تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

آزادی اظہار ، میڈیا مالکان اور عامل صحافیوں کی حالت زار ۔۔ سید مجاہد علی

چوہدری نثار علی خان نے سوشل میڈیا پر ’’بے لگام اظہار خیال‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دراصل ملک کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو بالواسطہ ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی ہے۔ اسی لئے آزادی اظہار رائے کی حدود کے بارے میں انہوں نے ملک کے اخبارات کے مالکان کی تنظیم اے پی این ایس APNS ، اخباری ایڈیٹروں کی تنظیم سی پی این ای CPNE اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن PBA کے نمائندوں سے ملاقات کی اور انہیں اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی۔ اس ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے انہوں نے اظہار رائے کے حوالے سے ریڈ لائنز کا ذکر کیا اور یہ تاثر دیا کہ میڈیا کے نمائندے بھی وزیر داخلہ کے نقطہ نظر سے متفق ہیں۔ یہ بات چونکہ براہ راست ان تنظیموں کی طرف سے نہیں کی گئی اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ میڈیا کے یہ نمائندے کس حد تک وزیر داخلہ کی اس بات سے متفق ہیں کہ میڈیا یا سوشل میڈیا پر رائے ظاہر کرنے والوں کے خلاف ملک کے قوانین کو استعمال کیا جائے۔ اس لئے اسے وزیر داخلہ کا موقف اور اس ملاقات کے بارے میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کی تفہیم ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ تسلیم کرنا دشوار ہوگا کہ ملک کے میڈیا کے نمائندے اظہار رائے پر کسی بھی قسم کی قدغن اور خبر کی اشاعت یا رائے کے اظہار پر قانونی کارروائی کے اصول کو قبول کر سکتے ہیں۔ یوں بھی جن میڈیا تنظیموں سے وزیر داخلہ نے ملاقات کی ہے، وہ مالکان کی نمائندہ ہیں۔ اور مالکان اپنے اداروں کے کمرشل مفادات کے نگہبان ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا میڈیا کے ساتھ اس سے زیادہ کوئی تعلق نہیں ہے کہ وہ اس شعبہ میں سرمایہ کاری کے ذریعے سیاسی و سماجی اثر و رسوخ حاصل کرنے کے علاوہ اپنے سرمایہ پر منافع حاصل کرنے کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے حصول کےلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ گو کہ وزیر داخلہ کے ساتھ اجلاس میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے نمائندے بھی موجود تھے لیکن پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بیشتر میڈیا ہاؤسز کے مالکان خود ہی اپنی مطبوعات و نشریات کے ایڈیٹر بھی ہوتے ہیں۔ اس لئے تنظیم کو خواہ کوئی بھی نام دے دیا جائے، وہ بہرصورت میڈیا مالکان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ میڈیا کے مالکان کےلئے آزادی اظہار صرف اتنی اہمیت رکھتی ہے کہ اس کے ذریعے ان کے اداروں کو اپنے مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کا موقع ملتا ہے اور حکومت کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرنے کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ اگر وزیر داخلہ میڈیا مالکان کے ساتھ مل کر آزادی اظہار کو محدود کرنے کا منشور تیار کریں گے تو اسے برسر اقتدار اور سرمایہ دار طبقہ کی ملی بھگت سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ اس اصول سے انکار ممکن نہیں ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو ضابطہ اخلاق بنانے اور غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد رپورٹنگ یا تعصب اور نفرت پر مبنی تبصرے شائع یا نشر کرنےپر کنٹرول کے لئے اصول متعین کرنے چاہئیں۔ لیکن یہ اصول و ضوابط نہ تو وزیر داخلہ کی ہدایت اور رہنمائی میں بنائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی حکومتی ادارے ان پر عملدرآمد کروانے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے ملک میں الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی پیمرا کا کردار غیر واضح ہے اور اس کی طرف سے مختلف ٹیلی ویژن پروگراموں پر پابندی لگانے کا طریقہ کار ناقابل قبول ہے۔
پاکستانی میڈیا اس المیہ کا سامنا کر رہا ہے کہ اس کے عامل صحافیوں کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ نہ ہی میڈیا ہاؤسز میں ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ صحافی تنظیمیں پیشہ ورانہ طریقہ سے منظم ہو کر ان کے حقوق کی جدوجہد کر سکتی ہیں۔ لہٰذا یہ افسوسناک صورتحال مشاہدہ کی جا سکتی ہے کہ جن صحافیوں سے عام لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرنے اور ان کے خلاف ناانصافی کو سامنے لانے کی امید کی جاتی ہے، وہ خود اپنے حقوق کی بات کرنے پر نوکری سے نکالے جاتے ہیں۔ ملک کے کسی میڈیا ہاؤس میں نہ تو صحافیوں کو مناسب معاوضہ ادا کیا جاتا ہے اور نہ ہی بروقت تنخواہ کی ادائیگی کا اہتمام ہوتا ہے۔ بہت سے ادارے تو مہینہ گزرنے کے بعد اقساط میں تنخواہ ادا کرتے ہیں۔ اس حکمت عملی کی وجہ میڈیا ہاؤسز کے دگرگوں مالی حالات نہیں ہیں بلکہ یہ طریقہ صحافیوں کو معاشی مجبوری کے تحت اپنے ساتھ وابستہ رہنے پر مجبور کرنے کےلئے اختیار کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی اخباری کارکن تنخواہ کی بروقت ادائیگی نہ ہونے یا مناسب معاوضہ نہ ملنے پر نوکری چھوڑتا چاہتا ہے تو اسے ایک سے تین ماہ کی تنخواہ اور مختلف مدات میں ملنے والے الاؤنسز یا معاوضہ کی ادائیگی سے محروم ہونا پڑتا ہے۔
اس لئے اظہار رائے کی آزادی کی بات کرتے ہوئے میڈیا انڈسٹری سے وابستہ کارکنوں اور عامل صحافیوں کی مالی صورتحال کا ذکر کرنا اہم ہے۔ اسے تبدیل کئے بغیر ملک میں حقیقی آزادی صحافت کا تصور بھی محال ہے۔ ان مباحث میں جو گنے چنے لوگ بڑھ چڑھ کر ذاتی حیثیت یا ادارے کے نمائندہ کے طور پر صحافیوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں اور دلائل کے انبار لگاتے ہیں، ان میں سے بیشتر کو خود اپنے اداروں کے صحافیوں کے حالات کار سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ حکومت جس طرح میڈیا کو کنٹرول کرنے کےلئے مالکان کی تنظیموں کے ساتھ ساز باز کرتی ہے، اسی طرح میڈیا مالکان عام صحافیوں کو حقوق دینے کی بجائے ان میں سے ٹیلی ویژن اسکرین یا کسی دوسری صورت میں عام لوگوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھنے والے اور کمرشل مفادات کے فروغ کا سبب بننے والے مٹھی بھر ’’صحافیوں اور اینکرز‘‘ کو غیر معمولی معاوضہ اور مراعات دے کر اپنے ساتھ ملائے رکھنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔
ملک میں جب تک عامل صحافی کے حالات کار اور معاشی صورتحال بہتر نہیں ہوگی اور ان کی تنظیمیں مستحکم نہیں ہوں گی اس وقت تک آزادی اظہار اور خبر کی حرمت کے تحفظ کےلئے حقیقی ادارے مضبوط نہیں ہو سکیں گے۔ دنیا بھر میں ایسی ہی صحافتی تنظیمیں دراصل صحافتی ضابطہ اخلاق بنانے اور ان کی خلاف ورزی پر سرزنش کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں۔ لیکن کسی بھی جمہوری معاشرہ میں رائے کے اظہار پر پولیس اور عدالتوں کو استعمال کرنے کی نہ تو بات کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی دھمکیاں دے کر حکومت کے نمائندے لوگوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے سب ملکوں میں بھی لوگ میڈیا یا سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی باتیں کر گزرتے ہیں جو اجتماعی اخلاق اور مسلمہ اصولوں کے مطابق نہیں ہوتیں لیکن ان کا مقابلہ کرنے کےلئے کوئی وزیر داخلہ قانون کا ہنٹر ہاتھ میں لے کر میدان میں نہیں اترتا اور نہ ہی ایسی کسی رائے سے ملک کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس لئے پاکستان کے وزیر داخلہ کو بھی طے کر لینا چاہئے کہ وہ ملک میں جمہوری روایت اور طریقہ کار کا استحکام و فروغ چاہتے ہیں یا آمرانہ نظام اور شخصی حکومت کا تصور لاگو کرنے کے خواہشمند ہیں۔
جمہوری معاشروں میں ناپسندیدہ رائے کا گلا گھونٹنے کی بجائے اسے مسترد کرنے کےلئے دلائل اور حقائق و شواہد کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جن جمہوریتوں کا پاکستان میں حوالہ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ یہ کام کرنے میں اس لئے کامیاب ہیں کہ ان کا تعلیمی نظام عقل استعمال کرنے، کھوج لگانے ، معاملات کو سمجھنے اور اپنی صوابدید کے مطابق ان کا جائزہ لینے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ وہاں مقررہ نصابی کتابوں میں درج دہائیوں بلکہ صدیوں پرانے متن کو رٹا لگا کر امتحانی پرچہ میں بیان کرنے کو ’’قابلیت‘‘ قرار نہیں دیا جاتا۔ چوہدری نثار علی خان بھی اگر سوشل میڈیا پر بعض گمراہ عناصر کی رائے سے عاجز ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ ملک میں تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کےلئے کام کریں۔ یہی راستہ قومی شناخت ابھارنے اور جمہوری روایت کو مستحکم کرنے کا سبب بھی بنے گا۔ پھر جب منتخب حکومت کو کسی فوجی لیڈر کی طرف سے دھمکی یا خطرہ لاحق ہوگا تو آزاد فضا میں پروان چڑھنے والی نسل کسی سیاسی یا گروہی مفاد کے بغیر ہی جمہوری نمائندوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کےلئے میدان میں نکل آئے گی۔
اس کے برعکس اگر چوہدری نثار علی خان چند لوگوں کی بے راہ روی کی سزا دینے کےلئے جمہوری اور انسانی حقوق کو مسترد کرنے کی ساز باز کریں گے تو معاشرہ مزید گھٹن کا شکار ہوگا اور جمہوریت اس ماحول میں بے دست و پا ہو کر طاقتور اداروں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنی رہے گی۔ یہ تماشہ اہل پاکستان آج کل روزانہ کی بنیاد پر دیکھتے ہیں۔
(بشکریہ:کاروان۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker