2018 انتخاباتسید مجاہد علیکالملکھاری

قومی سلامتی، انتخابات اور اداروں کا کردار/ سید مجاہد علی

پاکستان میں انتخابات کا ہنگامہ زوروں پر ہے۔ یہ قیاس آرائیاں بھی دھوم دھام سے کی جارہی ہیں کہ کون سی پارٹی کن حالات میں کتنی نشستیں حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کس پارٹی کی کتنی کامیابی قابل قبول یا کم و بیش کامیابی خود ساختہ قومی مفاد کے لئے اندیشہ و خطرہ کا سبب بن سکتی ہے۔ ملک کا میڈیا یوں تو آزاد ہے لیکن اگر کسی صحافی کی دن دہاڑے پٹائی ہوجائے یا کوئی تجزیہ کار چند گھنٹوں کے لئے اٹھا لیا جائے تو چند مذمتی بیانات کے علاوہ صورت حال کی تبدیلی کے لئے روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ البتہ جاننے والے جان جاتے ہیں اور کہا بھی جارہا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے جن کو جو پیغام پہنچانا مطلوب ہوتا ہے، وہ بہت واضح انداز میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ یعنی گزشتہ سوموار کو پریس کانفرنس میں آزادی اظہار اور جمہوری عمل کے حوالے سے جو حدود متعین کی گئی ہیں انہیں عبور کرنے کی کوشش نہ کی جائے کیوں کہ اس طرح معاملہ اداروں پر دشنام طرازی سے بڑھ کر ریاست کے مفاد اور تحفظ کا ہوجائے گا۔ ہمارے ملک کے غیور ادارے خود پر تو تنقید برداشت کرسکتے ہیں لیکن ریاستی مفاد کو لاحق ہونے والے اندیشوں کو جاں لیوا بننے سے پہلے ہی ختم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
ویسے تو یہ بات دل خوش کن ہے کہ ملک کے ادارے فرض شناس ہیں اور ملک کی حفاظت کے نقطہ نظر سے ہر دم چوکس ہیں۔ لیکن پہلی افغان جنگ اور اس کے بعد 11/9 کے سانحہ کی کوکھ سے جس انتہا پسندی اور دہشت گردی نے جنم لیا تھا اس نے پاکستان کو ایک عام ریاست کی بجائے ایک قلعہ بند مملکت میں تبدیل کردیا ہے۔ یوں تو فلاحی ریاست اور سیکورٹی سٹیٹ کی اصطلاحات کے حوالے سے طویل سیاسی فکری مباحث موجود ہیں اور بہت سے لوگوں کے نزدیک پاکستان کبھی بھی فلاحی ریاست نہیں بن سکا لیکن اسے تیزی سے سیکورٹی ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس بحث کا حصہ بنے بغیر یہاں یہ سوچنے اور استفسار کرنے کی ضرورت ہے کہ سیکورٹی ریاست کے تصور کو خواہ عوامی مفادات کے خلاف قرار دیا جاتا ہو لیکن اس میں فرد محفوظ ہوتا ہے۔ یعنی ملک کے سیکورٹی ادارے ایسا ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جن میں شہریوں کا جان و مال محفوظ ہوتا ہے۔ بس انہیں سر جھکا کر جینا ہوتا ہے۔ آزادی کے بے لگام تصور کو ترک کرنا پڑتا ہے اور جمہوریت کی وہی شکل قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو سیکورٹی سٹیٹ کے منشور اور ضرورتوں سے ہم آہنگ ہو۔ تاہم ایسی ریاست میں عام لوگوں کو چوں کہ جان و مال کا تحفظ حاصل ہوتا ہے ، اس لئے آزادیوں کے حوالے سے بے چینی پیدا ہونے میں طویل وقت صرف ہوتا ہے۔
پاکستان ایک ایسا نادر روزگار ملک ہے جہاں سیکورٹی سٹیٹ کے تمام آثار بھی موجود ہیں ، آزادیوں کے بارے میں بات کرنے والوں کو ایک سیاسی جماعت کا ایجنٹ قرار دینے یا بدعنوان حکمرانوں کا آلہ کار ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے اور اگر اس سے بھی کام نہ چلے تو ریاست دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات اس قسم کے عناصر کا جینا حرام کرسکتے ہیں۔ میڈیا کی آزادی اس حد تک تو وافر ہے کہ کسی بھی تحریر یا ٹاک شو میں کسی بھی شخص کی پگڑی اچھالی جاسکتی ہے اور جمہوریت کی یقین دہانی اس امکان کے ساتھ مشروط ہے کہ عالی دماغ تجزیہ نگار بات کرتے ہوئے یہ فراموش نہیں کرتے کہ ریاستی ادارے ایک اہم سیاسی عنصر ہیں اور ان کی رضامندی کے بغیر کسی بھی جمہوریت کا تصور محال ہوگا۔
یوں میڈیا پر پابندی یا سنسر شپ تو عائد نہیں ہے لیکن اسے جدید اصطلاح ’سیلف سنسر شپ ‘ قرار دے کر ان حدود کا پابند کرنے پر آمادہ یا مجبور کرلیا گیا ہے جو کسی ادارتی بورڈ میں نہیں بلکہ کسی دوسری جگہ سے متعین ہوتی ہیں۔ اس دوسری جگہ کو بدگمان ’خلائی مخلوق ‘ کا نام دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ قوتیں بڑے سکون اور اعتماد سے اسی سرزمین پر اپنے پاؤں جمائے فیصلوں کا اہم حصہ بنی ہوئی ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ میڈیا نے خود ہی زنجیریں پہن لی ہیں اور جمہوریت کی صرف وہی صورت قابل قبول یا ملک سے محبت کی ضامن قرار پائی ہے جس میں ریاستی اداروں کو محسن قرار دیتے ہوئے سیاست میں ان کی موجودگی کو قومی مفاد کے تحفظ کے لئے نعمت غیر مترقبہ سمجھا جائے۔ اس نظریہ میں ایک ایسا جمہوری نظام جس میں واقعی خلق خدا کے راج کا تصور عام کرنے کی کوشش ہو، معروضی حالات اور پاکستان کی ضرورتوں سے متصادم قرار پاتا ہے۔
اسی مزاج کے مظاہر ہیں کہ بلوچستان میں پر امن طریقے سے پارلیمانی بغاوت ہوتی ہے اور اکثرتی بلاک اقلیت میں تبدیل ہو کر کسی نامعلوم نوجوان کے لئے اقتدار کا راستہ ہموار کردیتا ہے اور سینیٹ کے چئیرمین کا انتخاب کرتے ہوئے ایسا انتظام ہوتا ہے کہ شیر بکری ایک ہی گھاٹ پانی پینے لگتے ہیں اور صادق سنجرانی سینیٹ چئیرمین کے منصب پر فائز ہوجاتے ہیں۔ اب سنجرانی فارمولا ملکی سیاسیات میں ایک قابل قدر اصطلاح کے طور پر قبول کیا جاچکاہے اور امید کی جارہی ہے کہ ان انتظامات کے بعد 25 جولائی 2018 کو منعقد ہونے والے انتخابات میں جو پارلیمنٹ منتخب ہو کر سامنے آئے گی ، اسے سنجرانی فارمولا کے تحت ہی وزیر اعظم چننا پڑے گا۔ یہ اصطلاح اس قدر کارآمد اور قومی مفاد سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے کہ ملک کے سب صوبوں میں نگران وزرائے اعلیٰ کی نامزدگی بھی بظاہر سنجرانی فارمولا کے تحت ہی ہوئی ہے۔ اسی لئے صرف وہی اس انتظام سے ناراض دکھائی دیتے ہیں جن کے لئے مستقبل کے سیاسی منظر نامہ میں جگہ تنگ کرنا قومی مفاد اور عوامی کامیابی کے لئے ضروری قرار پایا ہے۔
گزشتہ برس نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے بعد بلوچستان میں برپا ہونے والے پارلیمانی جمہوری انقلاب کے راستے سے ہوتے ہوئے چئیرمین سینیٹ کے انتخاب اور نگران حکومتوں کے قیام تک کے دوران یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ اس سال منعقد ہونے والے عام انتخابات دراصل جانے والی حکومتوں کی کارکردگی ، سیاستدانوں کی صلاحیتوں یا پارٹیوں کی استعداد پر منعقد نہیں ہوں گے۔ ملک کے عوام کی اکثریت چونکہ ان پڑھ، سیاسی پیچدگیوں سے نابلد اور جمہوریت کی نزاکتوں سے ناآشنا ہے اس لئے ان کی سہولت کے لئے یہ اہتمام کیاگیا ہے کہ عوام کو یہ بتا دیا جائے کہ انہیں اس بار ووٹ دیتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بدعنوان حکمران چاہتے ہیں یا ایسی شفاف حکومت جو ماضی کے تمام بد عنوان سیاست دانوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر ملک وقوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا اہتمام کرسکے۔ اس طرح ووٹ دیتے ہوئے لوگوں کے پاس زیادہ چوائس نہیں ہوگا۔ اس واضح سیاسی پیغام کا جواب دینے کے لئے دیوار سے لگی سیاسی قوتیں ووٹ کی عزت کا نعرہ لگا کر یہ باور کروانے کی کوشش کررہی ہیں کہ عوام کو ان انتخابات میں یہ طے کرنا ہے کہ وہ با اختیار پارلیمنٹ چاہتے ہیں یا اسی نظام کا تسلسل چاہتے ہیں جس میں ریاستی ادارے درپردہ معاملات طے کرنے یا کروانے کے اختیار کو استعمال کرتے ہیں اور منتخب حکومت اور پارلیمنٹ ان فیصلوں کی تائید کرنے کے لئے ربر اسٹیمپ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ یہ نعرہ لگانے والے مظلوم بن کر اپنی سیاسی ناکامیوں کی ساری ذمہ داری اس نظام پر عائد کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس میں ریاستی ادارے اصل اختیار کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ اب ان کا کہنا ہے کہ اگر عوام ان کے حق میں فیصلہ کردیں تو وہ سیاست پر ریاستی اداروں کے اختیار کی صورت حال تبدیل کردیں گے۔ تاہم نواز شریف سمیت ان سیاسی قوتوں کو اس بات کا جواب دیتے ہوئے مشکل کا سامنا ہے کہ انہیں ماضی میں دو تہائی اور واضح اکثریت کی صورت میں پارلیمنٹ میں جانے کا موقع ملا لیکن وہ ان مسائل کو پارلیمنٹ میں لا کر اس کی روک تھام کرنے کا اہتمام نہیں کرسکے۔ 30 برس بعد اب وہی نعرے سڑکوں اور جلسوں میں لگا نے سے ان کی مظلومیت کا کیسے اعتبار کیا جائے ۔ اور یہ کیسے مان لیا جائے کہ جو لوگ اب تک میمو گیٹ اور ڈان لیکس جیسے اسکینڈلز کے راز سے پردہ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں وہ مستقبل میں ماضی کے برعکس پالیسی سازی کرکے ملک میں واقعی فلاحی ریاست کے خد و خال نمایاں کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس کے باوجود اب ملکی سیاسی معاملات میں سیاسی پارٹیوں کی ناکامی کے علاوہ اداروں کی زور زبردستی کے سوال پر اس قدر کھل کر بحث ہونے لگی ہے کہ تمام انتظامات اور مثبت اشاریوں کے باوجود اس بات کا امکان ایک بھیانک خواب کی صورت اختیار کرچکا ہے کہ اگر انتخابات میں ووٹ بد عنوانی یا جمہوریت کا تقابل کرتے ہوئے ڈالنے کی بجائے ووٹ کی عزت یا ریاستی اداروں کے اختیار کا موازنہ کرتے ہوئے ڈالےگئے تو اس ناگہانی صورت حال کا کیسے مقابلہ کیا جائے گا۔ کسی حد تک ڈیمیج کنٹرول کے لئے تو سنجرانی فارمولا کام کرسکتا ہے لیکن اگر ووٹ کا بہاؤ یک طرفہ اور سیاسی آگہی پر مبنی ہوا تو شاید نتائج کو قبول کرنا اور سنبھالنا دونوں ہی مشکل ہو جائیں۔
اس سیاسی اور انتظامی مشکل سے قطع نظر اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے متعدد سیاست دانوں کی سیکورٹی واپس لے کر ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے کہ ملک میں عام لوگوں سے لے کر خواص تک کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے۔ سیاست دانوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لئے ریاست کو زیر بار نہیں کرسکتے لیکن اس سوال کا جواب تو ریاست اور اس کے ذمہ دار اداروں کو ہی دینا پڑے گا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے باوجود ملک میں کوئی بھی کیوں محفوظ نہیں ہے۔ عام شہری ہو یا عدالت کا جج، سیاست دان ہو یا فوج کا کمانڈر ۔۔۔ کوئی بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔ اہم لوگوں کی حفاظت اور سیکورٹی فراہم کرنے کے نام پر قائم ہونے والی صنعت روز افزوں ہے۔ ملک سے دہشت گردی ختم ہوگئی لیکن تحفظ کا احساس واپس نہیں آیا۔ ملک کو محفوظ ثابت کرنے کے لئے جو کرکٹ میچ بڑے شہروں میں کروائے گئے، ان کے دوران شہروں کو قلعہ بنادیا گیا تھا۔ عدلیہ سیاست دانوں سے اپنی حفاظت کا انتظام خود کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ سیکورٹی اداروں سے یہ بھی پوچھ لے کہ ملک میں عدم تحفظ کی صورت حال کیوں موجود ہے۔ بدنصیبی سے پاکستانی نظام میں سیکورٹی ریاست کی سب خصوصیات ہونے کے باوجود عوام کی سہولت کے لئے یہ احساس تک پیدا نہیں کیا جاسکا کہ وہ خود کو محفوظ سمجھیں۔ کسی کو تو اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker