تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

نواز شریف کیوں استعفیٰ دیں ؟ ۔۔ سید مجاہد علی

فضا شبہات اور ایسے سوالات سے بوجھل ہے جن کے حتمی جواب کسی کے پاس نہیں ہیں۔ نواز شریف اور ان کا خاندان اپنی دولت اور وسائل کے بارے میں ایسا ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کی مقرر کردہ تحقیقاتی کمیٹی متفقہ طور پر یہ سفارش کرتی کہ اس خاندان کے ہاتھ صاف ہیں۔ دو روز قبل جے آئی ٹی نے جو رپورٹ پیش کی ہے، اس میں واضح طور سے بتایا گیا ہے کہ نواز شریف اور ان کے بچے جیسی زندگی گزارتے ہیں اور ان کے پاس جو اثاثے ہیں، وہ ان کی معلوم آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس لئے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ سارا خاندان کچھ چھپانے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چار ماہ قبل سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ میں 3 ججوں نے 13 سوالوں کے جواب تلاش کرنے کےلئے اپنا حتمی فیصلہ موخر کر دیا تھا اور اب ان ججوں کے حکم اور نگرانی میں بننے والی جے آئی ٹی نے بھی اپنی رپورٹ سوالات اور الزامات پر ہی ختم کی ہے۔ یہ تو قرار دیا گیا ہے کہ نواز شریف اور ان کے بیٹوں نے جھوٹ بولا ہے لیکن یہ طے نہیں ہو سکا ہے کہ یہ جھوٹ کہاں کہاں بولا گیا اور اس سے کیا کیا فائدے حاصل کئے گئے۔ اگر ان ادوار میں شریف خاندان کی دولت میں اچانک اضافہ ہوا ہے جب نواز شریف کسی نہ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز تھے تو اس حادثاتی اتفاق کے سوا، وہ ثبوت اور شواہد کہاں ہیں جن کی بنیاد پر کوئی عدالت نواز شریف کو مجرم اور سرکاری عہدہ سنبھالنے کا نااہل قرار دے۔ جے آئی ٹی نے بالواسطہ ہی سہی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ کام نہ آسان ہے اور نہ کیا جا سکا ہے۔ اس لئے احتساب بیورو نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف ریفرنس دائر کرے۔
اگرچہ یہ کہا اور تسلیم کیا جا رہا ہے کہ حتمی فیصلہ 17 جولائی کو سپریم کورٹ کا سہ رکنی بنچ ہی کرے گا کہ کیا اس رپورٹ کی بنیاد پر نواز شریف کو جھوٹا اور فریبی قرار دے کر ان پر آئین کی شق 62 اور 63 نافذ کر دی جائے اور یہ تینوں جج بھی پاناما کیس کی سماعت کرنے والے اصل 5 رکنی بینچ میں شامل دو سینئر ججوں کی طرح وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ کریں۔ اس فیصلہ تک پہنچنے کے عدالتی اور قانونی طریقہ کار سے قطع نظر اگر سپریم کورٹ حتمی طور پر یہ طے کر لیتی ہے کہ نواز شریف پر ان شقات کا اطلاق ہوتا ہے تو اس سے دو قباحتیں پیدا ہوں گی۔ ایک یہ کہ ملک کی اعلیٰ ترین ہی سہی لیکن ایک عدالت اور اس کے ججوں کو یہ حق حاصل ہو جائے گا کہ وہ کسی بھی منتخب رکن قومی اسمبلی کو محض یہ کہہ کر عوام کی نمائندگی سے محروم کر دیں کہ وہ صادق اور امین نہیں رہا۔ ملک میں قانون کو غلط طور سے سیاسی اور سماجی مقاصد کےلئے استعمال کرنے کی اتنی مثالیں موجود ہیں کہ ایک اعلیٰ ترین عدالت کی طرف سے اعلیٰ ترین عہدہ پر فائز شخص کو جھوٹا قرار دینے سے یہ افسوسناک روایت قائم ہو جائے گی کہ عدالتوں کو منتخب حکومتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ مثال بھی نظریہ ضرورت کی روایت کی طرح ایک سیاہ باب کا پیش لفظ ثابت ہو سکتی ہے جیسے موجودہ خود مختار سپریم کورٹ دفن کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ لیکن اس نظریہ کو زندہ رکھنے اور بار بار عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے کے مقصد کو جائز قرار دینے والے ججوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
اس حوالے سے دوسری قباحت یہ ہے کہ کسی بھی عدالت کی طرح سپریم کورٹ بھی صرف قیاس ، اندازوں ، اکا دکا ماہرانہ رائے اور شواہد کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار دینے کا فیصلہ کیوں کر کر سکتی ہے۔ ایک متنازعہ جے آئی ٹی کی رپورٹ، دہائیوں پر پھیلے کاروباری لین دین، تین نسلوں کے معاملات کے بارے میں سامنے آنے والے شبہات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے سے شبہ کا فائدہ ملزم کو دینے کا حتمی قانونی اصول متاثر ہوگا۔ اگرچہ ججوں کےلئے یہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا کہ ایک ایسا شخص جس کے قول و فعل میں تضاد کے شواہد پائے جاتے ہیں، جس کے بارے میں جے آئی ٹی شدید شبہات کا اظہار کر چکی ہے اور جس کو 2 سینئر جج پہلے ہی صادق و امین نہ ہونے کی بنیاد پر نااہل قرار دینے کی سفارش کر چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسے صرف شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے معاف کر دیا جائے اور معاملات پہلے ہی کی طرح چلتے رہیں۔ اس کے برعکس اگر معلوم حقائق کو ملک میں سیاستدانوں کے بارے میں پائی جانے والی عمومی رائے کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو سپریم کورٹ کے جج نہایت آسانی سے 5 رکنی بینچ کے دیگر دو ججوں کی طرح وہی فیصلہ دے کر نہ صرف یہ کہ اپنے ضمیر کو مطمئن کر سکتے ہیں بلکہ ملک میں ہیرو کی حیثیت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ کہ سارے دباؤ اور مشکلات کے باوجود ججوں نے اعلیٰ ترین عہدہ پر فائز شخص کے خلاف دبنگ فیصلہ دے کر تاریخ رقم کر دی ہے۔
تاہم ایسا کرتے ہوئے ججوں کو یہ ضرور سوچنا پڑے گا کہ عدالتی فیصلے نہ تو ضمیر کی آواز ہوتے ہیں اور نہ عوام کی خواہشات پوری کرنے کا ذریعہ۔ انہیں سختی سے قانون کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ ماضی میں قانون کو موم کی ناک بنانے کے خطرناک نتائج یہ قوم اب تک بھگت رہی ہے۔ سپریم کورٹ اب تک یہ جواب تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے کہ ایک آمر کو خوش کرنے کےلئے ماضی میں ان کے پیشرو کیوں کر ایک منتخب وزیراعظم کے خلاف فوجی بغاوت کو آئین کی خلاف ورزی قرار دینے کی بجائے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کا سبب بنے تھے۔ اسی طرح ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو یہ جواب بھی دینا ہے کہ سوئس عدالت کو خط نہ لکھنے کے جرم میں توہین عدالت کا قانون استعمال کرتے ہوئے کیوں ایک منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو معزول کیا گیا۔ کیا اس فیصلہ سے اس شخص کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکا جس پر قومی دولت کے 60 ملین ڈالر چرا کر سوئزر لینڈ کے بینکوں میں جمع کروانے کا الزام عائد تھا۔ اور کیا یہ رقم قوم کے خزانے میں واپس لائی جا سکی۔ اگر اس مقدمہ کو ذاتی انا کا مسئلہ بنانے والے ججوں نے کوئی مقصد حاصل کئے بغیر اپنے معلوم اختیارات سے تجاوز کرکے توہین عدالت کے قانون کو عوامی مینڈیٹ پر مسلط کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کی کیا وجہ تھی۔ یہ دونوں عدالتی اقدامات موجودہ ججوں کی رہنمائی کےلئے اہم ہونے چاہئیں۔
اس کے باوجود سپریم کورٹ اگر ایک تیسرے وزیراعظم کی قربانی چاہتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے عدالت کی خود مختاری کی تصدیق ہوگی اور ملک میں بدعنوانی کا خاتمہ ہو جائے گا اور پورا نظام یہ سوچ کر ہی درست ہو جائے گا کہ ملک میں ایسی عدالت موجود ہے جو غلطی پر وزیراعظم کو بھی سزا دینے کا حوصلہ رکھتی ہے ۔۔۔۔۔ تو اسے زیادہ سے زیادہ خوش فہمی یا خام خیالی پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف وزیر اعظم رہیں یا نہ رہیں، ملک کا نظام اور قوم کا مزاج نہ تو ایک فیصلہ سے تبدیل ہو سکتا ہے اور نہ متنازعہ فیصلوں کے ذریعے بدعنوانی کی روک تھام کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود یہ طے کرنا بہرحال ججوں کا کام ہے کہ جس معاملہ کو غیر ضروری اور مبہم قرار دیئے جانے سے ممکنہ طور پر بدعنوان وزیراعظم کی جوابدہی کا سوال بنا دیا گیا ہے، اس سے کس طرح نمٹنے کی ضرورت ہے۔ گو کہ ماضی کے تناظر میں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ عدالتوں نے سیاسی معاملات میں جب بھی مداخلت کی کوشش کی ہے، انہوں نے خود کو اور قانونی روایت کو ہی نقصان پہنچایا ہے۔ پاناما کیس کا کوئی فیصلہ اس تاریخی سبق کو غلط ثابت کرنے کا سبب نہیں بنے گا۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے حوالے سے قانونی و عدالتی پہلو سے قطع نظر اس رپورٹ کے کچھ سیاسی تقاضے اور اثرات بھی ہیں جو عدالتی فیصلہ جتنے ہی اہم اور دور رس ثابت ہوں گے۔ نواز شریف کئی ماہ کی الزام تراشی اور قانونی جنگ کے باوجود صرف اس لئے بدستور وزیراعظم ہیں کیوں کہ انہیں لوگوں نے ووٹ دے کر منتخب کیا تھا۔ اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ 2013 میں ملنے والا مینڈیٹ انہیں 5 سال تک حکومت کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ یہ بات قانونی و آئینی طور پر درست ہونے کے باوجود اگر نواز شریف بدستور وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے پر اصرار کریں گے تو وہ یہ مسلمہ سیاسی و جمہوری اصولوں سے متصادم رویہ ہوگا۔ سیاسی اپوزیشن کی گولہ باری اور الزام تراشی سے قطع نظر انہیں دو بنیادوں پر 17 جولائی کو سپریم کورٹ کی اگلی سماعت سے قبل اپنے عہدے سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرنا چاہئے:
1۔ پاناما کیس بے حد پیچیدہ، مشکل اور گنجلک معاملہ بن چکا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد اس میں مزید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ یہ معاملہ طویل عرصہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ یہ کہنا غیر ضروری ہوگا کہ نواز شریف کو اس مقدمہ پر وقت، صلاحیت اور توجہ مبذول کرنا پڑے گی۔ سیاسی طور پر مخالفت کا سامنا کرنا بھی اس حوالے سے کافی دقت طلب اور محنت مانگنے والا کام ہوگا۔ اس صورتحال میں وہ بطور وزیراعظم پاکستانی عوام کے مفادات کا پوری طرح خیال رکھنے اور ساری صلاحیت اور توجہ پاکستان کی بہتری کےلئے صرف کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اس لئے ان کےلئے سب سے اچھا طریقہ یہی ہوگا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ وزارت عظمیٰ اور پارٹی کی قیادت کسی قابل اعتماد ساتھی کے حوالے کریں اور پوری قوت سے اپنے خلاف لگنے والے الزامات کا سامنا کریں۔
2۔ نواز شریف نے ہمیشہ ملک و قوم اور جمہوریت کو مقدم رکھنے کی بات کی ہے۔ اب اسے ثابت کرنے کا موقع اور وقت آ گیا ہے۔ اگرچہ الزامات کے جلو میں وزارت عظمیٰ سے علیحدہ ہونا آسان فیصلہ نہیں ہوگا لیکن وہ یہ فیصلہ کرکے حقیقی معنوں میں یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ انہیں پاکستان میں جمہوریت اور عوام کی بہبود سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں ہے۔ اگرچہ ایسا کرنے پر اپوزیشن ضرور اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے اور اسے اپنے دباؤ کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کرے گی لیکن اس شور و غوغا کے باوجود اس فیصلہ سے نواز شریف کی اصول پسندی اور سیاسی حوصلہ مندی کی داد دی جائے گی۔ پاکستان کی تاریخ میں وہ ایسے رہنما کے طور یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے جمہوری روایت کو زندہ رکھنے کےلئے اکثریت کے باوجود الزام تراشی کی صورت میں علیحدہ ہونے کا جراتمندانہ فیصلہ کیا۔ ان کا یہ فیصلہ ملک میں جمہوریت کے ارتقا اور سیاسی عمل کے استحکام کےلئے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں ہر سیاسی لیڈر کو بہرحال نواز شریف کی آج قائم کی ہوئی مثال کا احترام کرنا پڑے گا۔ اس کا فائدہ نواز شریف کے مخالفین کو نہیں بلکہ پاکستان کے ان عوام کو ہوگا جن کی خدمت کے جذبہ سے انہوں نے اپنی زندگی کے 30 قیمتی سال صرف کئے ہیں اور 8 سال کی جلا وطنی بھگتی ہے۔
وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ اپوزیشن کے علاوہ متعدد مبصرین کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا اور سمجھا جا رہا ہے کہ نواز شریف آخر تک لڑنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ لیکن اگر وہ یہ سمجھ سکیں کہ موجودہ عہدہ سے استعفیٰ دراصل عوام کے مفاد اور جمہوریت کی جنگ میں ایک نئی حکمت عملی یا ہتھکنڈے کی حیثیت رکھتا ہے تو شاید ان کےلئے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے۔ یہ فیصلہ کرکے وہ اپنے لئے ایسا سیاسی مقام حاصل کر سکتے ہیں جسے حاصل کرنے کی تمنا کوئی بھی عوامی لیڈر کر سکتا ہے۔ نواز شریف کو پاناما کیس کے دوران بدستور اپنے عہدے پر فائز رہنے سے جو نقصان ہوا ہے، وہ اب درست فیصلہ کرکے اس کا ازالہ کر سکتے ہیں اور بلند آہنگ اپوزیشن کے غبارے سے ہوا بھی نکال سکتے ہیں۔ کیا نواز شریف یہ حوصلہ کر سکتے ہیں۔ اس کا جواب نواز شریف کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ اب یہ حوصلہ نہ کر سکے تو انجام تو شاید عہدہ سے محرومی ہی ہو لیکن سیاسی طور سے جست بھرنے کا جو موقع انہیں اس وقت حاصل ہے، وہ اس سے محروم ہو چکے ہوں گے۔
(بشکریہ:کارون۔۔ ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker