سید مجاہد علیکالملکھاری

پاک امریکہ تعلقات: پاکستانی حکومت کیا چاہتی ہے؟۔۔سید مجاہد علی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے موقع پر نیویارک میں مصروف وقت گزارنے کے بعد واشنگٹن کا دورہ کیا ہے اور وزیر خارجہ مائیک پومیو اور قومی سلامتی کے مشیرجان بولٹن سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک تھنک ٹینک کے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے بھی پاکستان کا مؤقف سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے ان ملاقاتوں کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس طرح کچھ عرصہ سے باہمی تعلقات پر جمی ہوئی برف پگھلی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب امریکہ کی طرف سے ویسا تند و تیز لب و لہجہ اختیار نہیں کیا جارہا جو چند ماہ پہلے تک واشنگٹن کی طرف سے سے سننے میں آتا تھا۔ شاہ محمود قریشی اسے اپنی اور حکومت کی کامیابی قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ تاہم امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کسی بھی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے چند ہفتوں میں تبدیل ہونے کا امکان نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کی ناکامی کے بعد امریکی حکومت کے اہل کاروں نے سفارتی لب و لہجہ تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کی ہو۔
شاہ محمود قریشی کا دورہ واشنگٹن اس لحاظ سے تو اہم رہا ہے کہ انہیں اعلیٰ سطح پر امریکی حکام سے ملاقاتیں کرنے کا موقع ملا اور جیسا کہ وہ خود بتا ررہے ہیں کہ وزیر خارجہ مائیک پومیو اس گفتگو کے دوران ان کی باتیں سننے پر آمادہ تھے اور امریکہ کی طرف دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کرنے سے گریز کیا گیا۔ یہ تبدیلی اگرچہ حوصلہ افزا ہے لیکن پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر جمی گرد اور علاقے میں امریکی پالیسیوں کے تناظر میں صرف خوش گوارگفتگو کو اہم پیش رفت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں کی طرف سے ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کے انداز کو تبدیل کرنے کے علاوہ ان اہداف کی نشاندہی بھی ضروری ہے جو وہ ایک دوسرے کی مدد سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ نے تو اپنا مؤقف واضح کردیا ہے ۔ واشنگٹن اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ پاکستان اپنے علاقوں میں افغانستان میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کا قلع قمع کرے اور طالبان کو مذاکرات کی میز تک آنے پر مجبور کرے۔ پاکستان کی طرف سے اس امریکی الزام کو مسترد کیا جاتا ہے کہ وہ قبائیلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک یا افغانستان میں امریکی فورسز پر حملوں میں ملوث عناصر کو برداشت کرتا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن رد الفساد کے ذریعے قبائیلی علاقوں میں ہر قسم کے عسکری گروہوں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ اس لئے امریکہ کو پاکستان پر الزام تراشی کی بجائے دہشت گردوں کے خلاف اس کی کامیابیوں اور قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔ امریکہ کی طرف سے اس قسم کا اعتراف ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ کے کریڈٹ میں یہ بات ضرور جاتی ہے کہ انہوں نے واشنگٹن میں قیام کے دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے بارے میں امریکی مطالبے اور افغانستان میں مصالحت کے لئے حال ہی میں مقرر کئے گئے مندوب زلمے خلیل زادے کے خیالات پر سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے امریکی رائے عامہ کو باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ اگر امریکہ اسامہ بن لادن کے معاملہ میں ملوث ہونے پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے تو پاکستان میں بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو امریکی عدالت نے 86 برس قید کی سزا دے رکھی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جس طرح پاکستان امریکی عدالتی نظام کا احترام کرتا ہے ، اسی طرح امریکی حکومت کو بھی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملہ پر بات کرتے ہوئے یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہئے کہ انہیں پاکستان کے عدالتی نظام میں سزا ہوئی ہے۔ امریکہ کو اس کا احترام کرنا ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے اسی طرح زلمے خلیل زادے کے ماضی میں پاکستان دشمن بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اب امریکی مندوب کے طور پر پاکستانی رائے اور حساسیات کا خیال رکھنا چاہئے کیوں کہ ایک عام شہری کے طور پر وہ جو بیان دیتے رہے ہیں انہیں نرم سے نرم الفاظ میں بھی پاکستان کے لئے غیر دوستانہ کہا جاسکتا ہے۔ شاہ محمود کا کہنا تھا کہ زلمے خلیل زادے کو اب زیادہ محتاط اور متوازن انداز میں بات کرنی چاہئے۔ سفارتی رکھ رکھاؤ کے حوالے کسی امریکی مندوب کے طرز عمل کے بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ کا واضح اور دوٹوک مؤقف ایک سخت رویہ ہے۔ تاہم اس طرح شاہ محمود نے پاکستان کی پوزیشن واضح ضرور کی ہے۔
البتہ شاہ محمود قریشی یا وزارت خارجہ اگر یہ تاثر دینے کی کوشش کریں کہ اس دورہ سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت تبدیل ہوئی ہے یا سرد مہری کی برف پگھلنے لگی ہے تو یہ بعید از قیاس ہو گا۔ کیوں کہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مائیک پومیو یا جان بولٹن کی ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ سامنے نہیں آیا۔ سفارتی لحاظ سے اسے کسی دورہ کی ناکامی بھی کہا جاسکتا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ دونوں میں سے کوئی ملک بھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اگر یہ صورت حال موجود ہے تو اسے تعطل کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ امریکہ افغانستان میں جلد از جلد قیام امن کی ایسی کوششوں کو کامیاب بنانا چاہتا ہے جو اس کے ایجنڈے اور ضرورتوں کے مطابق ہو۔ اس مقصد سے وہ پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لئے نہ صرف تند و تیز بیان جاری کرتا رہا ہے بلکہ گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان کی ہر قسم کی سیکورٹی امداد و تعاون کو معطل کردیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ جب مائیک پومیو کے چند گھنٹوں کے لئے پاکستان آنے سے پہلے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ میں سے دئیے جانے والے تین سو ملین ڈالر کی فراہمی سے انکار کردیا گیا تھا۔ شاہ محمود قریشی اپنی تمام تر سفارتی مہارت کے باوجود یہ امداد بحال کروانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو افغانستان میں اپنی پالیسی کی کامیابی کے حوالے سے اہم سمجھتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے واشنگٹن میں دئیے گئے بیانات میں اس رویہ کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ۔اس لئے امریکہ کو پاکستان کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ حالانکہ پاکستان کی سفارتی کامیابی تو یہ ہوتی کہ وہ امریکی قیادت کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوتے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو صرف افغانستان میں امن کے حوالے سے نہ دیکھا جائے بلکہ اسے جنوبی ایشیا کے ایک اہم اور ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کے طور پر قبول کیا جائے ۔ دشمنی کا رشتہ استوار کرنے کا نقصان صرف پاکستان کو ہی برداشت نہیں کرنا ہوگا بلکہ امریکہ کو بھی اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایک قابل اعتبار دوست سے محروم ہونا پڑے گا۔
پاکستان کی اس ناکامی کی اصل وجہ یہ ہے اسلام آباد صدر ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد امریکی حکومت کی تبدیل شدہ پالیسی کی روشنی میں متبادل خارجہ حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایسی خارجہ پالیسی تیار کرتے ہوئے پاکستان کے سیاسی، سیکورٹی اور معاشی مفادات کو پیش نظر رکھ کر ضروری رد و بدل کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ایسے زمینی حالات کو تبدیل کرنا ضروری ہوگا جن کی طرف انگلی اٹھا کر امریکہ پاکستان کو مطعون کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے بعد قلیل المدت فیصلوں کی بجائے ایسے اہداف مقرر کرنے کی ضرورت ہوگی جو ملک کے طویل المدت مفادات اور ضرورتوں کو پورا کرسکیں۔ اسی حوالے سے پاکستانی نمائیندوں کو افغانستان میں امن کے لئے خود سے وابستہ کی جانے والی امیدوں کو بڑھاوا دینے کی بجائے یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ افغان طالبان ایک ایسا طاقت ور گروہ بن چکاہے جو اب صرف پاکستان کی سفارتی اور سیاسی اعانت پر انحصار نہیں کرتا بلکہ خطے کے دیگر ملکوں اور دو بڑی طاقتوں روس اور چین کے ساتھ بھی مواصلت قائم کئے ہوئے ہے۔ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات میں افغان کارڈ کو استعمال کرنے کا رویہ ترک کر نے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہو گا اگر اسلام آباد واشنگٹن کو یہ باور کروا سکے گا کہ اس کے طالبان کے ساتھ مراسم محدود ہو چکے ہیں اور امریکہ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے شرائط عائد کرنے کی بجائے ان کی باتوں پر بھی غور کرنا چاہئے ۔ ابھی تک یہ صورت حال دیکھنے میں نہیں آئی۔
پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بھارت اور چین کے ساتھ ہمارے مراسم سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ اس پورے خطے کے علاوہ ایشیا میں چین کے خلاف محاذ آرائی کے لئے بھارت کو قریبی حلیف بنا چکا ہے اور اس کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اسی لئے سی پیک منصوبوں پر نکتہ چینی ہوتی ہے اور اس میں رکاوٹیں ڈالنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ چین کے ساتھ صدر ٹرمپ کی شروع کی ہوئی تجارتی جنگ کے نتیجہ میں یہ صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کے نتیجہ میں پاکستان کے اس اہم ہمسایہ کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس الجھی ہوئی تصویر میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ صرف اسی صورت میں ہی ممکن ہے کہ علاقے کی پراکسی جنگوں میں ملوث ہونے اور ناقابل قبول عناصر کے ساتھ دوستی اور تعلق کی پالیسیوں کو تبدیل کیا جائے۔ امریکہ کو بتایا جائے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر متوازن اور غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان میں امریکہ کےسابق سفیر رچرڈ اولسن نے واشنگٹن میں ہی ایک سیمینار سے خطاب میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں ایک دہائی سے افغانستان کے بارے میں پالیسی فوج بناتی رہی ہے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ نئی حکومت اس طریقہ کار کو کتنا تبدیل کرسکتی ہے۔ اسلام آباد میں تحریک انصاف کی حکومت کو اس رائے کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker