سید مجاہد علیکالملکھاری

ریاست مدینہ کے نامکمل اشاریے۔۔سید مجاہد علی

وزیر مملکت برائے داخلہ امور شہریار آفریدی نے بتایا ہے کہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کے مقصد میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اشرافیہ کے لئے بنے ہوئے کلبوں میں ملازمین کو ہمراہ لے جانے کی پابندی ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ شہریار آفریدی کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق یہ حکم مساوات قائم کرنے اور اور نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمہ کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ اب اسلام آباد کلب یا جیم خانہ جیسے کلبوں میں نوکروں اور آیا وغیرہ کو داخل ہونے سے منع نہیں کیا جاسکے گا۔ مدینہ ریاست کی طرف پیشرفت کا ایک اشارہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بھی دیا ہے۔ کونسل کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے کہ پاکستان میں ریاست مدینہ کا ماڈل اختیار کرنے کے لئے ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے گی تاکہ اس سلسلہ میں کام کا آغاز کیا جاسکے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اصل کام قانون سازی ہے جو پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔ انہوں نے ملک میں سودی نظام کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
یہ دونوں پیغامات اگرچہ دو مخلتلف شخصیات کی طرف سے مختلف تناظر میں سامنے آئے ہیں لیکن ان دونوں میں مدینہ ریاست کا قیام بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ شہریار آفریدی تو عمران خان کے دست راست اور وزیر مملکت برائے داخلہ امور ہیں۔ اس لئے انہیں حکومت کی ترجمانی کرنے اور تحریک انصاف کے ایجنڈے کے مطابق گفتگو کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ لیکن اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جسے ملک میں قوانین کو اسلامی شریعت کے مطابق بنوانے میں رہنمائی کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ اس کے ارکان اور چئیر مین کو اگرچہ حکومت ہی نامزد کرتی ہے لیکن اس ادارے اور اس کے سربراہ سے غیر جانبدارانہ اور متوازن رائے دینے کی توقع کی جاتی ہے۔
پاکستان کو اسلامی قوانین اور ان کے اطلاق کے حوالے سے گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ ملک میں نماز پڑھنے سے لے کر زندگی کے دیگر معمولات تک میں سینکڑوں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس لئے قومی سطح پر قائم ایک دینی ادارے سے اسلامی احکامات کے بارے میں ابہام ختم کرنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی امید کی جاتی رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی افسوس سے نوٹ کی گئی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک نشست و برخواست کی مجلس تو بن گئی ہے لیکن اس نے ابھی تک ملک میں فکری ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے کوئی قابل قدر کردار ادا نہیں کیا ہے۔ ماضی میں یہ ادارہ کم عمر بچوں کی شادی کو اسلامی قرار دینے طلاق کے احکامات جیسے معاملات میں رائے زنی سے زیادہ کوئی خاص کام کرنے میں کامیاب نہیں ہو¿ا۔ ملک میں فرقہ واریت، اقلیتوں کے حقوق، فتوے بازی کے مزاج کی بیخ کنی اور دین کے نام پر نفرت اور مذہب کی آڑ میں انتشارکے پرچار کو روکنے کے لئے بھی اسلامی نظریاتی کونسل کوئی خاص اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ملک میں ضیا دور کی ترامیم کے بعد توہین مذہب کے قوانین بے گناہوں کے قتل کے علاوہ ناجائز سزائیں دینے کا سبب بھی بنتے رہے ہیں۔ یہ بات بھی بار بار سامنے آتی رہی ہے کہ ذاتی اختلاف، جائیداد ہتھیانے یا باہمی تنازعات کا بدلہ لینے کے لئے علاقے کے ملاّ اور پولیس کے ساتھ مل کر مخالفین کے خلاف توہین مذہب کی شقات کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن ملک کی مذہبی جماعتوں اور جید علما کی طرح اسلامی نظریاتی کونسل نے ہمیشہ کان لپیٹے رکھے ہیں۔ گزشتہ روز آسیہ بی بی کیس میں نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ یہ اصول سامنے لائی ہے کہ اسلام میں کسی بے گناہ کو جھوٹی گواہی اور شہادتوں کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ لیکن اسلامی نظریاتی کونسل نے کبھی اس اصول پر بحث کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے رجوع کرنے اور توہین مذہب قوانین کو ذاتی عناد، مفاد یا تعصب کے لئے استعمال کرتے ہوئے جھوٹ بول کر لوگوں کو پھنسانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کی کبھی کوئی تجویز پیش نہیں کی۔
آسیہ بی بی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اس معاملہ میں تواتر سے جھوٹ بولا گیا، گواہوں نے بیانات تبدیل کئے حتی کہ مدعی قاری سلام نے اپنا بیان بار بار بدلا۔ تاہم سپریم کورٹ معاملہ کی حساسیت کی وجہ سے جھوٹے گواہوں اور مدعی کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا حکم دینے سے قاصر ہے۔ گویا اسلام کے تقدس کے نام پر نافذ کئے گئے قوانین کے حوالے سے صورت حال اس قدر نازک اور اشتعال انگیز ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت بھی اس معاملہ میں ضرورت سے زیادہ ملوث نہیں ہونا چاہتی۔ ورنہ ان گواہوں اور مدعی کے جھوٹ کی وجہ سے ایک بے گناہ عیسائی خاتون کو آٹھ برس قید رہنا پڑا۔ کئی برس تک پھانسی کا پھندا اس کی آنکھوں کے سامنے لہراتا رہا۔ اس کا پورا خاندان بے گھر ہو کر بے یقینی کا شکار رہا۔ دنیا بھر میں پاکستان میں اقلیتوں کی حفاظت اور مذہبی جنونیت کے حوالے سے مباحث اور پروپیگنڈا کا جواز فراہم کیا گیا۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے گورنر کو اس کے سرکاری محافظ نے ہی ’ناموس رسالت‘ کے نام پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ لیکن نہ ملک کی پارلیمنٹ ان قوانین پر غور کرنے پر تیار ہوئی، نہ دین کے ماہرین اور عالموں کو اس بارے میں آواز بلند کرنے اور ناانصافی ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کی توفیق ہوئی اور نہ اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ قانونی، آئینی، دینی اور اخلاقی ذمہ داری قبول کی کہ توہین مذہب کے قوانین کو انسانی اقدار کے مطابق بنوایا جائے اور ان کے تحت جھوٹے الزام لگانے والوں کے علاوہ توہین مذہب کے نام پر ملک میں اشتعال، فرقہ واریت اور انتشار عام کرنے والوں کو لگام دینے کے لئے کوئی ٹھوس اور جامع بیانیہ سامنے لایا جائے۔
توہین مذہب کے معاملہ کے علاوہ، دہشت گردی ہو یا دین کے نام پر قتل کرنے کی نعرے بازی، بات بے بات کفر کے فتوے جاری کرنے کا رویہ ہو یا حکومت، ریاست اور اس کے نظام عدل کو چیلنج کرنے کی تحریکیں، اسلامی نظریاتی کونسل اپنا آئینی اور دینی فریضہ ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود اس کونسل نے کبھی حکومت کا حاشیہ بردار بننے کی براہ راست کوشش نہیں کی۔ اس کے چئیرمین اور اراکین اپنی مراعات سے استفادہ کرتے رہے لیکن بہر حال حکومت کی سیاست کا حصہ نہیں بنے۔ تاہم اب ریاست مدینہ کے قیام کے جوش میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے براہ راست سیاسی معاملہ میں حصہ دار بننے کا اعلان کیا ہے اور ریاست مدینہ کے خدوخال واضح کرنے کے لئے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے۔ تاکہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے سیاسی نعرے کے مطابق ریاست مدینہ کے نعرے کو زندہ رکھ سکے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کا یہ رویہ افسوسناک ہے اور اسے مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کونسل ملکی قوانین کا اسلامی فقہ کی روشنی میں جائزہ لینے اور ان میں مناسب ترامیم تجویز کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔ اگر یہ حکمران جماعت کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنے گی تو اس کونسل کی رہی سہی افادیت بھی جاتی رہے گی اور اسلام کے نام پر قائم اس ادارے کی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔
عمران خان اور تحریک انصاف سیاسی ایجنڈے کے طور پر ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ خاص طور سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اس نعرے کو شدت سے اختیار کیا گیا ہے۔ اس کا واحدمقصد ’چور سیاست دانوں’ کو انجام تک پہنچانے کے نعرے کو تقویت دینا اور اپنے انتخابی وعدے کے مطابق عوام کی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکامی کی صورت میں ریاست مدینہ جیسے جذباتی نعرہ کے ذریعے سیاست گرم رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ البتہ اس نعرے کا ایک دوسرا مقصد ملک میں شخصی آمرانہ نظام نافذ کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر مدینہ ریاست کے نعرہ کو کرپشن کے خلاف بیان بازی اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمہ اور صدارتی نظام کے مباحث کے ساتھ ملاکر دیکھا جائے تو اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف ملک سے متفقہ آئینی پارلیمانی نظام لپیٹنے کے نقطہ نظر سے ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کر رہی ہے۔ ورنہ آسانی سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 14 صدیوں میں دنیا کے متعدد حصوں پر مسلمان حکمران رہے ہیں لیکن ان میں کسی کو نہ تو مدینہ ریاست بحال کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ ہی انہوں نے کبھی کسی کی طرح سےاس عزم کا اظہار کیا۔ جو مقصد کامیابیاں حاصل کرنے والے اور تاریخ ساز کارنامے سرانجام دینے والے حکمران نہ کر سکے، اب اس کا نعرہ بلند کر کے عوام کو ایک بے مقصد خواب دکھانے کی افسوسناک کوشش کی جا رہی ہے۔
تحریک انصاف اگر واقعی مدینہ ریاست کا اخلاق، احساس ذمہ داری، ہم آہنگی، اتفاق، اور اخوت پیدا کرنے میں دلچسپی رکھتی تو برسر اقتدار آنے کے بعد سب سے پہلے وہ سیاست کی بنیاد پر توہین کرنے، دشنام طرازی اور دھمکیاں دینے کا چلن تبدیل کرتی۔ پھر عمران خان اپنی صفوں سے ایسے سب عناصر کو نکال باہر کرتے جو ابن الوقت ہیں لیکن جدید اصلاح میں انہیں الیکٹ ایبلز کا نام دے کر گلے لگانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دیانتداری سے یہ جاننے کے لئے کام کا آغاز کیا جاتا کہ ریاست مدینہ کی سیاسی، سماجی اور قانونی بنیادیں اور اصول کیا تھے۔ ریاست مدینہ کا مبہم نعرہ سیاسی شعبدہ بازی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ناکامی کی طرف بڑھتی کوئی بھی حکومت اسی قسم کے ہتھکنڈے اختیار کرتی ہے۔
شہریار آفریدی کی طرف سے سرکاری کلبوں میں ذاتی ملازمین لے جانے کی نام نہاد پابندی ختم کرنے کا اعلان بھی اسی سیاسی شعبدہ بازی ہی کا حصہ ہے۔ ورنہ پانچ ستارہ ہوٹلوں اور مہنگے ریستورانوں میں بچوں کو غریب ملازمین کے سپرد کر کے اشرافیہ کے ارکان جس طرح خود خوش خوراکی کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ کسی بھی انسان دوست کے لئے شرمندگی اور ندامت کا سبب ہوتی ہے۔ اگر کلبوں میں ایسے مظاہر کو روکا گیا ہے تو اسے امتیازی سلوک کی بجائے ایک بہتر اقدام کہا جا سکتا ہے کہ بعض لوگ غریبوں کی بے کسی کا مذاق اڑانے کا سبب نہ بنیں۔
ملک میں امتیازی رویوں کو ختم کرنے کے لئے وزیر اعظم کے ترجمان کو نجی ملازمین کی ضرورت پر زور دینے کی بجائے ’مخصوص کلبوں’ اور انتظامات کا طریقہ ختم کرنے کے لئے اقدام کرنا چاہئے تھا۔ یہ مقصد ملک میں جبری مشقت، کم سن بچوں کے کام اور ملازمین کے ساتھ ناانصافی کا کلچر ختم کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے قانون بنانے اور انہیں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker