تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

دل پذیر تقریر اور کچھ غلط بیانیاں : اب کیا ہو گا ؟ ۔۔ سید مجاہد علی

عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دلوں کو چھودینے والی ، حامیوں کوخوشی سے دیوانہ اور مخالفین کو حیرت سے گنگ کردینے والی تقریر آخر کر ہی ڈالی۔ پاکستانی میڈیا جس 27 ستمبر کی دھوم مچا رہا تھا ، وہ آیا بھی اور گزر بھی گیا۔ عمران خان خود جس تقریر کے بارے میں ایک روز پہلے یہ فرما چکے تھے کہ پوری دنیا میری تقریر کا انتظار کررہی ہے، وہ اب تاریخ کا واقعہ اور جنرل اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بن چکی۔



پاکستانی قوم کا جوش و ولولہ کچھ کم ہو اور اس تقریر سے وفور پر آیا ہؤا اسلامی جذبہ معمول پر آئے تو سوچا جائے کہ اس وقوعہ کے بعد اب کیا ہوگا۔ اس تقریر میں جن معاملات کو اور خاص طور سے کشمیر کے مسئلہ کو جس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے ، کیا اس کے بعد دنیا کے سب رہنما عمران خان سے ملاقات کا وقت مانگنے لگیں گے کہ بتائیے کہ ہم یہ مسائل حل کرنے میں کس طرح تعاون کرسکتے ہیں؟ گو کہ اس تقریر میں کوئی نئی بات نہیں کی گئی ۔ عمران خان اور ان کے رفقا کے منہ سے یہ باتیں گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران درجنوں بار سنی اور بیان کی جاچکی ہیں۔ پھر بھی اگر گزشتہ شب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کو نقطہ آغاز مان لیا جائے تو یہ پوچھنا پڑے گا کہ اس میں مسائل کے حل کا کیا طریقہ تجویز کیا گیا ہے؟ اس حوالے سے عمران خان کی گفتگو کا طائرانہ جائزہ لینے سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ تقریر بھارت کی سفاکی اور دنیا کی لاتعلقی کی کہانی تو بیان کرتی ہے لیکن مسائل کا کوئی حل تجویز نہیں کرتی۔



عمران خان نے اس تقریر میں چار موضوعات پر گفتگو کی۔ ان میں ماحولیات، منی لانڈرنگ، اسلاموفوبیا اور کشمیر کی صورت حال شامل ہیں۔ ان میں کسی بھی معاملہ پر پاکستان کوئی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ بلکہ وزیر اعظم دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ آگے بڑھے ، بھارت کے ساتھ جڑے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے انسانیت کے نام پر کشمیری مسلمانوں کی مدد کرے۔ کشمیر کے سوال پر اس جذباتی اپیل کے علاوہ جن معاملات پر گفتگو کی گئی ہے وہ ناقص معلومات اور واقعاتی غلط بیانی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مثال کے طور اگر یہ درست ہے کہ عالمی ماحولیاتی آلودگی میں پاکستان کا حصہ کم ہے لیکن اس کی وجہ پاکستانیوں کا شعور یا حکومت پاکستان کے ماحول دوست اقدامات نہیں ہیں بلکہ صنعتی پیداوار میں اس کا کم تر حصہ ہے۔ بصورت دیگر اگر صرف شہروں میں آلودگی اور پلاسٹک کے تھیلوں سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ ہی کر لیا جائے تو پاکستان کو چوٹی کے ماحول دشمن ملکوں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔



اسی طرح عمران خان کا خیال ہے کہ پاکستان کو اس وقت بیرونی قرضے ادا کرنے کی جس صورت حال کا سامنا ہے، وہ گزشتہ دس برس کے دوران لئے گئے قرضوں اور بدعنوان لیڈروں کی طرف سے ان قرضوں کو مغربی بنکنگ نظام کے ذریعے اپنے نجی اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ یعنی انہوں نے سابقہ حکمرانوں کی بدعنوانی کا وہی راگ الاپا ہے جو گزشتہ چند برس سے ان کا وطیرہ رہا ہے لیکن ایک سال سے اقتدار میں ہونے کے باوجود وہ اپنے کسی بھی دعوے کو ثابت نہیں کرسکے۔ یہ دلیل انتہائی بودی اور کمزور ہے کہ مغربی ممالک کے قوانین کی وجہ سے ان املاک اور دولت کو واپس نہیں لایا جاسکتا جو بدعنوان لیڈر ملک سے باہر بھیج چکے ہیں اور جن کی نشاندہی بھی کی جاچکی ہے۔ یہ انتہائی غیر واضح بیان دراصل اپنی نااہلی اور سیاسی غلط بیانی کو چھپانے کے لئے ایک نئے جھوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ بارہ ماہ کے دوران تحریک انصاف کی حکومت نے جو قرضے لئے ہیں اور اس کے باوجود جس طرح قومی پیدا وار کی شرح میں کمی واقعہ ہوئی ہے، اس کے اعداد و شمار ہی عمران خان کے اس دعوے کو غلط ثابت کرنے کے لئے کافی ہوں گے۔



بدعنوانی اور ترقی پذیر ملکوں کی دولت کو ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کرنا ایک سنگین معاملہ ہے جس کا تعلق صرف پاکستان سے ہی نہیں بلکہ دنیاکے بیشتر ترقی پذیر ممالک کو اس مشکل کا سامنا ہے۔ اگرچہ یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے مغربی ممالک کو بھی اپنے زیر انتظام بنکنگ نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس مسئلہ کی اصل جڑ ان ممالک کے قوانین اور طریقہ سیاست میں مضمر ہے جو اپنے ملکوں کے نظام کو درست کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے۔ عمران خان خود ہی بتا دیتے کہ انہوں نے ایک سالہ دور حکومت کے دوران اس کجی کو درست کرنے کے لئے ملکی قوانین میں کیا تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں۔



اسی طرح اگر کوئی مسلمان لیڈر اسلامو فوبیا کی بحث میں مغربی ممالک کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس گفتگو کو اپنی اور اپنے لوگوں کی جذباتی تسکین کے لئے تو استعمال کرسکتا ہے لیکن مغربی ممالک میں اسلام دشمن رجحانات کی روک تھام کی بات کرنے سے پہلے اگر یہ لیڈر اپنے ملک میں اقلیتوں کی حفاظت کی صورت حال کی تصویر کشی نہیں کرتا تو اس کی باتوں کو بے وزن اور نعرے بازی سے زیادہ حیثیت نہیں دی جائے گی۔ اسلامو فوبیا کی صورت میں مغربی ممالک میں ضرور منفی رجحانات پرورش پارہے ہیں لیکن وہاں کی تمام مستند سیاسی پارٹیاں، اس منفی سماجی مزاج کے خلاف کام کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ وہاں آباد مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں کی حفاظت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ اور ناروے میں مساجد پر حملوں کے بعد وہاں کی حکومتوں ، سیاست دانوں، دانشوروں اور عوام کا رد عمل ، اس بات کا بین ثبوت ہے۔ کیا عمران خان اپنی حکومت کے کسی ایسے ردعمل کی مثال پیش کرسکتے ہیں؟



عمران خان جب مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا اور اسلامی ریڈیکل ازم کی بحث پر اظہار خیال کرتے ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا چاہئے تھا کہ جب پاکستان میں عقیدہ کے اختلاف کی بنیاد پر کسی شخص کو قتل کیا جاتا ہے یا اس پر زندگی حرام کردی جاتی ہے یا دیگر مذاہب کی عباد ت گاہوں پر حملے ہوتے ہیں تو اس کا ذکر کن اصطلاحات سے کیا جائے؟ عمران خان ملک میں توہین مذہب قوانین کے ز بردست حامی ہیں حالانکہ اب اس بات کے دستاویزی شواہد موجود ہیں کہ ان قوانین کو ذاتی فائدے، عناد یا دوسرے عقیدے سے نفرت کے اظہار کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔



حال ہی میں سپریم کورٹ نے ایک شخص کو توہین مذہب کے جھوٹے الزام سے بری کیا ہے۔ وہ 17 برس تک اس دن کا انتظار کرتا رہا۔ عمران خان کو بتانا چاہئے تھا کہ ان کی حکومت اس شخص کے ان گمشدہ 17 برس کے ازالے کے لئے کیا ذمہ داری قبول کرے گی۔ عمران خان دوسروں پر تیر اندازی کرتے وقت اگر پاکستان میں اقلیتوں کی صورت حال کے بارے میں کوئی خوش گوار معلومات فراہم کرتے یا یہی اعلان کردیتے کہ توہین مذہب کے الزام میں برس ہا برس سے پاکستانی جیلوں میں ’انصاف‘ کے منتظر درجنوں لوگوں کو رہا کیا جائے گا یا ان کے مقدمات کا ایک خاص مدت میں فیصلہ کروایا جائے گا تو بھی یہ تسلیم کیا جاسکتا تھا کہ عمران خان کی تقریر سیاسی گفتگو کی کرتب بازی کی بجائے ایک سچے انسان اور مسلمان کی آواز ہے۔



کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے بھارت کے 18 کروڑ اور دنیا کے سوا ارب مسلمانوں کو ذکر بھی کیاہے اور متنبہ کیا ہے کہ یہ سارے مسلمان کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو دیکھ رہے ہیں اور یہ صورت حال کسی بھی مسلمان کو دہشت گرد بننے پر مجبور کرسکتی ہے۔ اس صورت میں یہ اسلامی دہشت گردی نہیں ہوگی۔ اگر عمران خان کی اس دلیل کو تسلیم کرلیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کے سوا ا رب مسلمان کیا فلسطین، روہنگیا، آسام اور سنکیانگ کے مسلمانوں کی حالت زار کو بھی اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟ کیا عمران خان یہ دلیل دینا چاہ رہے ہیں کہ اگر دنیا کے مختلف ملکوں میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو اس سے دہشت گردی پیدا ہوگی ؟ اور پھر دنیا اسے اسلامی دہشت گردی کہہ آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ کیا یہ دلیل اپنی ترتیب میں ہی بودی اور اشتعال انگیز نہیں ہے؟ کیا دنیا کے تمام مذہبی یا غیر مذہبی گروہوں کو کسی زیادتی کی صورت میں خود کش بمبار بننے کا حق حاصل ہوجاتا ہے؟



پاکستانی وزیر اعظم کشمیر کو مسلمانوں کا مسئلہ بنانے کی کوشش میں یہ بھول جاتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندو بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ کشمیری اپنی آزادی کو اپنے عقیدہ سے منسلک نہیں کرتے بلکہ وہ ایک خاص جغرافیائی اکائی، ثقافت و تہذیب اور رہن سہن کی بنیاد پر قومی شناخت اور خود مختاری کی بات کرتے ہیں۔ کشمیریوں کو مسلمان شناخت دینے کا کارنامہ اسی جہادی تحریک کے دور میں سرانجام دیا گیا تھا جسے اب عمران خان سوویٹ فوج کے خلاف امریکی و مغربی ممالک کے مفادات کی جنگ قرار دیتے ہیں۔ اور جس میں پاکستانی فوج بھی آلہ کار تھی۔ نیویارک میں قیام کے دوران عمران خان نے سنکیانگ کے مسلمانوں کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا ہے۔ جنرل اسمبلی میں تقریر کے دوران البتہ انہوں نے کشمیر ی مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ’ کیا وہ کسی کمتر خدا کے بچے ہیں‘۔ سنکیانگ کے مسلمانوں کی حالت زار پر عمران کی خاموشی پر ان سے پوچھا جانا چاہئے کہ کیا چینی مسلمان کسی ’کمتر خدا ‘ کو مانتے ہیں؟



اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر کا کلائمکس البتہ ان کا یہ انتباہ ہے کہ کشمیر کے حالات درست نہ ہوئے اور دنیا نے بھارت کو کشمیر کا لاک ڈاؤن ختم کرنے اور وہاں استصواب کروانے پر مجبور نہ کیا تو پاکستان اور بھارت کی جنگ ہوسکتی ہے اور اس صورت میں پاکستان آخری حد تک جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی ایٹمی طاقت آخری حد تک جانے پر مجبور ہوجاتی ہے تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ عمران خان جس تسلسل سے ایٹمی جنگ کی دھمکی دیتے ہیں، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہو سکتا کہ یہ اب پاکستان کی قومی پالیسی کا حصہ ہے۔ لیکن دنیا اور بھارت کو اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے خوف زدہ کرنے کی کوشش میں، کیا عمران خان نے اس کے نتائج پر غور کیا ہے۔ بھارت یا دنیا کے انسانوں کو ہلاکت کی خبر دیتے ہوئے کیا وہ اہل پاکستان کو یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ وہ بطور قوم نیست و نابود ہونے کے لئے تیار ہوجائیں؟



عمران خان کی تقریر سے پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ عمران خان کی 49 منٹ طویل جذباتی تقریر کے مقابلے میں مودی نے 17 منٹ میں اپنی بات مکمل کی۔ دہشت گردی کو دنیا کے لئے خطرہ قرار دینے کے علاوہ انہوں نے زیادہ وقت بھارت میں ماحولیاتی تباہ کاری سے نمٹنے اور ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرنے پر صرف کیا۔ عمران خان کی تقریر جنگ کی نوید تھی تو مودی نے اپنی بات ’یدھ نہیں بدھ‘ (یعنی جنگ نہیں امن چاہئے) پر ختم کی۔



اقوام متحدہ کے اجلاس اور دنیا کے دارالحکومتوں میں بیٹھے ہوئے رہنماؤں نے برصغیر کے دونوں لیڈروں کی باتوں کا جائزہ لیا ہوگا اور اپنی رائے قائم کی ہوگی۔ جذبات کے معاملے میں سہج اور جنگ کے مقابلے میں امن کی بات، سیاسی شعور رکھنے والے کسی بھی شخص کو زیادہ اپیل کرتی ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker