سید مجاہد علیکالملکھاری

2018ء میں 1990ء کا اسکرپٹ نہیں چل سکتا / سید مجاہد علی

پاکستان کے آئین میں ایک منتخب حکومت کے مکمل ہونے کے بعد قائم ہونے والی نگران حکومتوں کے قیام کے طریقہ کار اور ان کی مدت کا تعین کر دیا گیا ہے۔ مرکز میں اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعظم اس معاملہ پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں پارلیمانی کمیٹی اس معاملہ پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔ وہاں بھی اختلاف موجود رہے تو معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا جاتا ہے جو فریقین کے نامزد کردہ اافراد میں سے کسی ایک کو نگران وزیر اعظم نامزد کرسکتا ہے۔ یہی طریقہ صوبوں میں اختیار کیا جاتا ہے جہاں وزرائے اعلیٰ اپوزیشن کے رہنماؤں سے بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مرکز میں سبکدوش وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اس سیاسی بلوغت کا ثبوت دیا ہے کہ اختلاف اور مشکلات کے باوجود یہ معاملہ سیاسی سوجھ بوجھ سے حل کرکے جسٹس (ر) ناصر الملک کا نام تجویز کیا جنہوں نے آج صبح ایوان صدر میں اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا۔ تاہم پنجاب اور خیبر پختون خوا میں یہ صورت حال سامنے نہیں آ سکی۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان تحریک انصاف ایک صوبے میں اپوزیشن کی قیادت کر رہی ہے جبکہ دوسرے صوبے میں اس کی حکومت ہے۔ دونوں صوبوں میں پاکستان تحریک انصاف کے تجویز کئے گئے ناموں پر اتفاق کیا گیا اور دونوں صورتوں میں اسی پارٹی نے اپنی ہی تجویز کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے نئے لوگوں کو نامزد کرنے پر اصرار کیا ہے۔ یہ بحران ابھی جاری ہے۔
دوسری طرف بلوچستان اسمبلی نے قومی اسمبلی تحلیل ہونے سے پہلے ایک قرارداد میں انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد منظور کی۔ اس قرارداد میں یہ عذر دیا گیا ہے کہ جولائی کے ماہ میں شدید گرمی ہوگی اور حج کا سیزن ہو گا، اس لئے انتخابات کو چند ہفتوں کے لئے ملتوی کرنا ضروری ہے۔ ملک میں گزشتہ برس ہونے والی مردم شماری کے حوالے سے بھی اختلافات موجود ہیں اور بعض حلقہ بندیوں پر اعتراضات کا معاملہ عدالتوں تک بھی پہنچا ہؤا ہے۔ حیرت انگیز طور رخصت ہونے والے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز سابقہ قومی اسمبلی کے آخری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہی بات کسی دوسرے طریقے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہی ہے کہ بعض عناصر انتخابات ملتوی کروانے کی کوشش کررہے ہیں۔
بی بی سی اردو نے آج اسلام آباد کے ایوان صدر میں نگران وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری کی رپورٹنگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ صحافی ہر کسی سے یہی پوچھتے پھر رہے تھے کہ کیا تین مہینے کے اندر اندر یہی محفل دوبارہ سجتی دکھائی دے رہی ہے یا نہیں۔ کسی نے اس سوال کا جواب دیا، کسی نے نہیں دیا۔ لیکن اس سوال کے جواز کو کسی نے بھی چیلنج نہیں کیا۔ تقریباً اتفاق رائے پایا گیا کہ یہ سوال بلا جواز نہیں ہے‘۔ یہی سوال ملک کے ممتاز انگریزی اخبار ڈان نے آج کے اداریے میں اٹھایا ہے اور انتخابات کے التوا کے بارے میں چہ میگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس قسم کے فیصلہ کے بارے متنبہ کیا ہے۔ اگر ملک کا آئین نگران حکومتوں کی مدت، ایک منتخب حکومت مکمل ہونے کے بعد انتخابات کے انعقاد اور نئی حکومت کے قیام کے بارے میں صراحت سے ہدایت دیتا ہے تو انتخابات اور نگران حکومت کی مدت کے حوالے سے اس قسم کی غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کا ذمہ دار کون ہو سکتا ہے؟
اس بے یقینی کی فضا میں البتہ نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کا یہ بیان قابل قدر ہے کہ وہ کوشش کریں گے کہ انتخابات بروقت شفاف طریقے سے منعقد ہوں اور جو فرض ہمیں سونپا گیا ہے، ہم اسے پورا کریں۔ ملک کے نگران وزیر اعظم کی اس یقین دہانی کے باوجود جب ان ہی کی تقریب حلف برداری میں انتخابات کے بروقت انعقاد کے بارے میں سوالات اٹھائے جاتے رہے ہوں تو یقین کو شبہ میں بدلتے دیر نہیں لگتی۔ خاص طور سے اگر تمام واقعات کو تسلسل میں دیکھا جائے جن میں گزشتہ برس بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعلیٰ کے خلاف بغاوت اور اس کے بعد ایک گمنام شخص کا وزیر اعلیٰ کے طور پر انتخاب، سینیٹ کے انتخاب میں طے شدہ پارٹی پوزیشن سے ہٹ کر نتائج اور ان کے بارے میں تحریک انصاف کی طرف سے ووٹوں کی خریداری کا ہنگامہ اور پھر سینیٹ چئیرمین کے عہدے پر رضا ربانی کی بجائے صادق سنجرانی کا انتخاب اور گزشتہ کچھ عرصہ سے تبصروں اور تجزیوں میں انتخابات کے بعد سنجرانی فارمولے کے مطابق انتقال اقتدار کی باتیں۔۔۔ ایک خاص مزاج اور سیاسی بے یقینی کو جنم دیتی ہیں۔
اس صورت حال کو خیبر پختون خوا اور پنجاب میں نگران وزرائے اعلی کی نامزدگی کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کا کردار مزید پیچیدہ اور مشکوک بناتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ان ہی دو صوبوں میں تحریک انصاف کی بات مانی جانے کے باوجود بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کیا یہ کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے یا یہ کسی بڑے منصوبے کا پیش لفظ ہے۔ یہ صورت حال واضح ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ ملک کا سوشل میڈیا چونکہ ہر طرح کے تبصروں اور ’خبروں ‘ کی ترسیل میں آزاد اور بے مہار ہے، اس لئے یہ خبریں اور مشاہدے بھی گشت کر رہے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کی بھارتی ’را‘ کے سابق سربراہ اجیت سنگھ دلت کے ساتھ مل کر لکھی جانے والی کتاب پر فوج کو جو پریشانی لاحق ہے، اس کی وجہ سے اب ’خلائی مخلوق‘ نے پاکستان تحریک انصاف کو اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور اس کی سرپرستی کرنے سے گریز کی کیفیت سامنے آرہی ہے۔ ان تبصروں کے مطابق اسی لئے وزرائے اعلیٰ کے ناموں پر اتفاق کے بعد انکار کا رویہ سامنے آیا ہے۔
کسی بھی ایسے ملک میں جہاں معاملات کسی طے شدہ اصول کے مطابق آگے نہ بڑھتے ہوں بلکہ قومی مفاد اور نظریہ ضرورت نام کی اصطلاحات سے معمول کی کارروائی کو پیچیدہ، مشکل اور مشکوک بنایا جاتا رہا ہو، وہاں اس قسم کی افواہ سازی غیر معمولی بات نہیں۔ خاص طور سے جب انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے بات کسی اور نے نہیں بلکہ ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص نے کی ہو تو یہ خلائی مخلوق محض قیاس نہیں، حقیقی لگنے لگتی ہے۔
اب سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کو نااہل قرار دئیے جانے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ تبدیل کردیا ہے اور خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی ختم کردی گئی ہے۔ وہ اب جولائی میں ہونے والے متوقع انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔ حیرت انگیز طور پر خواجہ آصف کا معاملہ بھی نواز شریف کی نااہلی کے معاملہ کی طرح اقامہ کی بنیاد پر کیا گیا تھا بلکہ خواجہ آصف کا معاملہ اس لحاظ سے زیادہ مشکل تھا کہ وہ حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے ایک خلیجی کمپنی سے اپنی خدمات کا مشاہرہ بھی وصول کرتے رہے تھے۔ جبکہ نواز شریف نے اپنے بیٹے کی کمپنی کے ذریعے اقامہ ضرور لگوایا تھا لیکن کمپنی میں مقررہ عہدہ کی تنخواہ وصول نہیں کی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے طے کیا کہ غیر وصول شدہ تنخواہ بھی ’اثاثہ‘ ہے اس لئے نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کے خلاف فیصلہ کی بنیاد نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ہی بنایا تھا۔ اب سپریم کورٹ کے ہی ایک دوسرے بنچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو غلط قرار دیا ہے گویا سپریم کورٹ کے ہی طے شدہ اصول کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد بھی یہ تکرار شروع ہو گی کہ کیا ملک میں سیاسی فیصلوں کا موسم تبدیل ہو رہا ہے اور اداروں کی سوچ بدل رہی ہے۔
ملک میں جمہوریت کے علاوہ نظام کے استحکام اور اداروں کے اعتبار کے لئے بھی اہم ہے کہ انتخابات اور نگران حکومتوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے سب شبہات دور کئے جائیں۔ یہ واضح ہو سکے کہ نگران حکومت آئین کی طے شدہ تین ماہ کی مدت سے ایک روز بھی زیادہ قائم نہیں رہے گی اور کوئی عدالت کسی بھی عذر پر نہ تو اس کی توسیع کرنے کا اقدام کرے گی اور نہ ہی ایسے کسی تساہل کو قبول کیا جائے گا۔ اسی طرح سیاسی منظر نامہ سے مسلم لیگ (ن) کو مٹانے کی خواہش رکھنے والے سب سیاسی اور غیر سیاسی عناصر کو یہ قبول کرنا پڑے گا کہ اس کا واحد قابل قبول طریقہ وہی ہے جو ملک کے آئین نے وضع کردیا ہے۔ انتخابات میں اگر عوام مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو اعتبار کے قابل نہیں سمجھتے تو ان کی جگہ جو لوگ بھی منتخب ہوں، انہیں اقتدار سونپ دیاجائے۔ اگر عوام کی رائے بدستور نواز شریف کا بیانیہ قبول کرنے پر آمادہ ہے تو مزید 5 برس اسے تبدیل کرنے کے لئے کام کیا جائے۔ اور یہ سمجھ لیا جائے کہ الزام تراشی اور دشنام طرازی سے کسی کا سیاسی قد اور مقبولیت کم نہیں کی جاسکتی۔ ا س کے لئے متبادل پروگرام اور قیادت کو سامنے لانا ہوگا۔
اسد درانی کا معاملہ صرف ایک کتاب کی اشاعت تک محدود نہیں ہے۔ وہ اصغر خان کیس کے بھی اہم کردار ہیں۔ ان پر 90 کی دہائی میں پیپلز پارٹی کے خلاف سیاسی محاذ بنانے کا الزام ثابت ہو چکا ہے۔ بس تحقیق کے بعد سز ا ملنا باقی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار اس حوالے سے حکومت کے تساہل پر ایک بار پھر غصہ کا اظہار کرچکے ہیں۔ اسد دارنی اور جنرل (ر) اسلم بیگ کو سزا ہو یا نہ ہو لیکن یہ بات نوشتہ دیوار ہونی چاہئے کہ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے خلاف 90 کی دہائی جیسا کوئی ڈرامہ رچانے کی کوشش کی گئی تو اس کا رد عمل آنے میں ربع صدی صرف نہیں ہو گی۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker