سید مجاہد علیکالملکھاری

نعروں اور خوف پر استوار کشمیر پالیسی… مگر گھبرانا نہیں ہے۔۔ سید مجاہد علی

کشمیر کے موضوع پر وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات کے بعد ٹرمپ کے اس بیان کے ساتھ ملا کر پڑھنے کی ضرورت ہے کہ ’مودی نے انہیں بتا دیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان اپنے مسائل خود ہی حل کر سکتے ہیں‘۔ البتہ عمران خان کی تشفی کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ہماری ضرورت ہوئی تو ہم یہاں موجود ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو اگر حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی اور نریندر مودی کو فسطائی انتہا پسند ہندو لیڈر قرار دلوانے کی سفارتی کوششوں کی ناکامی نہ بھی سمجھا جائے تو یہ کم از کم اس امید کا خاتمہ تو ضرور ہے جو عمران خان کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر ٹرمپ کے اس بیان سے پیدا ہوئی تھی کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کروانے کے لئے تیار ہیں۔ بلکہ انہوں نے حیرت انگیز طور پر یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ نریندر مودی نے خود ان سے کشمیر کے معاملہ پر ثالثی کی درخواست کی تھی۔ بھارت نے اگرچہ فوری طور پر اس کی تردید کر دی تھی لیکن پاکستان کے مبصرین کو یہ دلچسپ نکتہ ہاتھ آگیا تھا کہ نریندر مودی نے خود چونکہ صدر ٹرمپ کی اس بات کو مسترد نہیں کیا ہے، اس لئے بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کا زیادہ اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرمپ بڑبولے سہی لیکن امریکہ جیسے بڑے ملک کے صدر ہیں۔ ضرور پس منظر میں کوئی نہ کوئی کھیل موجود ہے۔


اس کھیل کے حوالے سے دور کی کوڑیا ں لانے والے متعدد ماہرین اور مبصرین نے جب تصویر میں رنگ بھرنے شروع کئے تو حالات کی جو تصویر سامنے آئی وہ کچھ یوں تھی: ’ اب دنیا مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا تہیہ کرچکی ہے۔ کیوں کہ اس مسئلہ کی وجہ سے دو اہم ممالک کے درمیان کشیدگی امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ اسی لئے ٹرمپ نے ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ اس پیش کش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ کے لئے افغانستان کا امن معاہدہ اور وہاں سے امریکی فوجیں نکالنا 2020 کے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لئے ضروری ہے۔ پاکستان کو اس حوالے سے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ کشمیر کے سوال پر بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے حکومت پاکستان کی توجہ لائن آف کنٹرول کی طرف مبذول ہوجائے گی۔ اس کا نقصان افغان امن معاہدے کو ہو گا۔ اس معاہدے کے لئے پاکستان کا مکمل تعاون ضروری ہے۔ اس لئے صدر ٹرمپ، بھارت کے ساتھ معاملات درست کروانے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں‘۔
تصویر کشی کرنے اور قیاس کی بنیاد پر ایک خیالی دنیا تخلیق کرنے والوں نے بات یہیں تک نہیں رکھی بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ اس معاہدہ کے خد و خال کیا ہوں گے۔ اس کے مطابق لائن آف کنٹرول کو ورکنگ باؤنڈری میں تبدیل کر دیا جائے گا اور دونوں ملکوں کو اپنے اپنے زیرانتظام کشمیر کا حصہ ’مستقل‘ طور سے دے دیا جائے گا۔ اس طرح برصغیر میں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کی صورت حال کو ہمیشہ کے لئے ختم کر کے امن اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ اس عالمی مفاہمتی فارمولے میں چونکہ پاک فوج کے سربراہ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، اس لئے جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدہ کی مدت میں توسیع اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے پہلے قدم کی حیثیت رکھتی ہے۔ عمران خان چونکہ مقبول عوامی لیڈر ہیں جو بدعنوان سیاست دانوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر عوام کے دل پوری طرح جیت چکے ہیں، اس لئے اس دیرینہ اور تکلیف دہ مسئلہ کے حل کا سہرا انہی کے سر باندھا جائے گا۔ یوں عمران خان ’قائد اعظم ثانی‘ کی حیثیت و رتبہ پائیں گے۔ بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور عمران خان اس مسئلہ کو حل کرکے برصغیر کے عوام کو امن و خوشحالی کا تحفہ دیں گے۔
نریندر مودی سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کا بیان البتہ اس مسئلہ سے دست برداری کا اعلان ہے۔ نریندر مودی نے ثالثی کے معاملہ پر خود جو تردید کرنا مناسب نہیں سمجھی تھی، اب وہی بات ٹرمپ کے منہ سے کہلوا کر سفارتی اور سیاسی کامیابی حاصل کی ہے۔ اسے پاکستان اور اس کی حکومت کی ناکامی نہ بھی سمجھا جائے لیکن ٹرمپ نے یہ واضح کردیا ہے کہ امریکہ کے نزدیک کشمیری عوام کے حقوق کا سوال کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ مودی نے انہیں بتا دیا ہے کہ وہاں حالات بھارتی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ انسانی حقوق کا تحفظ پہلے بھی صدر ٹرمپ کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔ ’سب سے پہلے امریکہ‘ کے نعرے کے تحت ان کے لئے اہم ترین بات یہ ہے کہ کسی علاقے میں امریکی مفادات کا تحفظ کیسے ہو سکتا ہے۔ پیرس میں مودی سے ملاقات کے بعد انہوں نے واضح کیا ہے کہ صرف مسلمان عرب ممالک ہی نہیں سپر پاور امریکہ بھی اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے لئے بھارت کو پاکستان سے اہم سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے بھارتی حکومت ناراض ہو۔
گو کہ یہ بات پہلے سے واضح ہے کہ کسی بھی دوسری قوم کی طرح کشمیریوں کو بھی اپنی جنگ خود ہی لڑنا ہے لیکن پیرس سے آنے والی اطلاعات کی روشنی میں یہ سچائی مزید واضح ہوگئی ہے۔ یہ بات بھی نوشتہ دیوار ہے کہ یہ جدوجہد طویل اور جان گسل ہوگی۔ اس میں لہو بھی بہے گا اور انسانی حقوق بھی روندے جائیں گے۔ چند لاشوں کی تصویریں سامنے آنے پر دنیا سے دکھ اور افسوس کے بیانات، بھارتی افواج کے انسانیت سوز مظالم پر کسی این جی او کی کوئی رپورٹ یا کسی امریکی یا دوسرے مغربی ملک کے اخبار میں چھپا ہؤا کوئی تبصرہ ہی کشمیری عوام کی تالیف قلب کا کل اسباب ہو گا۔ یہی حال پاکستان کی سفارتی اور سیاسی حمایت کا بھی ہے۔ اب وزیر اعظم کی ہدایت پر ہر جمعہ کے روز بارہ بجے دوپہر سے نصف گھنٹہ کے لئے ملک میں کام روک دیا جائے گا اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا جائے گا۔ کشمیریوں کو جان لینا چاہئے کہ پاکستان اس سے زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتا۔


اس ماہ کے شروع میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے ایک قیامت بھارتی حکومت نے کشمیر کو بند اور کشمیری قیادت کو قید کرکے ڈھائی ہوئی ہے۔ تو دوسری طرف عمران خان کی سرکردگی میں پاکستان نے کشمیر میں پیدا ہونے والی صورت حال کو ایک نئی پاک بھارت جنگ کا شاخسانہ قرار دے کر خوف کی فضا پیدا کی ہے۔ اس سے دنیا کو تو کوئی فرق نہیں پڑا البتہ پاکستان کے باشندے ضرور بدحواس ہیں کہ کیا واقعی ایک نئی جنگ مسلط ہونے والی ہے۔ ہیجان کے اس ماحول میں سب سے پہلے سرمایہ اور سرمایہ دار اڑنچھو ہوتا ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی سرمایہ کی شدید قلت کا شکار ہے۔ اسی لئے معاشی تعطل کی کیفیت ہے۔ اب وزیر اعظم کی طرف ایٹمی جنگ کے اندیشے کا مکرر ذکر عالمی تو کجا مقامی سرمایہ داروں کے ہوش اڑانے کے لئے بھی کافی ہوگا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کے سوال پر قوم کو اعتماد میں لینے کے لئے آج شام خطاب شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس تقریر میں حکومت کی کشمیر پالیسی کے خد و خال واضح کریں گے۔ اس طویل بیان میں البتہ ان ’کارناموں‘ کا تو تفصیل سے ذکر تھا جو عمران خان اور ان کی حکومت نے کشمیر کا معاملہ عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے انجام دیے ہیں لیکن اس سے پالیسی نام کی کوئی شے برآمد نہیں ہوسکی۔ شاید عمران خان خود ستائی کو ہی حکومت کی پالیسی سمجھتے ہیں۔ لہذاکشمیر پالیسی پر ان کی طویل تقریر سے یہ چند نکات اخذ کئے جاسکتے ہیں:
1۔ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا اور اس حوالے سے آخری حد تک جائیں گے۔ (اس آخری حد کی توضیح تاحال دستیاب نہیں ہے)
2۔ ہر جمعہ کو بارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے کے درمیان تمام پاکستانی کام روک کر اور سڑکوں پر نکل کر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا کریں گے تاکہ دنیا جان جائے ہم کشمیر کے ساتھ ہیں۔
3۔ وزیر اعظم بذات خود کشمیر کے سفیر بنیں گے اور ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز اٹھائیں گے۔ اگلے ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان خود کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔
4۔ دنیا جان لے کہ بھارت میں ایک فسطائی ہندو انتہا پسند حکومت قائم ہے جو ہندوؤں کے سوا کسی کو جینے کا حق نہیں دینا چاہتی۔ اس لئے اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے کسی واقعہ کو بہانہ بنا کر پاکستان کے خلاف جارحیت کرے۔ اگرچہ افواج پاکستان اس قسم کی کسی مہم جوئی کا جواب دینے کے لئے مستعد ہیں لیکن دنیا کو خبر ہو کہ نریندر مودی کی حکومت جس نظریے پر چل رہی ہے یہ مسئلہ جنگ کی طرف چلا گیا تو یاد رکھیں کہ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ ایٹمی جنگ میں کوئی بھی نہیں جیتے گا۔ صرف خطے میں تباہی نہیں ہوگی بلکہ دنیا پر بھی اثر پڑے گا۔ عالمی برادری، سپر پاورز اور بڑے ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اب دنیا ہمارے ساتھ آئے یا نہ آئے، پاکستان تو ہر حد تک جائے گا ہر سطح پر آخری سانس تک کشمیریوں کا ساتھ دیں گے۔
5۔ لوگ مایوس ہوجاتے ہیں کہ مسلمان ممالک کچھ نہیں کر رہے۔ اگر کئی مسلمان حکومتیں مجبوری یا تجارت کی وجہ سے آج ساتھ نہیں دے رہیں تو بعد میں ہمارا ساتھ دیں گی۔ اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
6۔ اقوام متحدہ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ انہوں نے کشمیر کے لوگوں سے ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا۔ کہ کشمیری بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ لیکن انہیں وہ حق نہیں دیا گیا۔
ان چھے نکات میں موجودہ حکومت کی کشمیر پالیسی کا کوئی نیا چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ کشمیر کو پاکستان میں شامل کیا جائے، کا نعرہ کل بھی ہماری کشمیر پالیسی کی بنیاد تھی، سو آج بھی ہے۔ ہم 70 برسوں میں یہ جاننے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے کہ اگر معاملہ کشمیری عوام کے انسانی حقوق اور حق خود اختیاری کا ہی ہے تو کشمیر کا دعویدار بن کر پاکستان خود ہی اس نعرے کا پول کھول دیتا ہے۔ جب پاکستان ہی مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی بجائے پاکستان کے جغرافیائی مفاد کے ساتھ جوڑتا ہے تو دنیا اس کی باتوں پر کیوں یقین کرے گی۔
وزیر اعظم کی تقریر کا دو لفظی پیغام یہ ہے کہ پاکستان کے پاس کشمیر کے مسئلہ کا حل نعرے ہیں اور دنیا ہماری قومی سلامتی کے لئے ان دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان آجائے ورنہ ایٹمی جنگ ہوجائے گی۔ نہ جانے عمران خان اور ان کے سرپرست نعرے اور خوف کی بنیاد پر استوار اس کشمیر پالیسی سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker