رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں ( 7 ) ۔۔ رضی الدین رضی

ملتان محمد بن قاسم کا پڑاؤ اور گوروں کی چھاؤنی

ماضی کے حملہ آور ملتان پر قبضے کے بعد اپنی فوج سمیت قلعے میں رہتے تھے ۔انگریز آئے تو انہوں نے پہلے قلعہ تباہ کیا اور پھر شہر کے باہر مغرب کی سمت کم و بیش اسی مقام کے قریب چھاؤ نی ڈال لی جہاں کبھی صدیوں پہلے محمد بن قاسم نے اپنی فوج کے ساتھ پڑاؤ کیا تھا اور وہ جگہ پھر اسی کے نام سے موسوم ہو کر قاسم بیلہ کہلائی تھی ۔چھاؤ نی بنی تو پھر گورکھوں کے لئے کالونی بھی بنائی گئی ،بازار بنا ،مارکیٹ بنی ،ایک نیا قلعہ تعمیر ہوا ۔گورکھوں کی آسائش کے لئے ہر چھاؤ نی کے ساتھ لال کرتی والیوں کا ایک محلہ آباد کیا جاتا تھا جو ”لال کرتی“ ہی کہلاتا تھا۔یہ محلہ ملتان میں بھی آباد ہوا ۔

ریل کی سیٹی بجی ملتان میں‌

پھر ایک روز اس شہر میں چیختی چنگھاڑتی شور مچاتی چھک چھک کرتی ریل گاڑی آگئی ۔اور اس کے ساتھ بابُوؤ ں کی ایک نئی کھیپ بھی آئی ۔شہر کا مرکزی ریلوے سٹیشن چھاؤ نی کے قریب ہی تعمیر ہوا شاید اس لئے کہ ٹرین ابتدائی طور پر چلائی ہی اس لئے گئی تھی کہ گورکھوں تک رسد پہنچانے میں آسانی ہو۔ویسے بھی حکمرانوں کا ہمیشہ سے یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ عوام کے نام پر جو بھی سہولت فراہم کریں اس بات کو ضرور مدِ نظر رکھتے ہیں کہ عوام سے زیادہ اس سہولت کا خود انہیں فائدہ پہنچے۔



کمپنی حکومت کا کمپنی باغ اور ممنوعہ علاقہ

اسی چھاؤ نی میں کمپنی حکومت کے نام پر ایک باغ لگایا گیا ۔یہ باغ تھا تو گورکھو ں کے لئے لیکن عام ملتانیوں کو بھی اس میں داخلے کی اجازت تھی۔باغ ہی نہیں ملتان کے لوگ چھاؤ نی کی سڑکوں پر بھی گھوم سکتے تھے ۔انگریز حکمرانوں نے اگرچہ چھاؤ نی عوام سے فاصلہ رکھنے کے لئے ہی شہر سے دور بنائی تھی لیکن چھاؤ نی اس زمانے میں لوگوں کے لئے نو گو ایریا نہیں تھی۔ہاں کچھ دفاتر یافوجی گوداموں کے باہر ”خبردار یہ ممنوعہ علاقہ ہے“ کا بورڈ ضرور نصب ہوتا تھا اور لوگ اس بورڈ کا بھی احترام کرتے تھے ۔اور کمپنی باغ (جسے اب کنٹونمنٹ گارڈن کا نام دیا جا چکا ہے)کے ذکر پر ہم اپنے سکول کا ذکر کیوں نہ کریں‌ جو اس باغ کے قریب ہی سروسز کلب(اسے اب ایم جی ایم یعنی ملتان گیریژن میس کے نام سے پکارا جاتا ہے)کے سامنے واقع تھا ۔



مینڈک پکڑنے پر تو کوئی پابندی نہیں

نویں جماعت میں بیالوجی کے پریکٹیکل کے لئے جب ہمیں مینڈک کاآپریشن ((DISSECTION کرنا تھا تو اس کے لئے مینڈک ہم اسی کمپنی باغ سے پکڑ کر لائے تھے ۔اس زمانے میں یہاں سے مینڈک پکڑنے پر کوئی پابندی نہیں تھی ۔پابندی تو مینڈک پکڑنے پر شاید اب بھی نہ ہو لیکن ایک تو اب وہ مینڈک ہی نہیں رہے اور دوسرا بہت سی اورپابندیاں بھی لگ چکی ہیں ۔جس سروسز کلب میں جا کر ہم صبح سویرے پہلے یا دوسرے پیریڈ کے دوران کبھی کبھارجوفریزئر یا کین نارٹن کے ساتھ محمد علی کلے کی باکسنگ دیکھا کرتے تھے برا ہو اسلام کے نام پر پوری دنیا کی فتح کا خواب دیکھنے والے دہشت گردوں کا کہ ان کی وجہ سے اب اسی کلب اور کمپنی باغ کے سامنے فوج کے جوان گشت کرتے ہیں کسی چڑیاکو بھی پر مارنے کی جرات نہیں ہوتی۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker