباز شریف کی حکومت مسلسل خطرے کا شکار رہے گی۔
گو کہ کہا جا رہا ہے کہ ایک بار وزیر اعظم منتخب ہو جانے کے بعد شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد لانا مشکل ہو گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہمیشہ اسٹبلشمنٹ سے خوشگوار تعلقات کی بنیاد پر سیاست کی ہے، اس لیے یہی امید کی جاتی ہے کہ فوجی قیادت کے ساتھ وزیر اعظم کا کوئی بڑا اختلاف رونما نہیں ہو گا اور موجودہ حکومت پانچ سال تک کام کرسکے گی۔ البتہ قومی اسمبلی میں اس وقت تین بڑے سیاسی گروپ یا پارٹیاں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، متحدہ قومی تحریک کے ساتھ اس وقت اتحادی پارٹیاں ہیں جو مل کر حکومت بنا رہی ہیں۔ لیکن تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے ذریعے ایک بڑے سیاسی گروپ کے طور پر پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔
تحریک انصاف نے اگرچہ تمام اسمبلیوں میں شرکت کی ہے اور حلف بھی اٹھا لیے ہیں اور خیبر پختون خوا میں حکومت بھی بنا لی ہے لیکن ابھی تک اس کی قیادت دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر موجودہ سیاسی نظام کی حمایت پر آمادہ نہیں ہے۔ وہ مسلسل حکومتوں کو جعلی اور اسمبلیوں کو دھاندلی زدہ قرار دے کر مینڈیٹ چوری کا الزام لگا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ اطمینان بخش ہے کہ تحریک انصاف نے خصوصی نشستوں کے تنازعہ کے علاوہ فارم 45 کی بنیاد پر انتخابی نتائج مرتب کرنے کا معاملہ عدالتوں میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طریقہ پر عمل ہونے سے کم از کم یہ تو واضح ہو رہا ہے کہ ایک ماہ کی شدید مہم جوئی کے بعد اب تحریک انصاف بالآخر عدالتوں کا رخ کر رہی ہے تاکہ انتخابی دھاندلی کے بارے میں اپنے دعوؤں کو دلائل اور شواہد کے ساتھ ثابت کرسکے۔
عدالتوں نے اگر تحریک انصاف کی دادرسی کی اور وہ فارم 45 کے بارے میں اپنا موقف ثابت کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو کسی بھی عدالت کے لیے ان نشستوں پر تحریک انصاف کا دعویٰ قبول کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے، جن پر وہ شواہد دینے میں کامیاب ہو جائے۔ تاہم تحریک انصاف کے پروپیگنڈا ہتھکنڈوں اور ماضی کی مثالوں سے دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کو عدالتوں سے شاید ویسا ریلیف نہ مل سکے، جس کی امید لگا کر اب وہ عدالتوں سے انصاف کی طالب ہوئی ہے۔ یعنی اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ پی ٹی آئی عدالتوں میں قومی اسمبلی کی 70 سے 80 نشستوں کے انتخابی نتائج تبدیل کروانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ یوں وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر حکومت بنانے کے لیے اکثریت حاصل کر لے گی۔ البتہ اگر تحریک انصاف کے پاس واقعی الیکشن کمیشن کی واضح دھاندلی کے شواہد موجود ہیں تو اس کے دعوے قبول ہونے چاہئیں۔ عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں اگر قومی اسمبلی کی ساخت تبدیل ہوتی ہے تو سب سیاسی گروہوں کو اسے خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے اور اس کے نتیجے میں اگر ملک میں نئی حکومت قائم ہوتی ہے تو اس کا استقبال کرنا چاہیے۔
سچ تو یہ ہے کہ اگر ایسی کوئی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو وہ موجودہ انتخابی نظام کو مستحکم و مضبوط کرے گی اور اس سے عدم استحکام اور بحران کا کوئی اندیشہ پیدا نہیں ہو گا۔ بلکہ پاکستان پارلیمانی نظام پر عمل کرنے والا شاید پہلا ملک بن جائے گا جس کی عدالتیں ’حقائق و شواہد‘ کی بنیاد پر انتخابی نتائج تبدیل کر کے اسمبلیوں میں پارٹیوں کی نمائندگی کی صورت حال کو تبدیل کریں گی۔ البتہ اس طریقہ کی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہوگی اگر عدالتوں میں جاتے ہوئے تحریک انصاف کی طرف سے عدالتی فیصلوں کا احترام کرنے اور ان فیصلوں کے بعد احتجاج اور ہیجان کی سیاست ختم کرنے کا اعلان بھی کیا جائے۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی اگر عدالتوں کو اپنا سیاسی بیانیہ مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے اور ناموافق عدالتی فیصلوں کے خلاف ماضی کی طرح جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے نیا تماشا لگایا جاتا ہے تو اس سے پارٹی یا ملک کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں پہنچنے گا۔
تحریک انصاف کے بعد انتخابی دھاندلی کے بارے میں سب سے زیادہ کرخت اور جارحانہ موقف مولانا فضل الرحمان نے اختیار کیا ہے۔ انہوں نے آج لاہور میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اداروں کو مداخلت سے باز رہنے کا مشورہ دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ میدان سجانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کے برعکس مولانا فضل الرحمان کا موقف تیکھا اور تلخ ہونے کے باوجود غیر واضح ہے۔ وہ ابھی تک یہ نہیں بتا سکے کہ انہیں کن کن حلقوں میں شکایات ہیں اور وہ کس بنیاد پر کتنی نشستوں چھینے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تحریک انصاف قومی اسمبلی کی اسی نوے سیٹوں کی دعویدار ہے اور اس کا موقف ہے کہ اسے پنجاب اور کراچی میں جان بوجھ کر ہرایا گیا ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان نے نہ تو نشستوں کی تعداد بتائی ہے اور نہ ہی یہ کہا ہے کہ وہ درحقیقت کتنی سیٹوں کے دعوے دار ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی سیاسی موجودگی کے حوالے سے دیکھا جائے تو انہیں خیبر پختون خوا میں ہی ناکامی کا شکوہ ہونا چاہیے۔ اس صوبے میں تحریک انصاف نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔
مولانا فضل الرحمان اگر اس صوبے میں دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں تو تحریک انصاف کے ساتھ وہ کس بنیاد پر سیاسی پینگیں بڑھا رہے ہیں؟ اگر یہ طریقہ محض سیاسی انتشار پیدا کرنے اور منتخب حکومت کو ناکام بنانے کے لیے اختیار کیا جا رہا ہے تو مولانا فضل الرحمان کا یہ سیاسی راستہ ان کے لیے زیادہ پر خطر ہو سکتا ہے۔ اس لئے قیاس یہی ہے کہ وہ دھماکے دار بیانات سے اپنا ’سیاسی وزن‘ بڑھا کر حکومت سے مناسب حصہ لینے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مسلسل رابطے اور نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے گھر جاکر ان سے ملاقات کا کچھ تو مقصد ہونا چاہیے۔ یہ باور کرنا ممکن نہیں کہ نواز شریف جیسا لیڈر کسی پیشگی افہام و تفہیم کے بغیر مولانا کے گھر گیا اور سیاسی مفاہمت کے لیے بات چیت کی۔
اس دوران میں پاک فوج کے کور کمانڈرز کی کانفرنس کے اعلامیہ میں دو باتیں بہت اصرار اور وضاحت کے ساتھ کہی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث تمام لوگوں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزائیں دلوائی جائیں۔ شہباز شریف وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد یہی بات کہہ چکے ہیں۔ پاک فوج کا دوسرا پیغام یہ ہے کہ بے بنیاد سیاسی مہم جوئی کے لیے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ کور کمانڈرز کانفرنس نے امن و امان قائم رکھنے کے لیے حکومت وقت کا بھرپور ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فوج بھی سیاسی احتجاج کے بارے میں ماضی قریب کے طریقوں کو ملکی معیشت کے لیے ناقابل قبول سمجھتی ہے۔
اس حوالے سے البتہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کا یہ بیان بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے جس میں انہوں نے فوج کے اعلامیہ کی حمایت کرتے ہوئے سانحہ 9 مئی کے قصور واروں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عمران خان کا یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ انہوں نے کہا کہ وہ فوج کے اعلامیہ کی حمایت کرتے ہیں اور 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے۔ اگرچہ اس حوالے سے وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو واحد ثبوت ماننے پر اصرار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اس بیان میں انہوں نے بالواسطہ طور سے ہی سہی لیکن 9 مئی 2022 کو ہونے والے افسوسناک واقعات کو جرم قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے تو وہ اس وقوعہ سے ہی انکار کرتے رہے ہیں۔
ملک میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران میں یہ صورت حال دیکھی گئی ہے کہ ایک پارٹی حکومت میں ہوتی ہے تو دوسری احتجاج کے لیے سڑکوں پر موجود رہتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت ملک کو معاشی و سیاسی شعبوں میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اول تو اس مشکل پر قابو پانے کے لیے تمام بڑی پارلیمانی پارٹیوں کو کسی قابل عمل معاہدے پر اتفاق کرنا چاہیے۔ اگر ایسا اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا تو اسمبلیوں ہی کو اپنا اختلاف درج کروانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ صدارتی انتخاب کے بعد بھی اگر احتجاجی سیاست غیر معینہ مدت تک جاری رہی تو اس کے دو ہی نتیجے برآمد ہوں گے۔ ایک یہ کہ موجودہ حکومت بھی کوئی مسئلہ حل نہیں کرسکے گی اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہو گا جس کے نتیجہ میں حکومت مدت پوری کیے بغیر ختم ہو جائے۔ دوسری صورت میں حکومت فوج کے ساتھ مل کر احتجاج کچلنے کے لیے سخت طریقے اختیار کرے۔ اس کے نتیجے میں شاید وقتی امن تو دیکھنے میں آئے لیکن بے چینی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ ایسے حالات کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوں گے۔
(بشکریہ :کاروان۔۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

