Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, جون 15, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • نو سالہ آسٹریلین نژاد ہانیہ کی سی ٹی ڈی فائرنگ سے ہلاکت : مبینہ ڈاکو ’’ مقابلے ‘‘ میں مارے گئے
  • آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی : ایران کا اعلان ۔۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
  • امریکا ایران امن معاہدہ طے پا گیا : 19 جون کو دستخط ہوں گے : شہباز شریف
  • حکومت تبدیلی کی بحث کتنی حقیقت پسندانہ ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • "لیڈز سے لاہور ۔۔۔ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا : ڈاکٹر سید علی رضا نقوی کا اختصاریہ
  • خبردار ، ہوشیار، تیار : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ : تعلیمی ادارے سرمایہ کاروں کے سپرد کرنے کی پالیسی
  • بجٹ میں خسارہ، غربت میں اضافہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • پیٹرول 4 اور ڈیزل اور ڈیزل 2 روپے فی لیٹر سستا کردیا گیا
  • ایران ہٹ دھرمی کی بجائے ہوشمندی سے کام لے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»ایک یوم سوگ نگران حکومت کی بے بسی پر ۔۔ سید مجاہد علی
تجزیے

ایک یوم سوگ نگران حکومت کی بے بسی پر ۔۔ سید مجاہد علی

ایڈیٹرجولائی 15, 20180 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
justice nasir ul mulk
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

مستونگ دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والے معصوم شہریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت اور پاک فوج کے سربراہ نے حسب روایت افسوس کا اظہار کر کے اور مذمت پر مشتمل بیانات جاری کر کے مرنے والوں کی تعزیت کی ہے اور پس ماندگان سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے چار روز میں تین دہشت گرد حملوں میں 200 سے زائد لوگوں کی شہادت پر اتوار کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس روز پاکستان کا پرچم شہدا کی یاد میں سرنگوں رہے گا۔ وزیر اعظم کے اس ’اعلان ہمدردی یا یک جہتی‘ سے مرنے والوں کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس ملک کے زندہ انسان ضرور یہ پوچھ سکتے ہیں کہ کیا وہ اس یوم سوگ کے بعد اس اطمینان سے گھروں سے نکل سکتے ہیں کہ اب حکومت اور سیکورٹی ایجنسیاں سیاسی بناؤ بگاڑ میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے فرض منصبی پر عمل کررہی ہیں اور شہریوں کی حفاظت کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔
اگر حکومت اور وزیر اعظم یہ وعدہ کرنے اور یقین دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو اس یوم سوگ سے کیا حاصل ہو گا۔ وزیر اعظم سمیت کون ہے جو دہشت گردی کی مذمت نہیں کرتا، کون ہے جو بے گناہوں کے بےموت مارے جانے والوں کے لئے خون کے آنسو نہیں بہاتا اور کون ہے جو اس ملک کو خوش حال اور محفوظ دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود اس ملک میں ایسے گروہوں ، عناصر اور مزاج کو فروغ پانے کے لئے سازگار ماحول فراہم کیا گیا ہے جس کے بطن سے وہ سفاک پیدا ہوتے ہیں جو معصوم شہریوں پر حملوں کو کسی عظیم مقصد کی تکمیل سمجھتے ہیں۔ اسی مزاج کا شاخسانہ ہے کہ ملک میں یہ رائے بھی موجود ہے کہ ’انتہاپسندانہ ہتھکنڈے اختیار کرنے والوں کی کچھ باتیں تو درست ہیں لیکن ان کو بھی کچھ شکایات ہیں۔ ان کے دل کا حال بھی جاننا چاہئے‘۔ وزیر اعظم ناصر الملک کو قومی سوگ منانے کا اعلان کرنے سے قبل یہ جواب دینا چاہئے کہ کیا اس ایک یوم الم سے انتہا پسند بیانیہ اور اس کے ہمدردوں کے رویہ میں کوئی تبدیلی رونما ہو گی۔
اگر ’یوم سوگ ‘منانے سے ہی مسئلے حل ہوسکتے ہیں تو ایک یوم سوگ حکوت وقت کی بے بسی پر بھی منانا چاہئے جو حکمرانی کے دعوے کے باوجود بے بس اور معذور ہے لیکن اس بے بسی میں بھی ایک سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم یہ حکومت اپنی آئینی حدود کو سمجھنے کی بجائے اربوں روپوں کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے رہی ہے۔ حکومت کی یہی ’فراخدلی‘ اس کی کم ہمتی پر دلالت کرتی ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی واپسی اور گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور جیل میں نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ روا رکھے جانےوالے سلوک سے بھی حکومت وقت اور وزیر اعظم ناصرالملک کی بے بسی عیاں ہوتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ نواز شریف کو کس الزام میں کیا اور کیوں سزا دی گئی ہے، جیل میں ان کے ساتھ ہونے والے سلوک اور روا رکھے جانے والے توہین آمیز طرز عمل کی پوری ذمہ داری نگران حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
ملک کے آئین میں نگران انتظام قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسی حکومت غیر جانبدار ہو گی اور ملک میں حکمرانی کے لئے ایک دوسرے کے مد مقابل سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں کے حوالے سے کسی قسم کا یک طرفہ رویہ اختیار نہیں کرے گی۔ تاہم مسلم لیگ (ن) اور اس کے حامیوں کے ساتھ ملک بھر میں برتے جانے والے سلوک اور سیاسی کارکنوں کی دھڑا دھڑ گرفتاریوں سے صرف یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو اس غیر سیاسی نگران حکومت کو معاملات پر اختیار حاصل نہیں ہے یا کابینہ کے ارکان اور اس کے سربراہ وزیر اعظم ناصر الملک کو اپنا اختیار استعمال کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ ورنہ یہ حکومت ان ہی ریاستی طاقتوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی کیوں بنتی جن کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے نواز شریف برطانیہ جیسے محفوظ ملک سے پاکستان جیسے غیر محفوظ اور ناقابل بھروسہ نظام کے حامل ملک پاکستان واپس آئے ہیں۔ نگران حکومت اور اس کے ارکان کی کوئی سیاسی مجبوری نہیں ہوتی اور نہ ہی انہیں انتخاب میں حصہ لے کر مستقبل میں قسمت آزمائی کا شوق ہوتا ہے۔ یہ مجبوریاں سیاست دانوں اور ان کی پارٹیوں کے حصے میں آتی ہیں۔ اسی لئے اسٹبلشمنٹ مضبوط ہوتی ہے اور سیاسی اقتدار کے خواہشمندوں کو ایک دوسرے سے بھڑا کر اپنی انگلیوں پر نچاتی ہے۔ اس کھیل کے پرانے شناور نواز شریف نے اقتدار اور اختیار کی اسی ساز باز کے خلاف کھڑا ہونے کی کوشش کی ہے اور اس کی سزا پانے کے لئے وہ اڈیالہ جیل کے ایسے سیل میں بند ہیں جہاں نہ انہیں ائیر کنڈیشنڈ فراہم کیا گیا ہے، نہ اخبار میسر ہے۔ ان کی لیگل ٹیم پانچ منٹ کی مختصر ملاقات میں جو معلومات باہر لائی ہے اس کے مطابق ملک کے سابق وزیر اعظم کو جو باتھ روم استعمال کے لئے دیا گیا ہے وہ نہایت گندا اور حفظان صحت کے منافی ہے۔
یوں تو نگران حکومت کی بے بسی کا اس سے بڑا مظاہرہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ پیچیدہ اور مشکل مقدمات کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو اپنے وکلا سے جیل حکام نے صرف پانچ منٹ ملنے کی اجازت دی۔ مریم نواز کے ساتھ لیگل ٹیم کو ملنے بھی نہیں دیا گیا بلکہ ان کے ذاتی وکیل سے مختصر ملاقات کو کافی سمجھا گیا۔ اس صورت میں جسٹس ناصر الملک کو صرف اس بات کا جواب دینا ہے کہ اگر بطور وزیر اعظم وہ ان عناصر کے سامنے اتنے ہی بے بس ہیں کہ جیل کے حکام بھی ان کے قبضہ قدرت میں نہیں تو انہیں یہ عہدہ قبول کرنے کی کیا مجبوری تھی۔ سیاست دان تو کہہ سکتے ہیں کہ انہیں حکومت کرنے کے لئے مفاہمت کرنا پڑتی ہے اور طاقت کے اصل مراکز کی جبین پر شکن سے خود کو محفوظ رکھنا پڑتا ہے تاکہ ملک میں جمہوری حکومتیں اپنی مدتیں پوری کرتی رہیں۔ لیکن ناصر الملک اور چاروں صوبوں کے نگران وزرائے اعلیٰ کو ایسی کون سی ایسی مجبوری ہے۔ انہوں نے تو مختصر مدت کے لئے شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے عہدے سنبھالے ہیں لیکن ان کی بے اختیاری کا یہ عالم ہے کہ وہ دہشتگردوں کو تو کیا روکیں گی، سیاسی جماعتوں کو سرگرمیاں جاری رکھنے اور اپنے لیڈر کا استقبال کرنے کے لئے باہر نکلنے والے لوگوں کو ان کا بنیادی حق دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ ناصر الملک اگر نہیں جانتے کہ کون اور کیوں نواز شریف اور ان کی بیٹی کو نشان عبرت بنانے کے درپے ہے تو ان کی عقل پر ماتم کیا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ یہ جانتے ہوئے بھی ملک کے سابق وزیر اعظم کو اس کا جائز احترام و حق اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت نہیں دے سکتے تو ایسی بے بس حکومت سے اظہار ہمدردی کے لئے ایک دن کا سوگ ہی منایا جا سکتا ہے۔
کیا المناک تصویر ہے ملک کا بے بس نگران وزیر اعظم سپریم کورٹ کا سابق چیف جسٹس ہے لیکن اپنا اختیار سمجھنے اور برتنے پر قادر نہیں۔ پنجاب کا وزیر اعلیٰ ایک ’دانشور، پروفیسر اور تجزیہ نگار‘ ہے۔ حسن عسکری نے ساری زندگی شہری آزادیوں اور سول ملٹری تعلقات پر گل افشانی کی ہے لیکن کل لاہور میں وہ چند ہزار لوگوں کے اجتماع کو نعرے لگانے اور ائیر پورٹ جانے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں تھے۔ وائے ری مجبوری کہ حکومت خواہ نظام سقہ کی طرح ہی ہو لیکن اسے ایک پروفیسر بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس پر فائز رہتے ہوئے چابی والےکھلونے کی طرح حرکتیں کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ اس بے بسی پر یوم سوگ نہ منایا جائے تو اور کیا کیا جائے۔
ملک کے وزیر اعظم اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ اگر انتخابات کے دوران تحریر و تقریر، اجتماع اور جلوس کی آزادی فراہم کرنے کے بھی روادار نہیں تو ان کی ’نگرانی میں ہونے والے انتخابات کا نتیجہ تو پہلے سے نوشتہ دیوار ہے۔ اس تحریر میں یہ تو شامل ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کرنا ہے لیکن یہ پیغام ملک کے لئے جس مشکل اور جمہوریت کے لئے جس ناکامی کا سبب بنے گا اس کی ذمہ داری بالآخر نگرانوں ہی کو قبول کرنا پڑے گی۔ وہ جن کو خوش اور مطمئن کرنے کے لئے مجبور محض بنے ہوئے ہیں، وہ عناصر دوسروں پر ذمہ داری ڈال کر اختیار خود استعمال کرتے ہیں۔ یہ نوشتہ دیوار بھی اسی تحریر کے ساتھ درج ہے جس میں نواز شریف کو عبرت کا نشان بنانے کا حکم نامہ لکھا ہے۔نگران حکومتوں کی بے بسی کے لئے یوم سوگ منایا جائے تو اس روز ایک سیاہ علم ملک کے بے باک چیف جسٹس ثاقب نثار کے لئے بھی بلند ہونا چاہئے۔ انہیں قانون جاننے اور عدالتوں میں خدمات سرانجام دینے کے صلے میں یہ عہدہ جلیلہ نصیب ہؤا تھا لیکن اب ان کی زندگی کا مقصد ڈیم بنانے کے لئے چندہ اکٹھا کرنا اور اس کے بعد قوم کے قرضے اتارنے کی مہم شروع کرنا ہے۔ بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے ملنے والے خصوصی اختیار کے تحت خود کو آئین سے بالا سمجھنے والے اس چیف جسٹس کو کل لاہور میں انسانوں کے حقوق سے کھلواڑ دکھائی نہیں دیا۔ کیوں کہ وہ انصاف فراہم کرنے سے بھی بڑے اور ’عظیم قومی مقصد‘ میں مصروف ہو چکے ہیں۔ چیف جسٹس کی بے بسی پر بلند ہونے والے اس سیاہ علم پر بڑے حروف میں لکھ دیا جائے ’ اس ملک میں کسی عہدے پر فائز ہونے کے بعد اپنی ذمہ داری پورا کرنے کے سوا ہر کام کرنا جائز ہوتا ہے۔ تابسکہ صاحبان اختیار کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے‘۔
( بشکریہ : ہم سب لاہور )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleملتان مرا رومان : یادیں ( 7 ) ۔۔ رضی الدین رضی
Next Article نواز شریف اڈیالہ کا عام قیدی :وکلاء کو صرف پانچ منٹ ملاقات کی اجازت
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

نو سالہ آسٹریلین نژاد ہانیہ کی سی ٹی ڈی فائرنگ سے ہلاکت : مبینہ ڈاکو ’’ مقابلے ‘‘ میں مارے گئے

جون 15, 2026

آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی : ایران کا اعلان ۔۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

جون 15, 2026

امریکا ایران امن معاہدہ طے پا گیا : 19 جون کو دستخط ہوں گے : شہباز شریف

جون 15, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • نو سالہ آسٹریلین نژاد ہانیہ کی سی ٹی ڈی فائرنگ سے ہلاکت : مبینہ ڈاکو ’’ مقابلے ‘‘ میں مارے گئے جون 15, 2026
  • آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی : ایران کا اعلان ۔۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی جون 15, 2026
  • امریکا ایران امن معاہدہ طے پا گیا : 19 جون کو دستخط ہوں گے : شہباز شریف جون 15, 2026
  • حکومت تبدیلی کی بحث کتنی حقیقت پسندانہ ہے؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 15, 2026
  • "لیڈز سے لاہور ۔۔۔ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا : ڈاکٹر سید علی رضا نقوی کا اختصاریہ جون 14, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.