2018 انتخاباتسید مجاہد علیکالملکھاری

حنیف عباسی کی سزا کے بعد عدالتی نظام کٹہرے میں/ سید مجاہد علی

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حنیف عباسی کو ملنے والی عمر قید اور نااہلی کی سزا کے بعد این اے 60 میں انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کرکے تنقید کی بھڑکتی آگ پر پانی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ اس ایک اقدام سے ناقدین کا منہ بند کیا جاسکے گا یا دو روز بعد منعقد ہونے والے انتخابات کے بارے میں شبہات ختم ہو جائیں گے ۔ گزشتہ دو روز کے دوران سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائیندوں نے انتخابات میں عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن کے غیر مؤثر اور جانبدارانہ کردار پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور واضح کیا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے لئے حالات کو مشکل بنایا جارہا ہے۔ اسی حوالے سے نیب اور عدالتوں پر بھی الزامات کی بارش ہے۔ گزشتہ روز راولپنڈی بار کی تقریب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک پر جوش تقریر میں عدالتوں اور آئی ایس آئی پر سنگین الزامات عائد کئے تھے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک کے حالات خراب کرنے کی پچاس فیصد ذمہ داری عدالتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے عدالتی کارروائی میں خفیہ ایجنسی کی مداخلت کی مثالیں دیں اور کہا کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات تک بہر صورت جیل میں بند رکھنے کا تہیہ کیا گیا تھا، اسی لئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اپنی مرضی کا بنچ بنوایا گیا تاکہ انہیں ریلیف نہ مل سکے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کراچی میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت صدیقی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے غم و غصہ کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ عدالتوں پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے جسٹس صدیقی کے بیان پر کارروائی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ پیغام میں چیف جسٹس آف پاکستان سے جسٹس شوکت صدیقی کے الزامات کی تحقیق کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس ٹویٹ میں واضح نہیں ہے کہ فوج کی طرف سے آئی ایس آئی پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے لئے باقاعدہ رٹ دائر کی جائے گی یا اس ٹویٹ پیغام کو ہی کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ ٹویٹ بیان بعد میں ایک پریس ریلیز کی صورت میں بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح چیف جسٹس نے عدالتی کارروائی کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے عدالتوں کی خود مختاری اور آزادی کا یقین دلانے کی کوشش کی اور جسٹس شوکت صدیقی کی تقریر کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ان الزامات کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔
فوج اور عدلیہ نے جسٹس صدیقی کے الزامات کا جواب دینے کے لئے بیان جاری کرنے کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے دراصل اسی روایت کو آگے بڑھایا ہے جو شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر میں ریاستی اداروں کے بارے میں سنسنی خیز الزامات عائد کرکے قائم کی ہے۔ نہ جسٹس شوکت صدیقی کے طریقہ کار کو درست قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی پاک فوج کے ترجمان یا ملک کے چیف جسٹس کے طریقہ کا ر کو الزامات کی تردید سمجھا جا سکتا ہے۔ ایسے سنگین الزامات کے بعد دونوں اداروں کی طرف سے واضح تردید سامنے آنی چاہئے تھی ۔ اس کے بعد فوج متعلقہ جج کی ’بے بنیاد‘ الزام تراشی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرسکتی تھی۔ چیف جسٹس نے بھی اس اہم معاملہ کی تردید کرنے کے لئے ملامتی رویہ تو اختیار کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے تجربات یا مشاہدات کی بنیاد پر آئی ایس آئی کی عدالتی کام میں مداخلت اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے کردار کے بارے میں جو الزامات عائد کئے ہیں، ان کی حقیقت جاننے کی کوشش ہونی چاہئیں اور اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس کا تدارک کیا جائے گا۔ اس معاملہ میں ملک کے چیف جسٹس سے جائز طور سے غیر جانبدارانہ کردار کے علاوہ پروفیشنل اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ لیکن جسٹس ثاقب نثار نے جس طرح شوکت صدیقی کے بیان پر افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ عدالتوں پر کوئی دباؤ نہیں ہے، اسے تو فرد واحد کا بیان ہی سمجھا جائے گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار بجا طور سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور نہ ہی وہ ملک کے آئین و قانون کے سامنے کسی کی رائے یا مشورہ کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہ اعلان ان کے ذاتی کردار اور تجربہ کو واضح کرتا ہے لیکن بطور ایک فرد خواہ وہ ملک کے چیف جسٹس کے عہدہ پر ہی کیوں فائز نہ ہوں، وہ کیوں کر قیاس کرسکتے ہیں کہ ایک دوسرے جج نے جو تجربات بیان کئے ہیں، وہ لازمی طور سے غلط ہیں۔ یا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے دوسرے ججوں کو کسی قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ چیف جسٹس کو اس افسوسناک صورت حال میں اپنے ادارے کے ایک جج کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ انہیں حقیقت بیان کرنے پر اپنی جان گنوانے کے خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور عدالت عظمی بطور ادارہ ان کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ اگر چیف جسٹس پر کوئی دباؤ نہیں ہے تو اعلیٰ عدالتوں کے بعض دوسرے جج اس قسم کے دباؤ اور ذبردستی سے محفوظ نہ ہوں۔ آخر کوئی وجہ تو ہوگی کہ جسٹس شوکت صدیقی نے اپنی پوزیشن اور حیثیت کے باوجود اس قسم کے حساس موضوع پر جذباتی انداز میں کھل کر بات کی ہے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کا جو بیان اخبارات کے ذریعے رپورٹ ہؤا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ جسٹس شوکت صدیقی کے بیان کو غلط قرار دے رہے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس بیان میں کوئی ایسا تاثر موجود نہیں ہے کہ اگر ہائی کورٹ کی سطح پر یا سپریم کورٹ کے بعض ججوں کو حساس اداروں یا دوسرے عناصر کی طرف سے دباؤ کا سامنا ہے یا انہیں ترغیب و تحریص کے ذریعے ساتھ ملانے کی کوشش کی جارہی ہے تو چیف جسٹس اس کے تدارک کے لئے اقدام کریں گے۔ اس تناظر میں چیف جسٹس کا بیان نامکمل ہے اور عدالتوں کے کردار اور خفیہ ایجنسیوں سے ان کے تعلقات کے حوالے سے تصویر کو واضح کرنے میں ناکام رہا ہے۔
عدالتوں پر جانبداری برتنے یا ’اشاروں‘ کے مطابق فیصلے کرنے کا الزام نیا نہیں ہے۔ پاناما کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد سے یہ پیغام عام کیا جاتارہا ہے کہ عدالتیں خفیہ ایجنسیوں کے ایجنڈے پر کام کررہی ہیں۔ فیصلوں میں الفاظ کا انتخاب، کمزور شواہد کی بنیاد پر سخت فیصلے کرنے کے بعد ان کے خلاف اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے درشت انداز اختیار کرنے کا طریقہ، پاناما کیس میں جے آئی ٹی بناتے ہوئے خفیہ ایجنسیوں کے نمائیندوں کی شمولیت اور انہی کی فراہم کردہ معلومات پر وزیر اعظم کو نااہل اور بعد میں نیب عدالت کے ذریعے سخت سزا دلوانے کا پورا عمل متوازن اور شفاف عدالتی طریقہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس حوالے سے اٹھنےوالے شبہات کا جواب دینے اور معاملات کو درست کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے، سو موٹو اختیار استعمال کرتے ہوئے حکومت کے کاموں میں مداخلت کرنے، اصلاح معاشرہ کے منصوبوں پرتوجہ دینے اور پھر ڈیم بنانے کا حکم دینے کے علاوہ ان کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے کے عملی اقدامات کرکے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ ملک و قوم کے درد اور عوام کے مسائل پر سخت پریشان ہے۔ اور اب اس کے فرشتہ صفت چیف جسٹس سیاست دانوں کے ستائے ہوئے عوام کی مشکلیں حل کرنے کے لئے ہر حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس طرح اگرچہ چیف جسٹس کی ذاتی شہرت میں اضافہ ہؤا ہے اور عوام اور میڈیا نے ان کے متعدد اقدامات کی پذیرائی بھی کی ہے لیکن اس سے سپریم کورٹ یا عدالتوں پر اعتماد میں اضافہ نہیں ہو سکا اور نہ ہی یہ تاثر قوی ہؤا ہے کہ ملک میں معاملات آئین و قانون کے مطابق ہی طے پا رہے ہیں۔
سیاسی معاملات میں فوجی اداروں کی مداخلت کے قصے زبان زد عام ہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی کے بیان نے عدلیہ کے اندر سے اس تاثر کو پختہ کرنے میں کردارا ادا کیا ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنا فوج کے ترجمان کا کام ہے۔ سپریم کورٹ کو تو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ کسی جج کو اس قسم کی صورت حال کا سامنا نہ ہو اور اگر شوکت صدیقی کو لالچ دیا گیا، ان پر دباؤ ڈالا گیا یا بعض ’مطالبات‘ نہ ماننے کی صورت میں ان کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے تو چیف جسٹس اس کا ازالہ کرنے کی ضمانت فراہم کریں ۔ اسی طرح عدالتوں کی غیر جانبداری اور سختی سے قانون کے مطابق کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے۔ جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف جو دو ریفرنس قائم ہیں ان میں سے ایک فوج کے بارے میں ان کے ریمارکس کے بارے میں ہی ہے۔ اب اگر انہوں نے عدالتی معاملات میں آئی ایس آئی کی مداخلت کا بیان سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنے خلاف ریفرنس کی کارروائی کو متاثر کرنے کے لئے دیا ہے تو بھی ملک کے چیف جسٹس ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج کے الزامات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ان الزامات کی تحقیقات کے لئے قابل بھروسہ اور غیر جانبدار انتظام ہونا چاہئے۔ جسٹس صدیقی کو اپنے الزامات ثابت کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ الزامات جھوٹ ہونے کی صورت میں سپریم جوڈیشل کونسل کے لئے انہیں ان کے عہدہ سے فارغ کرنا آسان ہو جائے گا۔ لیکن اگر یہ عمل شفاف اور مناسب طریقہ کے بغیر مکمل کرنے کی کوشش کی گئی تو شوکت صدیقی ’شہید‘ کا رتبہ پائیں گے اور سپریم کورٹ کا دامن مزید داغدار ہوگا۔
عدالتوں کا کردار حنیف عباسی کے معاملہ میں بھی داغدار ہؤا ہے۔ متعلقہ عدالت ان کے خلاف سات سالہ پرانے مقدمہ کی سماعت انتخابات کے بعد اگست میں کرنے کا اعلان کرچکی تھی۔ لیکن پھر ہائی کورٹ میں اپیل کے ذریعے اس کا فیصلہ 21 جولائی تک کرنے کا حکم دیا گیا۔ کل رات گئے اس مقدمہ کے باقی ملزمان کو شبہ کی بنیاد پر بری اور حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ حنیف عباسی این اے 60 سے عوامی مسلم لیگ کے صدر اور نواز شریف کے شدید مخالف شیخ رشید کے مد مقابل تھے۔ اس طرح اس فیصلہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس معاملہ میں شیخ رشید کو واک اوور دلوانے کی کوشش کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن اگرچہ کسی امیدوار کو سزا کی وجہ سے نااہلی پر انتخاب ملتوی کرنے کا پابند نہیں تھا لیکن ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں مل جاتی۔ الیکشن کمیشن کی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی عملی اقدامات سے عدالتوں کے بارے میں اٹھنے والی شبہات کی دھول کو بٹھانے کی کوشش کرنا ہو گی۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker